Sunday, June 28, 2015

تصوف -19 (سوال و جواب)

تصوف -19
::::::::::::::
سوال: ہم نے صرف ولی اللہ ، قطب، قلندر، پیر اور صوفی کے نام سنے ہیں کہ فلاں قطب ھے، فلاں قلندر ھے ،اور قلندروں کی مجموعی تعداد اڑھائی ھے ۔حضرت لعل شھبازؒ قلندر، حضرت بو علیؒ قلندر اور حضرت رابعہ بصریؒ۔ لیکن ہماری معلومات انتہائی ناقص ہیں۔ آپ کی تصوف پر گہری نظر ھے اور آپ کے حلقہ احباب میں بھی ایسے دوست موجود ہیں جو ان پر بہتر طریقے سے روشنی ڈال سکتے ہیں ۔بہت شکریہ۔ منور سہیل
جواب:پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ ولایت کے مناصب کون کون سے ہیں، اور کیسے حاصل ہوتے ہیں۔۔
جب تمام سات لطائف پر ذکرِ قلبی مضبوط ہوجاتا ہے،، یعنی لطائف منور ہوجاتے ہیں،، تو روح میں ایک قوت پیدا ہوتی ہے جو اسے عالمِ اَمر اور قربِ الہٰی کی جانب سفر میں سپورٹ کرتی ہے۔۔کثرتِ ذکر اور شیخ کی توجہ کے باعث روح میں جیسے جیسے لطافت بڑھتی جاتی ہے، اسکا سفر تیز تر ہوتا جاتا ہے۔۔روح کے اس سفر میں مختلف اولیاء اللہ کواللہ پاک کی طرف سے مختلف مناصب (Designations) بطور گفٹ عطا کئے جاتے ہیں۔۔سب سے پہلا منصب ہے ابدال، اسکے بعد قطب،،قطب وحدت،، قطب ارشاد،، پھر قطب مدار،، غوث،،قیوم،، فرد اور صدیق کے مناصب ہیں۔۔ یہ ضروری نہیں کہ کسی صاحبِ منصب کو یہ علم بھی ہو کہ میں اب فلاں منصب پر فائز ہوں،، دنیا میں اللہ کی مرضی کہ کسی کو بتائے یا نہ بتائے،، ہاں مرنے کے بعداسے پتہ لگ جاتا ہے۔۔ تصوف و سلوک میں' قلندر' کوئی منصب نہیں ہے۔۔یہ ایک انجانی اصطلاح ہے جو نامعلوم کس بنا پر لعل شہبازؒ کے ساتھ منسوب کر دی گئی ہے۔۔ اسی طرح 'خواجۂ خواجگان' بھی کوئی منصب نہیں ہے۔۔عوام کا حال تو یہ ہے کہ علم ذرا نہیں اور دعویٰ ایسا کہ شرم بھی نہ آئے۔۔ کئی بزرگوں کے نام کیساتھ دو منصب لکھ دیتے ہیں، مثلاً پہلے کسی کو قطب لکھیں گے پھر اسےابدال بنا دیں گے، یعنی پہلے ترقی دی پھر تنزلی کرا دی۔۔ یا کبھی یوں ہوگا کہ اللہ کے کسی ولی کا منصب صدیق ہوگا تو اسے غوث لکھ دیں گے،، یہ تو ایسا ہے کہ جیسے کسی وزیر اعظم کو پٹواری لکھ دیا جائے۔۔دوسری بات عورت کے متعلق،، عورت میں انوارات برداشت کرنے کی صلاحیت مرد سے کم ہوتی ہے۔۔ اسلئے عورت کو نبوت نہیں دی گئی،، مگر ولایت مل سکتی ہے۔۔ عورت کے آدھے قلندر ہونے والی بات من گھڑت ہے۔۔!!
سوال:اگر یہ بھی وضاحت کر دیتے کہ ابدال، قطب ،غوث اور اسی طرح کے دوسرے القابات کے معنیٰ کیا ہیں اور یہ کن کن حضرات کو ملے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو غوث پاک کہا جاتا ھے۔ لیکن یہ نہیں جانتے کہ ان کو غوث پاک کیوں کہا جاتا ھے۔ کیا ان کو غوث کہ منصب پر فائز کیا گیا تھا؟ پاکستان ھندوستان وغیرہ میں کون کون سی ہستیاں ہیں جن کو یہ مناسب دیئے گئے۔ تمام کہ نام ضروری نہیں، چند ایک کہ نام اور منصب بتا دیں۔ 
جواب:کسی منصب کا کیا معنی ہے،، یہ ایسا ہے کہ آپ کسی سے پوچھیں کہ میجر، کرنل اور برگیڈئیر کا کیا معنی ہے۔۔یہ ولایت کےاسٹیٹس ہیں جو ہر امت میں انکے انبیاء علیھم السلام کے متبعین میں سے صالحین کو من جانب اللہ عطا ہوتے ہیں۔۔ مثلاً حضرت خضر ؒ قطب مدار تھے۔۔اسی طرح امت محمدیؐہ میں بے شمار ہستیاں ان مناصب کی حامل رہی ہیں۔۔ مثلا بہاؤالدین زکریاؒ 'غوث' تھے،، مولانا احمد علی لاہوریؒ 'قطب ارشاد' تھے،، اور مولانا اللہ یار خانؒ 'صدیق' تھے وغیرہ۔۔ جو شخص جس قدر بلند منصب ہو گا،اس میں عوام کی باطنی اصلاح کرنے اور برکاتِ نبوت ٹرانسفر کرنے کی صلاحیت اسی قدر قوّی ہو گی۔۔ یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ لوگ دوسروں کو کیسے یقین دلائیں گے کہ ہم فلاں منصب پر فائز ہیں؟
یاد رکھیں،، صرف نبی/رسول کو دوسروں کو یقین دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ میں پیغمبر ہوں ۔۔ولی کا کردار اور اسکے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والوں کی تربیت، افکار، مجاہدات اور کریکٹر اس بات کے ظاہری گواہ ہوتے ہیں کہ یہ جھوٹا ہے یا سچا۔۔ کسی ولی کو اپنی زندگی میں اپنے منصب کا علم ہونا لازم نہیں،، ہو بھی سکتا ہے۔۔ یہ اللہ کریم کی مرضی ہے کہ بتائے یا نہ بتائے،،البتہ بعداز موت اسے علم ضرور ہو جاتا ہے۔۔ اگر اللہ پاک کسی کو باطنی/قلبی نگاہ نصیب فرمائیں تو کسی ولی کا منصب دیکھا بھی جا سکتا ہے۔۔!!
سوال: سر مجھے نفس کے متعلق جاننا ہے کہ یہ کیا شے ہے؟
جواب: انسانی جسم کے دو حصے ہیں۔ 1- بدن 2- روح -----روح کا تعلق عالمِ امر سے ہے اور جس دل/قلب کی ہم یہاں بات کر رہے ہیں اسکا تعلق بھی روح کے پارٹس سے ہے۔۔
بدن کی تخلیق چار چیزوں سے ہوئی ہے۔ ہوا، پانی، مٹی، آگ۔۔ ان چاروں کے ملنے سے انسانی نفس بنتا ہے۔۔ یہ نفس چونکہ مادی اور فانی اشیاء سے مل کر بنا ہے،، اسلئے اسکی خواہشات اور ضروریات بھی مادی ہیں، یہ اُن دنیاوی آسائشوں کی طرف رغبت کرتا ہے جس سےمادی بدن کو تسکین ملے۔۔ 
1۔ دل مردہ ہو جائے تو انسانی نفس مضبوط ہو جاتا ہے،، اور پہلوان بن جاتا ہے۔۔ اسے نفس امّارہ کہتے ہیں۔۔ سورہ یوسف میں اسکا ذکر ہے۔۔ (وما أبرئ نفسي إن النفس لأمارة بالسوء إلا ما رحم ربي)۔ یہ ہمیشہ بدی کی دعوت دیتا ہے۔
2۔ دل کی اصلاح شروع ہو جائے تو یہ نفس کمزور ہو کر امارہ سے لوّامہ ہو جاتا ہے۔۔ یہ نیکی پر ابھارتا ہے اور برائی پر ملامت کرتا ہے۔ سورۃ القیامہ میں اس کا ذکر ہے۔۔ (ولا اقسم بالنفس اللوامہ)
3۔ دل کو مزید غذا (ذکرِ الہٰی) وافر مقدار میں فراہم کی جاتی رہے تو نفس مزید کمزور ہو کر لوامہ سے نفس مطمئنہ بن جاتا ہے۔۔ اس مقام پر بندہ اللہ کی رضا سے ہمہ وقت راضی رہتا ہے اور نیکی کو چھوڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔۔ گناہ سے نفرت ہو جاتی ہے۔۔ سورۃ الفجر میں اسکا ذکر ہے۔۔ (یا ایتھا النفس المطمئنۃ۔ ارجعی الی ربکِ راضیۃ مّرضیہ)

Labels:

تصوف - 18 (سوال و جواب)

تصوف - 18
:::::::::::::::
ہاں جی کس نے کرنا ہے آج کا پہلا سوال؟۔۔
''سر، میں کر لیتی ہوں۔۔ آپ نے بتایا تھا کہ روح کے پارٹس کو لطائف کہتے ہیں اور اللہ کے ذکر سے یہ روشن ہو جاتے ہیں۔۔ آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ تصوف میں کشف کا ہونا کوئی لازم نہیں۔۔ اب سوال یہ ہے کہ جب لطائف روشن ہوں گے، اور ہمیں کشف بھی نہیں ہوگا، تو پھر ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ ہمارے لطائف منور ہیں یا نہیں؟''
ویری گڈ، بڑا دلچسپ سوال ڈھونڈ لائیں ہیں آپ۔۔ باقی طلباء کو بھی میں کہوں گا کہ اپنی دماغ میں پڑی ایسی گرہیں سامنے رکھیں۔۔ ان شاء اللہ انہیں بسہولت کھولا جائے گا۔۔ یہاں ایک اہم بات بھی سمجھ لیں۔۔ میں عالمِ دین نہیں ہوں، جو کچھ پڑھا سیکھا ہے، وہ آپکے سامنے پیش کرنے میں خوشی محسوس ہوتی ہے۔۔ بالفرض میں آپکو کسی بات پر مطمئن نہ کرسکوں تو میری وجہ سے تصوف کو غلط نہ سمجھا جائے۔۔ میں کوئی اتھارٹی نہیں ہوں اس فیلڈ میں کہ اگر میری بات ناقص ہوئی تو تصوف پر حرف آجائے گا۔۔برائے کرم میری علمی و عملی خامی کو تصوف میں خامی پر محمول نہ کیا جائے۔۔ 
اب آپکے سوال پر واپس آتے ہیں۔۔ لطائف کے روشن ہو جانے کی دلیل کشف نہیں ہے۔۔ کشف اللہ کی عطا ہے کہ کسی اعلیٰ منازل کے صوفی کو بھی عطا نہ کرے اور کسی Beginner کو نصیب فرما دے، یہ اُسکی مرضی ہے۔۔ ویسے تو یہ غیرمسلم لوگ جو ہیپناٹزم اور مسمرزم کی ریاضت کرتے ہیں، کم بولنا، کم سونا، اور کم کھانا اپنی روٹین میں شامل کرتے ہیں، دنیا سے کٹ جاتے ہیں، اُن پر بھی بعید دنیا کی مادی اشیاء منکشف ہو جاتی ہیں۔۔تو کیا انکو بھی کامل سمجھا جائیگا؟۔۔ نہیں، بلکہ یہ کچھ عجائبات ہیں جو وہ مادی مفاد کیلئے مجاہدے سے حاصل کرتے ہیں۔۔ تصوف کا مقصد مادیت کا حصول نہیں بلکہ روحانیت اور قربِ الہٰی کا حصول ہے۔۔لطائف پر اللہ کے ذکر کی محنت کے یہ اثرات ہوتے ہیں کہ کچھ نظر آئے یا نہ آئے، بندے کا کردار بدلنا شروع ہوجاتا ہے۔۔ مثبت اور اسلامی تبدیلی آتی ہے افکار میں۔۔لطائف کے منور ہونے کی یہ نشانی ہے کہ آپکا دل اب خرافات کو Accept نہیں کرے گا، reject کر دے گا۔۔ نیکی کی طلب بیدار ہو گی اور گناہوں سے نفرت اور وحشت ہونے لگے گی۔۔نیک کام کرکے روح کو مسرت و اطمینان کا احساس ہوگا۔۔ دل اللہ کی یاد سے قرار پائے گا۔۔ اگر کچھ روشنیاں نظر آنے کے باوجود کسی کے دل میں یہ کیفیات پیدا نہیں ہورہیں تو اس نے خود کو دھوکے میں رکھا ہوا ہے۔۔اور اگر کسی کا کردار سنتِ نبوی ﷺ کے ڈھانچے میں ڈھلنا شروع ہو گیا ہے، تو چاہے کچھ نظر نہ آئے، اسکے لطائف منور ہونے کی یہی پہچان ہے۔۔ اب اگر مشاہدہ بھی نصیب ہو جائے تو انوارات کی کمی بیشی نظر آجاتی ہے۔۔ صوفی کو عالم کی نسبت یہ ایک ایکسٹرا خوبی بھی نصیب ہو جاتی ہے کہ گناہ کی ظلمت کا فوراً ادارک ہو جاتا ہے اور وہ خود کورب کی نافرمانی کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا۔۔غلط عقائد کی تاریکی نظر آتی ہے تو اپنے عقائد کی درستی کا احساس دامن گیر ہوجاتا ہے۔۔ اسلئے بدعقیدگی اور تصوف ساتھ ساتھ نہیں رہ سکتے۔۔!
'' سر، میں ایک سوال پوچھنا چاہوں گا، میں بہت کنفیوز ہوں، میں نے ایک جگہ بیعت کی ہوئی ہے مگر مجھے لگتا ہے کہ میں غلط جگہ پھنس گیا ہوں، اب کیا میں بیعت کو توڑ دوں؟ کیونکہ بیعت تو ایک معاہدہ ہے، اور معاہدہ توڑنے کا گناہ ہوگا، مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کروں؟''
دیکھیں دوست آپ ٹینشن نہ لیں، میں آپکو ایک واقعہ سناتا ہوں، اسکو سمجھ لیں تو آپکی پریشانی فوراً ختم ہو جائیگی۔۔باقی سٹوڈنٹس بھی تھوڑی دیر کیلئے بیدار ہو جائیں، زندگی پڑی ہے سونے اور اونگھنے کیلئے، کلاس میں تو اٹینشن سے بیٹھا کریں کم از کم۔۔ چلیں سنیں،، ایک دفعہ مولانا عطااللہ شاہ بخاری ؒ چکوال کے قریب قلعہ بھون میں تقریر فرما رہے تھے، ابھی پاکستان نہیں بنا تھا، ہندو مسلم اکٹھے رہتے تھے۔۔ ایک ہندو نے سوال لکھ بھیجا کہ حضرت، اسلام میں جو نکاح ہوتا ہے،اسمیں لفظوں کے ذریعے ایجاب و قبول کیا جاتا ہے اور الفاظ میں ہی منکوحین کی علیحدگی ہو جاتی ہے۔۔ کتنا ناقص دین ہے آپکا۔۔ ہمارے ہاں تو جو شادی ہوتی ہے وہ اتنی قوی ہوتی ہے کہ موت پر بھی ختم نہیں ہوتی، ہم تو عورت کو مرد کے ساتھ ہی جلا کر اَمر کر دیتے ہیں۔۔ شاہ جیؒ بڑے مزے کے آدمی تھے، کہنے لگے کہ بھائیو ایک دھاگا لاؤ اور ایک چاقو لاؤ۔۔ ایک شخص کہیں سے دونوں چیزیں لے کر سٹیج پرجا پہنچا۔۔آپؒ نے اسے کہا کہ دھاگہ دونوں سِروں سے پکڑو۔۔ اس نے پکڑا تو شاہ جی نے درمیان میں چاقو پھیرا، دھاگہ کٹ گیا۔۔ آپ نے پوچھا، ٹوٹ گیا؟ کہنے لگا، جی ہاں ٹوٹ گیا۔۔ اب آپ نے دھاگہ پھینک دیا اور اسے کہا کہ اب دھاگہ نہیں ہے، مگر دھاگہ پکڑنے والا ایکشن کرو۔۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے یوں عمل کیا جیسے دھاگہ پکڑا ہو۔۔پھر آپ نے اسی طرح چاقو گھمایا اور پوچھا کہ کٹ گیا؟ کہنے لگا کہ ہے ہی نہیں تو کٹے گا کیسے؟۔۔ آپؒ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، یہی تو ہم کہتے ہیں کہ جب تمہارا نکاح ہوا ہی نہیں تو ٹوٹے گا کیسے؟ طلاق کیلئے نکاح کا ہونا لازم ہے۔۔ تمہارے ہاں تو کوئی دین نہیں، بس رسومات ہیں، اللہ کے نام پر کوئی معاہدہ نہیں،، تم اپنے مفروضوں کی بنیاد پر آگ کے گرد پھیرے ڈالتے رہے اور پنڈت کوئی انجانا منتر پڑھتا رہا، تو تم نے سمجھا کہ شادی ہوگئی، حالانکہ کسی پیغمبر کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق نکاح ہوا ہی نہیں ہے تو ختم کیسے ہوگا۔۔
میرے دوست، یہ جو بغیر جانے بوجھے رسمی بیعت کی جاتی ہے، یہ ہوتی ہی نہیں ہے، ٹوٹے گی کہاں سے؟ بندہ خواہ مخواہ تصور کرلے کہ میں بندھا ہوا ہوں، تو اسے فائدہ تو نہیں، بلکہ الٹا نقصان ہوتا ہے کہ بلاوجہ ایک اندھی سی عقیدت پیدا ہو جاتی ہے۔۔ اب وہ پیر صحیح رہنمائی کرتا ہے یا غلط راستے پہ لے جاتا ہے، آپکو پتہ نہیں ہوتا اور آپ عقیدت کی وجہ سے اسکے پیچھے پیچھے چلتے رہتے ہیں۔۔ عقیدت، ادب اور اطاعت تصوف کی بنیادیں ہیں، لیکن صرف شیخِ کامل کیلئے انکو وقف کرنا چاہئے۔۔امید ہے تشفی ہو گئی ہوگی اب۔۔ چلیں جی چھٹی کریں۔۔ ملتے ہیں بریک کے بعد۔۔ اللہ نگہبان۔۔!!

Labels:

تصوف - 17 (سوال و جواب)

تصوف - 17
:::::::::::::::
دوستو،آج سے سوال و جواب کی محفل شروع ہو گئی ہے۔۔آپ تصوف کے بارے میں دل کھول کر سوال کریں، ان شاء اللہ آپکو تسلی بخش جواب دیا جائے گا۔۔نئے دوستوں سے گزارش ہے کہ بلا وجہ لفظ تصوف یا شعبۂ تصوف کو غلط اور خلافِ اسلام ثابت کرنے کی بجائے میری وال پر موجود تصوف کے لیکچرز میں سے کسی ایک بات کو خلافِ اسلام ثابت کردیں۔۔معاشرے میں موجود غلط فہمیوں کو بنیاد بنا کر، یا جعلی تصوف فروشوں سے متاثر ہو کر اگر آپ تصوف کو دین ِ اسلام نہ سمجھنے پر مصر ہیں، تو میں آپ سے بحث نہیں کر سکتا۔۔ہاں جن باتوں کو آپ نے تصوف سمجھ رکھا ہے، اور انکی وجہ سے اس شعبے میں قدم رکھنے سے کترا رہے ہیں، تو میں ان شاء اللہ آپکی خاطر خواہ راہنمائی کر سکتا ہوں، اور آپکے اعتراضات برائے علم کا خاطر خواہ ردّ کر سکتا ہوں الحمدللہ۔۔ لیجئے، پھر ہو جائیے تیار اور کون کرے گا پہلا سوال؟۔۔'سر، ہر چند کہ میں آپکے لیکچرز میں اکثر اونگھتا رہا ہوں، مگر سوالات کی ابتدا میں ہی کرتا ہوں۔۔ آپ کہتے ہیں کہ روح عالمِ اَمر کی طرف ٹریول کرتی ہے۔۔ یہ بتائیں کہ جب روح کسی کے بدن کو چھوڑ کر سفر کرتی ہے تو انسان مرتا کیوں نہیں ہے، زندہ کیسے رہتا ہے؟'۔۔نائس کؤسچن،، اسکا اصل جواب تو یہ کہ جب کوئی اس پراسس سے گزرا ہی نہ ہوتو اسے کیسے سمجھایا جائے۔۔ بہرحال مثال سے یوں سمجھ لیں کہ جیسے سورج سارے جہان میں روشنی پھیلا کر بھی نہیں پھٹتا، اسی طرح روح بھی بدن سے نکل کر مختلف مقامات تک جاتی ہے تو انسان نہیں مرتا۔۔جب ہماری آنکھ حدِ آسمان تک دیکھتی ہے تو اسکی بینائی ختم نہیں ہوتی، اور نہ ہی آنکھ پھٹتی ہے،، اسی طرح روح بھی بدن سے نکل کر مقاماتِ اعلیٰ تک پہنچتی ہےتو جسم میں پھر بھی باقی رہتی ہے۔۔ البتہ موت کے وقت اسکا تعلق بدن سے منقطع کردیا جاتا ہے۔۔موت ایک الگ کیفیت ہے جبکہ مراقبات دوسری شے ہیں۔۔ اگر اس مادی اور ظاہری آنکھ کی قوت و صلاحیت کا اندازہ آپ نہیں کر سکتے، تو روح کا ادراک تو بہت مشکل چیز ہے۔۔یہ لطائف، مراقبات، فنا، بقا، وغیرہ خود سے کرکے سمجھنے والی باتیں ہیں۔۔ الفاظ میں آپکو کس طرح بتایا جائے،، ناممکن لگتا ہے مجھے کہ میں آپکو بھوک کی کیفیت سمجھاؤں۔۔ البتہ آپکو دو دن بھوکا رکھا جائے تو سب سمجھ آ جائے گی کہ بھوک کس بلا کا نام ہے۔۔!!
'Sir، میرا بھی ایک سوال ہے،، کل میں نے ایک پوسٹ دیکھی،، اس میں لکھا تھا کہ تصوف کو سارا کا سارا ردّ کرنے کی بجائے اس کی اصلاح کیجئے،،، آپ کیا کہیں گے اس بارے میں؟'۔۔ ویل، میرا مقدمہ اسکے برعکس ہے۔۔ میں تصوف کو قابلِ اصلاح نہیں بلکہ تصوف کے ذریعے لوگوں کو قابلِ اصلاح سمجھتا ہوں۔۔ یہ تو ایسا ہے کہ جیسے کچھ نفس پرست لوگ کہیں کہ جی اسلام کی اصلاح کرو، تاکہ ہمارے مقاصد پورے ہو سکیں۔۔ ڈئیر،، بات یہ ہے کہ اسلامی تصوف میں کچھ ایسا نہیں جسکی اصلاح کی ضرورت ہو۔۔ صوفیاء اسلاف کی کتب انکے تجربات اور محسوسات پر مبنی ہیں جنہیں انکا عقیدہ کہنا درست نہیں۔۔ عقیدہ وہ ہے جو ہمیں قرآن و سنت دیتے ہیں اور بس۔۔تمام صوفیاء کی زندگیوں پر شریعت ہی کی چھاپ نظر آتی ہے۔۔کسی صوفی نے کچھ ایسا لکھ دیا جو غیرصوفی کی سمجھ سے باہر ہےتو اسے چاہئے کہ ایسے کسی بھی فعل و قول کو رد کردے جو اسلام کے منافی ہو۔۔ وہ جانے اور اس کا رب جانے۔۔ہمیں اس پر نکیر کرنے کا حق نہیں ہے۔۔ جن غیر اسلامی تصورات کو آپ نافہمی میں تصوف سمجھ بیٹھے ہیں یا جن کرتبوں کو تصوف کیساتھ نتھی کردیا گیا ہے، انکو نکالنے کی ضرورت ہے۔۔ بتوفیق الہٰی میری اس ساری محنت کا مقصد یہی تھا کہ آپکے سامنے حق کھول کر واضح کردیا جائے تاکہ معاشرے میں پھیلی بدگمانیوں کا ازالہ ہو سکتے اور ہم سب اپنی اصلاح کی فکر کریں۔۔ یاد رکھیں، تصوف رضائے الہٰی کے لئے پورے خلوص سے سنت نبوی ﷺ کے مطابق زندگی گزارنے کا نام ہے اور بس۔۔!! کسی دوست کے کوئی اور سوالات ہیں تو مجھے لکھوا دیں تاکہ اگلے لیکچر میں انکا جواب دیا جا سکے۔۔ اللہ دی امان۔۔!!

Labels:

تصوف - 16 (اولیاء اور انکے مناصب)

تصوف - 16
:::::::::::::::
آج ہم بات کرتے ہیں انسانی جسم کے دو پارٹس بدن اور روح میں سے دوسرے اور اہم جزو' روح کی۔۔ اسکے بارے میں آپ کافی کچھ پہلے ہی جان چکے ہیں کہ اسے اپنے اعضاء (لطائف) کی صحت و زندگی برقرار رکھنے کیلئے غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔۔یہ بھی آپکو علم ہے کہ اسکی غذا اللہ کا ذکر ہے۔۔جب تمام سات لطائف پر ذکرِ قلبی مضبوط ہوجاتا ہے، یعنی لطائف منور ہوجاتے ہیں، تو روح میں ایک قوت پیدا ہوتی ہے جو اسے عالمِ اَمر اور قربِ الہٰی کی جانب سفر میں سپورٹ کرتی ہے۔۔کثرتِ ذکر اور شیخ کی توجہ کے باعث روح میں جیسے جیسے لطافت بڑھتی جاتی ہے، اسکا سفر تیز تر ہوتا جاتا ہے۔۔روح کے اس سفر میں مختلف اولیاء اللہ کواللہ پاک کی طرف سے مختلف مناصب (Designations) بطور گفٹ عطا کئے جاتے ہیں۔۔سب سے پہلا منصب ہے ابدال، اسکے بعد قطب،،قطب ارشاد،، پھر قطب مدار،، غوث،،قیوم،، فرد،،قطب وحدت اور صدیق کے مناصب ہیں۔۔ یہ ضروری نہیں کہ کسی غوث کو یہ علم بھی ہو کہ میں اب غوث بن چکا ہوں، دنیا میں اللہ کی مرضی کہ کسی کو بتائے یا نہ بتائے،، ہاں مرنے کے بعداسے پتہ لگ جاتا ہے۔۔ تصوف و سلوک میں قلندر کوئی منصب نہیں ہے۔۔یہ ایک انجانی اصطلاح ہے جو نامعلوم کس بنا پر لعل شہبازؒ کے ساتھ منسوب کر دی گئی ہے۔۔عوام کا حال تو یہ ہے کہ علم ذرا نہیں اور دعویٰ ایسا کہ شرم بھی نہ آئے۔۔ کئی بزرگوں کے نام کیساتھ دو منصب لکھ دیتے ہیں، مثلاً پہلے کسی کو قطب لکھیں گے پھر اسےابدال بنا دیں گے، یعنی پہلے ترقی دی پھر تنزلی کرا دی۔۔ یا کبھی یوں ہوگا کہ اللہ کے کسی ولی کا منصب صدیق ہوگا تو اسے غوث لکھ دیں گے،، یہ تو ایسا ہے کہ جیسے کسی وزیر اعظم کو پٹواری لکھ دیا جائے۔۔ اسی طرح 'خواجۂ خواجگان' بھی کوئی منصب نہیں ہے۔۔ یہاں ولایت سے متعلق کچھ ضروری وضاحت سُن لیں۔۔ قرآن مجید کے مطابق ہر وہ بندہ ولی اللہ ہے جو ایمانیات پر ایمان لاتا ہے،،'اللہ ولیُ الذین آمنو'۔۔ اللہ ایمان والوں کا ولی (دوست) ہے۔۔ اسے ولایت عامہ کہا جاتا ہے، یعنی یہ ہر مومن کو حاصل ہے۔۔ اسکے بعد ولایتِ خاصہ ہے جسکے متعلق ایک حدیث مبارکہ آپکے گوش گزار کرتا ہوں۔۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو انبیاء نہیں مگر قیامت کے دن انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے۔ عرض کیا گیا: وہ کون ہیں، تاکہ ہم ان سے محبت رکھیں؟۔فرمایا:وہ ایسے لوگ ہیں کہ اللہ کے نور کی وجہ سے ایک دوسرے کو دوست رکھتے ہیں، نہ ان میں خونی رشتہ ہے نہ نسبی، انکے چہرے نورانی ہوں گے، وہ نور کے منبروں پر بیٹھے ہوں گے۔ جب لوگ خوفزدہ ہوں گے، انہیں کوئی خوف نہ ہوگا۔ جب لوگ غمگین ہوں، انہیں کوئی غم نہ ہوگا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی، اَلا اِنّ اَولیاءاللہ لاخوف علیھم ولا ھم یحزنون، یاد رکھو، اللہ کے ولیوں پر نہ کوئی اندیشہ(خوف) ہوتا ہے، نہ وہ مغموم ہوتے ہیں۔" (الترغیب 4:5، نسائی و ابن حبان)۔۔ ان اولیاء اللہ کے بارے میں ہمارا یہ عقیدہ ہرگز نہیں کہ یہ کوئی مافوق الفطرت، خود مختار، نفع نقصان کے مالک، عالمِ غیب یاحاضرناظر ہستیاں ہیں، جن کو جاہل لوگ غائبانہ پکار کر فریاد رسی کرتے ہیں، یا انکو سجدہ کرتے ہیں، یا انکے پسینے والے ٹشوپیپر اپنے لئے تبرک سمجھتے ہیں، یا انکے رنگ برنگے کپڑوں اور جھنڈوں میں پناہ ڈھوندتے ہیں۔۔اللہ کے ولی اور شیخِ کامل کا حقیقی منصب تو خاکروب کا سا ہے۔۔ ہم نے اپنے دل کوحسد، جھوٹ، کینہ، چغلی، بدنیتی، ریا ، غفلت، اور نفرت کی غبار سے میلا کر ڈالا ہے،، حالانکہ یہ تو اللہ کریم کے رہنے کی جگہ تھی،، شَیخ اس جھاڑ جھنکار کو صاف کرکے اسمیں محبت، ایثار، اخوت ، اطاعت اور خلوص جیسے بیج بونے والا ہے۔۔شَیخِ کامل تو راہبر ہوتاہے،، ہیرا پھیری سے لوگوں کی راہزنی نہیں کرتا۔۔شَیخ کا کام ہے کہ اللہ سے بچھڑے ہوئے لوگوں کو اللہ سے ملا دے، انکو قرآن و سنت کا پابند بنا دے، اللہ و رسول کی نافرمانی سے بچنے کا جذبہ پیدا کردے۔۔تصوف کی پیری مریدی میں حسبی نسبی اور موروثی گدی نشینی کی کوئی گنجائش نہیں۔۔ باپ کے بعد بیٹا صرف اس صورت میں شیخ بنایا جائے گا جب اس میں باپ والی اہلیت ہوگی، ورنہ کسی اور خلیفہ کو شیخ نامزد کیا جائےگا۔۔کوئی بھی بندہ پیدائشی طور پر ولی اللہ نہیں ہوتا، بلکہ ولایت ایک کسبی شے ہے، یعنی یہ محنت مجاہدے، ذکر اذکار سے بطور انعام کمائی جاتی ہے۔۔کوئی کتنے ہی عجائبات و کرامات دکھائے،اگر اسکی عادات، اخلاق اور اطوار میں سنتِ نبی ﷺ کی خوشبو نہیں ، تو وہ مداری ہو سکتا ہے، ولی اللہ نہیں۔۔شیخ اور مرید کے تعلق میں دنیا کی دولت حائل نہیں ہوتی، بلکہ غریب وامیر کو اسکے ظرف، اسکی محنت، طلب، اسکی عقیدت، ادب اور اطاعت کے مطابق اللہ کی طرف سے بہترین نوازا جاتا ہے۔۔ شَیخ کی حیثیت دلدل میں پڑے ہوئے ایک مضبوط پتھر کی سی ہوتی ہے جس پر قدم رکھ کے لوگ اپنا ایمان بچا کر بارگاہِ الہٰی تک پہنچتے ہیں، ،ایسا کرنے والے نادان ہیں جو اس پتھر کو ہی پوجنا شروع کردیتے ہیں۔۔اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی پیروی سے ہٹا کر جن لوگوں نے عوام کو اپنی پیروی پر لگا رکھا ہے، دراصل یہی لوگ تصوف کی بدنامی کا سبب ہیں۔۔!!

نوٹ :میں نے اپنی دانست میں تصوف کے بارے میں جتنا ضروری سمجھا، اتنا آپ دوستوں سے اپنے الفاظ میں بیان کردیا ہے۔۔اسکا مقصد یہ تھا کہ عوام کے ذہنوں میں تصوف سے متعلق جو شکوک وشبہات تھے، انکا ازالہ کیا جائے اور ایک صحیح تصوف اسلامی کا پاکیزہ چہرہ آپکو دکھایا جائے۔۔
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سرِ عام رکھ دیا
آئندہ لیکچرز میں میں آپ دوستوں کےپوچھے گئے سوالات کے جوابات دوں گا۔۔!

Labels:

تصوف - 15 (بیعت اور شیخِ کامل کی پہچان)

تصوف - 15
:::::::::::::::
کیا آپ کتابیں پڑھ کرکوالیفائیڈ ڈاکٹر بن سکتے ہیں، جبکہ کسی ادارے میں استاد کی شاگردی اختیار نہ کرلیں؟ ۔۔'نو سر، البتہ عطائی ڈاکٹر ضرور بن سکتے ہیں جو دوسروں کیلئے خطرۂ جان ہوتا ہے'۔۔رائٹ، کیا آپ کسی سینئر وکیل کی سرپرستی کے بغیر وکالت سیکھ سکتے ہیں؟۔۔اور یونیورسٹی میں چار سالہ انجینئرنگ کے بغیر آپکو کون بیوقوف آپکوانجینئر مانے گا؟۔۔ یہ تو سب دنیاوی ڈگریاں وتجربات ہیں، جنہیں آپ ٹیچر کے بغیر نہیں جان سکتے۔۔ ہمارا موضوع تصوف ہے، جس میں برکاتِ نبوت کا حصول ایک مشن ہوتا ہے۔۔جس سے تعلیمات پر عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔۔ برکاتِ نبوت کو آپ ایک Pushing Force سمجھ لیں جو آپکو آپکی خوشی سے دین کی تعلیمات پر عمل پیرا کراتی ہیں۔۔ یہ عبادات میں وہ کیفیات اورخلوص پیدا کرتی ہیں جسکے بارے میں اللہ کے حبیب ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے:'اللہ کی عبادت یوں کرو گویا تم اللہ کو اپنے سامنےدیکھ رہے ہو، اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو تو کم از کم اتنا تو یقین ہو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے'۔۔ اس کیفیت کا حصول تصوف ہے، جو تزکیہ قلب کے بغیر ممکن نہیں۔۔اس تزکیہ کیلئے مزّکی /استادکی ضرورت ہے جو روح کا اسپیشلسٹ ہوتا ہے۔۔ سب سے عظیم اور کامل مزّکی ہیں حضرت محمد ﷺ۔۔ آپکی شاگردی/صحبت میں آنے والے صحابہ کہلائے۔۔ حصولِ تزکیہ کیلئے صحبت/حاضری شرطِ اوّل ہے، ورنہ حضرت اویس قرنیؒ آپ ﷺ کے ہم زمانہ ہونے کے باوجود صحابی نہ بن سکے۔۔ تصوف میں یہ اصول اب تک جاری ہے کہ کسی ایسے شیخ کی محفل میں حاضری دی جائے جس نے سینہ بہ سینہ برکاتِ نبوت حاصل کی ہوں اور طالب کے دل میں انڈیل سکے، اور اسے منور کردے۔۔اب آپکا یہ سوال کہ،' جب قرآن و احادیث، سنتِ رسول ﷺ اور سنت صحابہ کرام ہمارے پاس موجودہیں تو پھر کیا ضرورت ہے کہ کسی اور کی پیروی کی جائے؟'۔۔تو جناب، یہ پیروی ہوتی ہی قرآن و سنت کی اقتداء اور اس پر عمل کرنے کیلئے ہے۔۔شیخِ کامل خود سے کوئی نیا اسلام نہیں گھڑتا، بلکہ اسی دین کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو اللہ پاک نے نبی کریم ﷺ کے ذریعے دنیا میں اُتارا۔۔ جہاں سےقرآن و سنت سے دامن چھوٹا اور روگردانی ہوئی، وہاں سےدو نمبر پیری مریدی شروع ہوجاتی ہے۔۔ تصوف وہ محبت بیدار کرتا ہے جو فرائض تو کیا سنت اور نوافل بھی نہیں چھوٹنے دیتا۔۔ ورنہ پتہ تو سب کو ہے کہ نماز روزہ فرض ہے، لیکن کرنے سے قاصر ہیں۔۔جانتے ہیں، مگر عمل نہیں ہوپاتا۔۔ کیا چیز مِسنگ ہے اور کہاں سے ملے گی؟۔۔کسی اللہ والے کی محفل سے ملے گی۔۔'سر، یہ بتائیں کہ شیخِ کامل کی پہچان کیا ہے؟'۔۔ ویل' ایک پہچان تو وہ ہے جو میں نے کل آپکو بتائی تھی۔۔ اسکے علاوہ کچھ لوازمات ہیں، جنہیں میں وائٹ بورڈ پر لکھ رہا ہوں، آپ نوٹ کر تے جائیں پلیز۔۔1: عالمِ ربانی ہو، کیونکہ جاہل کی بیعت کرنا حرام ہے۔۔ 2: صحیح العقیدہ ہو، کیونکہ غلط عقیدہ اور تصوف ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔۔ 3: شرک و بدعت کے قریب بھی نہ جائے، کیونکہ شرک ظلم اور بدعت گمراہی ہے،، شیخ نہ ظالم ہوتا ہے نہ گمراہ۔۔ 4: متبع سنتِ رسول ﷺ ہو، کیونکہ سارے کمالات پیروی سنت سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔۔ 5: دنیا میں رہتے ہوئے بھی دل دنیا کی محبت سے خالی ہو، کیونکہ ایک دل میں دو محبتیں نہیں رہ سکتیں، یا اللہ کی محبت ہو گی یا دنیا کی۔۔یاد رکھیں، دنیا کا مال و اسباب ہونا منع نہیں، کئی صحابہ کرام بہت مالدار تھے، مگر حلال ذرائع سے رزق حاصل کرتے تھے، اور جائز مصرف پہ خرچ کرتے تھے۔۔ مال و متاع میں کھو کر اللہ کو بھول جانا دنیا ہے۔۔6: علمِ تصوف و سلوک میں کامل ہو، کیونکہ جس راہ سے واقف نہ ہو اس پر دوسروں کو کیسے گامزن کر سکتا ہے۔۔ 7: شاگردوں کی تربیتِ باطنی کے فن سے واقف ہو، اور کسی ماہرِ فن کا شاگرد ہو۔۔ 8: حضور پاک ﷺ سے روحانی تعلق قائم کردے ،جو اللہ اور بندے کے درمیان واحد واسطہ ہیں۔۔یہ آٹھ نشانیاں اچھی طرح ذہن نشین کرلیں، تاکہ آپکو کوئی ڈی ٹریک نہ کر سکے۔۔'سر، شیخ کا تو ہمیں اب معلوم ہو گیا، مگر یہ غوث، قطب، ابدال، قلندر وغیرہ کیا ہوتے ہیں؟ تصوف میں انکی کیا حیثیت ہے؟'۔۔ آئی ایم سوری ڈئیر، آپ کا سوال عموماً اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کلاس کا ٹائم ختم ہو چکا ہوتا ہے، اور سارے اسٹوڈنٹس بھاگنے کیلئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔۔ سو، اسے اگلے لیکچر پہ چھوڑتے ہیں۔۔ فی امان اللہ۔۔!!

Labels:

تصوف - 14 (بیعت)

تصوف - 14
:::::::::::::::
'Sir، مجھے یہ پوچھنا ہے کہ آخر ہم کسی سے بیعت کیوں کریں؟ ضرورت کیا ہے اسکی؟'۔۔ویل، کیا آپکو یہ پتہ ہے کہ بیعت کا کیا مطلب ہے اور اسکی کتنی اقسام ہیں؟۔۔'یس سر، بیعت 'بیع' سے ماخوذ ہے جسکا مطلب ہے بیچنا، یعنی اپنی رائے کو کسی دوسرے انسان کی رائے پر بیچ دینا، اپنی سوچ ختم کردینا، دوسرے کی مان لینا، مگر مجھے بیعت کی ٹائپس کا علم نہیں'۔۔رائٹ، پہلے آپ بیعت کی اقسام مختصراًجان لیں، پھر آپکو معلوم ہو گا کہ بیعت کی کیا ضرورت اور فائدہ ہے۔۔ 1: بیعتِ جہاد (حالتِ جہاد میں وقت کے حاکم/امیر سے کیجاتی ہےکہ مر جائیں گے، پیچھے نہیں ہٹیں گے)۔۔2:بیعتِ اصلاح (کسی بھی متبعِ شریعت سے کیجاتی ہے جو روزمرہ کے شرعی مسائل میں راہنمائی کرسکے)۔۔ 3: بیعتِ خلافت (حاکمِ وقت سے اسکی اطاعت کیلئے،، موجودہ جمہوریت میں یہ ووٹ کی شکل میں ہوتی ہے)۔۔4: بیعتِ تصوف (قربِ الہٰی کی منازل طے کرنے کیلئے کسی ایسے شخص کے ہاتھ پر جو سالک کو کم از کم فنافی الرسول کرانے کی اہلیت رکھتا ہو)۔۔ہمارا موضوع بیعتِ تصوف ہے، وہی تصوف جس کے آپ اب تک تیرہ لیکچرز اٹینڈ کرچکے ہیں۔۔جس طرح کسی بھی شعبے کا علم سیکھنے کیلئے اسکے ادارے میں داخلہ لینا لازم ہے، اسی طرح علمِ تصوف کے ادارے کا نام خانقاہ ہے، یہ کوئی حجرہ یا غارنما شے نہیں بلکہ اچھی خاصی مسجد ہوتی ہے جہاں طالبینِ حق دور دراز سے سمندرِ محبت کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔۔ہر شعبےکے علم میں کمال حاصل کرنے کیلئے استاد کی ضرورت ہوتی ہے، تصوف کے استاد کو شیخ یا پیر کہا جاتا ہے۔۔یہ کوئی غیر انسانی مخلوق نہیں، بلکہ آپ ہی طرح کا بندہ ہوتا ہے جسے اللہ پاک نے محنت مجاہدہ اور اپنے شیخ کی جوتیوں میں بیٹھنے کے طفیل بطور انعام یہ قوت نصیب فرمائی ہوتی ہے کہ وہ اپنی قلبی توجہ اور ذکر اذکار کے ذریعے آنے والوں کا تزکیہ کرسکے۔۔ انکے دلوں کی زمین کونفسانی خواہشات سے پاک کرکے طلبِ الہٰی کی گوڈی کر سکے۔۔ارضِ قلب کی تمام بیماریوں کا علاج کرسکے، اس پر عقیدتِ اسلام کی کھاد ڈال سکے۔۔دل میں محبتِ رسول ﷺ اور اطاعتِ ربانی کےایسے بوٹے لگا سکے جن پر اخلاص، دیانت ، عاجزی اور اصلاحِ اعمال کے نایاب پھول اُگیں۔۔ انکی خوشبو سے باطن مہک اُٹھے ، ظاہر سرسبز ہوجائے۔۔اور بندہ اپنی مرضی اور خوشی سے احکاماتِ الہٰی پر فدا ہوتا چلا جائے۔۔جس طرح عالمِ اسباب میں اللہ کی جانب سے بادل کی ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ برسے، لہذا وہ برستا ہے اور اسے یہ فرق کرنے کا اختیار نہیں ہوتا کہ وہ کھیتی پر برس رہا ہے یا کوڑے کے ڈھیر پر، وہ صحراؤں کی پیاس بجھا رہا ہے یا دریا کو جل تھل کررہا ہے۔۔ اسی طرح شیخ کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ آنے والے پر برکاتِ نبوت کی بارش برسا دے۔۔نتائج پیدا کرنا اللہ کی مرضی اور آنے والے کے خلوصِ طلب پر منحصر ہوتا ہے۔۔اگر زمین زرخیر ہوگی تو اسمیں ہل چلایا جائے گا۔۔کسی نے باغ لگایا ہوگا تو پھل پھول آجائیں گے۔۔کوئی کوڑے کا ڈھیر ہوگا تو مزید تعفن اور بدبو پیدا ہوگی۔۔انسانیت کا خیرخواہ اور محسن ﷺ تو اپنی مکمل روشنیاں ہرسو بکھیر رہا تھا،اور ہے۔۔ کسی کا دلی ارادہ اسے کتابِ تقدیر میں رضی اللہ عنہ بنا جاتا تھا تو کسی کو ملعون۔۔اپنے اپنے ظرف کی بات ہے اور اپنے اپنے نصیب ہیں۔۔'ایکسکیوز می سر، آپ تو ہمیں الفاظ کی بے ساختہ روانی میں بہائے لے جارہے ہیں، یہ بتائیں، ہمیں پتا کیسے چلے گا کہ کون سچا پیر ہے اور کون جعلی شیخ، اور بیعت ہونے کیلئے بھی کوئی اصول و ضوابط ہیں یا بس جسکو دیکھیں پیر بنا بیٹھا ہے، جاکر فوراً اسکی قدم بوسی شروع کردیں؟'۔۔بہت عمدہ بات کی طرف دھیان دلایا آپ نے،، شیخِ کامل کے اوصاف تو میں آپکو اگلے لیکچر میں بتاؤں گا، کیونکہ اب آپکے ساتھ والے دوست کو جمائیاں آنے لگی ہیں،، اسلئے مختصر سمجھ لیں کہ بیعت کرنے کیلئے چھان بین کرنا انتہائی ضروری ہے ورنہ آپ کسی ٹھگ کے ہتھے بھی چڑھ سکتے ہیں، جسکی نگاہ کا اثر آپکے دل پر پہنچنے سے پہلے آپکی جیب شریف پر اٹک جائے گا۔۔سب سے پہلے اسکے ساتھ رہنے والےلوگوں اور دیگر مریدین کو دیکھیں۔۔اگر انکی زندگی حدودِ شرعی میں آچکی ہے یا آرہی ہے۔۔ پہلے دن میں بیس گناہ کرتے تھے، بیعت کے بعد بتدریج دس پہ آگئے ہیں۔۔اللہ اور اسکے رسولﷺ کی محبت و اطاعت کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے۔۔تو سمجھیں کہ پیر ٹھیک ہے۔۔ اگر دونمبر ہوتا تو لوگ پیرصاحب سے صرف دنیاوی فائدہ حاصل کرنے تک مقید رہتے۔۔ ایسے پیروں کا کام کاروبار میں ترقی دلانے، پسند کی شادی کرانے اور بچے پیدا کرانے تک محدود ہوتا ہے۔۔بہرحال، سچا پیر مل جائے تو آپکے ذہن میں اسکی ذات اورافکارسے متعلق جتنے سوالات ہیں، سب کی تسلی کر لیں۔۔ یاد رکھیں بیعت کے بعد اعتراض کی گنجائش نہیں رہے گی کیونکہ آپ خود کو بیچ چکے ہونگے۔۔ بیعت کے بعد بندہ اعتراضات کی کھوج لگاتا پھرے تو گویا اس نے بیعت توڑ دی۔۔'سر، میرا ایک سوال ہے، جب قرآن و احادیث، سنتِ رسول ﷺ اور سنت صحابہ کرام ہمارے پاس موجودہیں تو پھر کیا ضرورت ہے کہ کسی اور کی پیروی کی جائے؟ ہم خود بھی تو عمل کر سکتے ہیں ناں'۔۔ گڈ کوئسچن۔۔ اسکا جواب انشاء اگلے لیکچر میں۔۔ تب تک آپ پچھلے ڈیسک پر بیٹھی محوِ خواب طالبہ کے خراٹے انجوائے کریں۔۔ سونہڑے رب دے حوالے۔۔!!

Labels:

تصوف - 13 (خالق سے مکالمہ)

تصوف - 13
:::::::::::::::
یہ بتائیں کہ کبھی آپ نے اپنے خالق سے گپ شپ کی ہے؟
'گپ شپ، اور خالق سے، یہ کیسے ہو سکتی ہے سر؟'
اسکا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے دل و دماغ میں کوئی سوال اُٹھائیں ، اور پھر اسے اپنے خالق کے دئیے ہوئے 'یوزر مینول' پر پیش کردیں۔۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ خالق سے کمیونیکیشن کیلئے اپنے قلب کی فریکونسی ایڈجسٹمنٹ کریں تاکہ سگنلز وصول ہو سکیں۔۔فی الحال ہم پہلا طریقہ آزماتے ہیں۔
آپ کو یہ ہرگز نہیں سوچنا چاہئے کہ آپ اپنے خالق سے کوئی سوال کریں اور وہ اسکا جواب نہ دے۔۔ کیونکہ جس نے آپکو تخلیق کیا ہے وہ آپکی ہرسوچ سے واقف ہے، آپکی مکمل نفسیات جانتا ہے۔۔ مثلاًمیں نے قرآن کی ایک آیت پڑھی۔۔ پھر بے تکلف ہو کرسوال پر سوال کرتا چلا گیا۔۔ دیکھئے کہ میرے مالک نے کس طرح مجھےتسلی بخش جوابات عنایت فرمائے۔
میرے رب نے فرمایا: فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ (البقرہ : 152) "پس تم میرا ذکر کرو، میں تمہارا ذکر کروں گا"
پوچھا: یا اللہ آپکا کتنا ذکر کروں ؟
فرمایا: يٰا يُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًا (الاحزاب : 41) "اے اہل ایمان، اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو"
پوچھا: یا اللہ کتنی کثرت سے؟ دن رات میں ہزار بار؟ دس ہزار بار؟ یا دس لاکھ بار؟؟

فرمایا: وَّسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا (الاحزاب : 42) "اور میری تسبیح کرو صبح شام (یعنی ہروقت)"
پوچھا: یا اللہ کن الفاظ سے یاد کروں ؟۔فرمایا: وَاذْكُرِاسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ اِلَيْهِ تَبْتِيْلًا (المزمل : 8 ) "اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو اورہر طرف سے کٹ کر اسکی طرف متوجہ ہو جاؤ "
پوچھا: یا اللہ دنیا کے اتنے زیادہ بکھیڑوں میں پھنسا ہوا ہوں، کیسے ممکن ہے کہ میں آپ کو اتنی کثرت سے یاد کروں ؟ کیسے ممکن ہے کہ آپ کے نام کی اتنی زیادہ تکرار کروں کہ دنیا سے ہی کٹ جاؤں ؟
فرمایا: لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا (البقرہ : 286) "اللہ تعالی کسی شخص کو اسکی وسعت (حیثیت) سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتے"۔پوچھا: یا اللہ آپکا یہ حکم صرف مجھ کمزور کے لیے ہے یا پہلے بھی کسی نے آپ کا اتنی کثرت سے ذکرکیا ہے کہ ہَمہ وقت آپکی یاد میں مشغول رہا ہو ؟
فرمایا: ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ (زمر : 23) "پس ان (صحابہ کرام رض) کی جِلدیں اور قلوب ذکراللہ کرنے لگے"
پوچھا: یا اللہ میری زبان میں اتنی طاقت کہاں کہ میں آپکا ذکر اتنی شدت سے کر سکوں کہ وہ جِلد اور قلب تک کو ذکر کرا دے۔ کوئی طریقہ ارشاد فرمائیے ۔
فرمایا: وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَةً وَّدُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ (الاعراف : 205) "اور اپنے رب کا ذکر اپنے دل ہی دل میں کرو، عاجزی اورخوف سے اوراونچی آواز کے بغیر،صبح وشام (ہمہ وقت) اور غافلوں میں سے نہ ہونا"

صَاحبانِ دانش ۔۔!! ذراسوچئے !! کہ اللہ پاک کا ہر حکم ماننا انسان پر فرض ہے تو اللہ کے اس حکم کی تعمیل کیسے ممکن ہے ؟یقیناً اللہ کریم کا کوئی بھی حکم ایسا نہیں جس پر عمل ممکن نہ ہو، اور اللہ اپنے حکم پر عمل کے لئے ذرائع بھی مہیا فرما دیتے ہیں، لیکن صرف اس شخص کو، جس کے دل میں حکمِ الٰہی پر عمل کرنے کی خالص طلب پیدا ہو۔۔ کیونکہ عموماً اللہ بے طلب کو ہدایت نہیں دیا کرتے۔ ۔!
آپ فٹ بال کھیلتے ہوئے اپنے بےشعور پاؤں کو ایسی تربیت کرتے ہیں کہ وہ گیند کی حرکت کیساتھ مربوط ہو جاتے ہیں،، جبکہ ہمارا قلب (دل) دیکھتا ہے ، سنتا ہے اور شعوربھی رکھتا ہے تو کیا اسے اللہ کا پاک نام پڑھنے کی تربیت نہیں دی جا سکتی؟؟ الحمد للہ ضرور دی جا سکتی ہے ۔۔ذکرِ قلبی کے حصول کے بعد انسان کی کیفیت کچھ یوں بن جاتی ہے کہ دِل ہر لمحے اللہ کا مبارک نام دہراتا رہتا ہے اور اس قدر دُہراتا ہے کہ واقعتاً گنتی کم پڑ جاتی ہے۔
یاد رکھیں،، عقلمند وہ نہیں جو ہماری ناقص رائے میں عقلمند ہو ۔۔ بلکہ قرآن مجید کے مطابق عقلمندوں کی نشانی ملاحظہ کیجئے ۔۔الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِيٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰي جُنُوْبِھِمْ وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (آل عمران : 191) "وہ جواللہ کا ذکر کرتے ہيں کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (یعنی ہرحال میں) اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں"۔
یہ اور اس طرح کی 700 سے زائد آیات قرآن پاک میں موجود ہیں جن میں بالواسطہ اور براہِ راست ذکرِ کثیر کا حکم دیا گیا ہے۔۔کثرتِ ذکر کے اس قدر واضح حکم کے باوجود بھی اگر ہم کسی وقت یادِ الٰہی سے غافل رہیں تو اللہ پاک کی تنبیہ پہ غور کریں۔۔وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى (طٰہ - 124) "اور جو میرے ذکر(یاد) سے منہ پھیرے گا اس کی (دنیاوی) زندگی تنگی میں رہے گی، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کرکے اٹھائیں گے "۔۔!
تو دوستو ! آپ بھی کسی صاحبِ دل، ولئ کامل کی صحبت میں پہنچ کر اپنے دل کو اللہ اللہ سکھائیے قبل ازیں اس کی یہ دھڑکن خاموش ہو جائے۔۔ان شاء اللہ اگلے لیکچر میں بیعت پر بات ہو گی۔۔دا اللہ پا امان۔۔!!

Labels:

تصوف - 12 (ذکرِ قلبی)

تصوف - 12
::::::::::::::
آپ نماز پڑھیں، قرآن پڑھیں، تسبیحات پڑھیں، اللہ کے دین کیلئے کوئی کام کریں، اپنے خاندان کیلئے حلال رزق کی جستجو کریں، کسی کو اچھی بات بتا دیں، آپکے دل میں اللہ کیلئے کوئی مثبت جذبہ یا سوچ پیدا ہو،، یہ سب اللہ کے ذکر کی مختلف حالتیں ہیں۔۔ان سب کو ہم تین کیٹگریز میں بانٹ لیتے ہیں۔۔ 1: ذکرِ لسانی۔۔ 2: ذکرِ قلبی۔۔ 3: ذکرِ عملی
قرآن مجید میں تینوں اقسام کے ذکر کا حکم ملتا ہے۔۔ آپ نے بچپن میں ایمان مفصل اور ایمان مجمل یاد کیا ہو گا۔۔ اس میں ہے کہ ؛ 'اقرار باللسان و تصدیق بالقلب'۔۔زباں سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل۔۔دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں۔۔ اس تصدیقِ قلبی کیلئے صوفیاء ذکرِ قلبی سیکھنے سکھانے پر زور دیتے ہیں۔۔ اسے ذکرِ خفی بھی کہا جاتا ہے، جو کہ احادیث مبارکہ کے مطابق لسانی ذکر سے ستر گنا افضل ہے، اور اسے فرشتے بھی نہیں سُن سکتے۔۔زبان جوکچھ کہے، اس پر دل گواہی نہ دے تو اسے منافقت کہتے ہیں۔۔دل کے بارے میں آپ پچھلے لیکچرز میں تفصیل سے جان چکے ہیں کہ اس کی کیا حیثیت ہے اور اس میں کتنی پاور ہے۔۔یہ بدن اور روح دونوں کا بادشاہ ہے۔۔ جب دل اللہ کا ذکر کرتا ہےتو اکیلا نہیں کرتا، بلکہ باقی اعضاء کو بھی کراتا ہے۔۔ نتیجتاً ہاتھ سے ظلم صادر نہیں ہوتا،، پاؤں برائی کی طرف نہیں اُٹھتے،، زبان بکواسات نہیں بکتی،،دماغ فساد کی تعبیریں نہیں کرتا،، آنکھ بے حیائی کو دیکھ کر جھک جاتی ہے،، کانوں میں فضولیات پڑیں تو وحشت ہونے لگتی ہے وغیرہ۔۔ یہ کچھ مفید ثمرات ہیں ذکرِ قلبی کے۔
'لیکن سر ، بھلا دل کو اللہ کا ذکر کرنا کیسے سکھایا جا سکتا ہے؟' 
نائس کؤسچن۔۔جواب دینے سے پہلے میں دُہرا دوں کہ آپکا قلب ایک باشعور شے ہے، یہ سنتا ہے، دیکھتا ہے، بول سکتا ہے، محسوس کرسکتا ہے، محسوس کرا سکتا ہے۔۔ اب ذرا اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو دیکھئے۔۔ان میں صرف قوتِ لمس ہے،، اسکے باوجود آپ انہیں ایسا سدھارتے ہیں کہ یہ کی بورڈ کو دیکھے بغیر روانی سے ٹائپ کرلیتی ہیں۔۔ وجہ یہ ہے کہ آپ نے کچھ وقت اور توجہ انکو دی ہے ، اس ٹریننگ سے یہ ٹائپ کرنا اور لکھنا سیکھ گئی ہیں۔۔ اسی طرح کی ٹریننگ کسی ماہر استاد (شیخ) کی نگرانی میں اپنے قلب کو کرائیں تو پھر دیکھیں یہ کیسے اللہ اللہ کرتا ہے۔۔صحابہ کرام پر صحبتِ نبی کریم ﷺ کی برکت کے اثرکی گواہی قرآن پاک میں موجود ہے۔۔'ثم تلین جلودھم و قلوبھم الی ذکر اللہ'۔۔ انکی جِلدیں اور قلوب تک ذکراللہ کرنے لگے۔۔اب مزید سنیں۔۔ قرآن میں اللہ نے ایمان والوں کو کثرتِ ذکر کا حکم دیا ہے۔۔ 'یاایھاالذین آمنو اذکر اللہ ذکرا کثیرا'۔۔ اے مومنو! اللہ کا ذکر کثرت سے کرو۔۔ آپکو پتہ ہے کہ 'کثرت' کتنی تعداد کو کہتے ہیں؟
'سر، جو سب سے زیادہ ہو، کثیر ہو'
جی ہاں،، مثلاً آپ قرآن پڑھیں، تو سارا دن نہیں پڑھ سکتے۔۔ تسبیحات کریں تو ہرلمحہ نہیں کرسکتے، تلاوت سُنیں تو ہر وقت نہیں سُن سکتے، ،لیکن قرآن کہتا ہے کہ؛'  وسبحوہ بکرۃ واصیلا'۔۔ صبح شام اسکی تسبیح کرو۔۔اسکا یہ مطلب نہیں کہ صبح کو ذکر کر لیا اور شام کو کر لیا، اور باقی دن نعرے لگانے میں گزر گیا۔۔ بلکہ صبح شام کا مطلب، صبح سے شام، اور شام سے صبح تک ہے، یعنی ہر لمحہ، Round the clock۔۔اور عقلمند لوگ پتہ ہے کون ہیں؟ 'الذین یذکرون اللہ قیاما ًو قعوداً و علی جنوبھم'۔۔ وہ جو کھڑے، بیٹھے، اور لیٹے (یعنی ہر حالت میں) اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔۔ کثرت تب ہوگی جب دنیا کے ہرکام سے اللہ کا ذکر بڑھ جائے۔۔ یہ کثرت ذکرِ قلبی کے بغیر ممکن نہیں۔۔آپ سو بھی رہے ہوں گے تب بھی آپکا دل اللہ سے غافل نہیں ہوگا۔۔ غفلت تو برسوں کی بھی ہو سکتی ہے، مہینوں کی بھی، منٹوں کی بھی، حتیٰ کہ ایک سیکنڈ کی غفلت بھی غفلت ہی ہے۔۔ مگر اللہ نے غفلت کی کم ترین مقدار سے بھی منع فرمایا ہے۔۔ 'ولا تکن من الغافلین'۔۔ غافلوں میں سے نہ ہونا۔
'سر میرا ایک سوال ہے۔۔ قرآن مجید میں کہیں واضح حکم ہے ذکرِ خفی کا؟'
جی ہاں، آپ ذرا سورۃ الاعراف کی آیۃ نمبر 205 دیکھیں۔۔'واذکر ربک'۔۔ اپنے رب کا ذکر کرو۔۔'فی نفسک'۔۔ دل ہی دل میں۔۔' تضرعا'۔۔ عاجزی کے ساتھ۔۔'وخیفۃ'۔۔ اور خوف سے۔۔'ودُون الجھر من القول'۔۔اور آواز و الفاظ کے بغیر۔۔'بالغدوِّ والآصال'۔۔صبح اور شام۔۔ 'ولا تکن من الغافلین'۔۔اوراہلِ غفلت میں سے مت ہونا۔۔یہ ایک واضح حکم ہے اللہ کریم کا، اور اللہ کسی پر اسکی حیثیت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔۔ یعنی ہم سب کو یہ اہلیت پہلے سے ہی دے دی گئی ہے کہ ہم محنت مجاہدہ کرکے اپنے قلب کو ذاکر بنا سکتے ہیں۔۔ حصولِ ذکرِ قلبی کے بعد آپکی کیفیت یہ ہوگی کہ 'ہتھ کار وَل،دل یار وَل'۔۔ یعنی دنیا کے سارے جائز کام آپ کریں گے مگر دل اللہ کی یاد میں محو ہوگا۔۔ ہر کام میں یہ دھیان ہو گا کہ کہیں میں اللہ کی خلاف ورزی تو نہیں کررہا، کہیں میں سنتِ نبئ محترم ﷺ سے روگردانی تو نہیں کررہا۔۔ بس یہی تصوف ہے، اور اسی کو تزکیہ کہتے ہیں۔۔!!

Labels:

تصوف – 11 ('وحدۃ الوجود' اور 'وحدۃ الشہود')

تصوف – 11
:::::::::::::::
سیدھی سی بات ہے کہ اللہ ایک ہے، واحد ہے۔۔وہ وقت یاد کرو جب کچھ نہ تھا، صرف اللہ تھا۔۔وہ وقت دیکھو جب کچھ نہیں ہو گا، صرف اللہ ہو گا۔۔'لمن الملک الیوم'۔۔کس کی بادشاہت ہے آج؟ ہے کو ئی جواب دینے والا؟بولو ناں۔۔ کوئی نہیں ہے، تو پھر سُنو،اللہ خود ہی جواب دیتا ہے۔۔'للہ الواحد القہار'۔۔اللہ ہی کی بادشاہت ہے، وہ واحد ہے، قہار ہے۔۔وہی اوّل ہے وہی آخر ہے۔۔وہ نظر آکر بھی دکھائی نہیں دیتا۔۔ وہ نظر نہ آکر بھی سامنے ہے۔۔اگر کچھ بھی نہیں ہے،تو بھی اللہ ہے۔۔اس اکیلے نے یہ کائنات تب سجائی تھی، جب یہ کائنات بھی نہ تھی۔۔ایک بزرگ نے کہا کہ میں ہمیشہ خوش رہتا ہوں، اسلئے کہ دنیا کے سارے کام میری مرضی کے مطابق ہو رہے ہیں۔۔ پوچھا گیا ،وہ کیسے؟ جواب آیا، کیونکہ میں نے اپنی مرضی کو اسکی مرضی میں فنا کردیا ہے، یعنی جو اُس کی مرضی وہی میری مرضی۔۔جیسے وہ راضی، ویسے ہی اسکی رضا پر میں راضی۔۔اسی کو کہتے ہیں فنا فی اللہ۔۔ اسی کی تہہ میں بقا کا راز مضمر ہے۔۔یہ ایک کیفیت ہے جو راہِ سلوک میں مقامِ فنا پر حاصل ہوتی ہے۔۔یہاں پر بندے کو اپنا وجود بھی ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔۔فرش عرش، چرند پرند، شجر حجر، بحر بر، سب فنا ، سب ختم۔۔ صرف ایک ہستی باقی ہے۔۔ وہ اللہ ہے۔۔اسکے بعد ہے' بقا باللہ'۔۔ یعنی جو کچھ بھی باقی ہے، وہ اللہ کی وجہ سے باقی ہے۔۔نہیں سمجھ آئی؟۔۔ چلو مزید آسانی سے بتاتا ہوں، لیکن مجبوری یہ ہے کہ صرف بتا سکتا ہوں، دکھا نہیں سکتا۔۔ ہمت ہے تو آؤ اور خود ہی دیکھ لو،، خود دیکھو گے تو سمجھ آئے گی کہ یہ جو دیوار کھڑی ہے، یہ اپنی قوت کی وجہ سے اپنے پیروں پر نہیں کھڑی، کوئی ہے جس نے اسے تھام رکھا ہے۔۔یہ جوسامنے درخت نظر آرہا ہے، یہ اپنی جڑوں کے زور پرنہیں کھڑا، کوئی ہے جس نے اسے سہارا دے رکھا ہے۔۔کون ہے وہ؟۔۔'احد'۔۔'واحد'۔۔
آگے سنو۔۔لطائف کے منور ہونے کے بعد ،، روح میں قوتِ سفر آنے کے بعد،، جب روح قربِ الہٰی کی منزلوں میں محوِ سفر ہوتی ہے تو اس وقت اسے کسی مضبوط شیخ کی ضرورت ہوتی ہے جو روح کو عالمِ امر کے سفر میں De-track نہ ہونے دے۔۔پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ 1۔ شیخ کی توجہ مضبوط نہ ہو، 2۔ یا شیخ بلند منازل کا حامل نہ ہو، 3۔ یا بندہ خود سے ذکرِ قلبی شروع کرکے روحانی سفر شروع کر دے اور روح کی رفتار کو کنٹرول کرنے والا ڈرائیور (شیخ) میسر نہ ہو،، تو روح مقاماتِ قرب میں ادھر اُدھر بھٹک جاتی ہے۔۔پھر تجلیاتِ الہی کو برداشت اور جذب نہیں کر سکتی۔۔ اس جذب نہ کرنے والی کیفیت کو مجذوبیت اور بندے کو مجذوب کہتے ہیں۔۔یہ تصوف میں ایک نقص سمجھا جاتا ہے۔۔ کمال ہوتا توضرور کوئی نبی یا صحابی بھی مجذوب ہوتا۔۔ایک حدیث مبارکہ سنا دوں آپکو: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :' میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو ظرف علم کے محفوظ رکھے ہیں ،،ان میں سے ایک کو تو میں نے تم میں پھیلا دیا، دوسرے کو اگر پھیلاؤں تو میرا حلق کاٹ دیا جائے'۔۔(صحیح البخاری : کتاب العلم)۔۔ یہی کمزوری منصورحلاج کو لاحق ہوئی،وہ برداشت نہ کر سکا ،، زبان کھول بیٹھا،، کہہ بیٹھا کہ 'انا الحق'۔۔ مجھے تو کچھ بھی سجھائی نہیں دیتا۔۔اپنا آپ بھی نظروں سے پوشیدہ ہے۔۔ جو نظر آتا ہے وہی حق ہے۔۔آپ نے سمجھا کہ یہ مجنوں کہتا ہے ،میں خدا ہوں، میرے اندر خدا ہے، میں حق ہوں۔۔ ارے نہیں نہیں۔۔ اسکی قربت کی کیفیت اتنی شدید تھی کہ وہ خود کو ہی مٹا چکا تھا۔۔آپ نے سمجھا کہ یہ مجذوب کہتا ہے کہ خدا میرے اندر حلول کر گیا۔۔ نہیں، غلط سمجھے آپ۔۔ تبھی تو آپ نے اسے سولی پر چڑھا دیا۔۔تختہء دار پر بھی اسکی یہی صدا تھی۔۔ 'انا الحق'۔۔کیسے جھٹلا سکتا تھا اسکو، جس کو وہ اپنے اندر تک محسوس کر رہا تھا۔۔اچھا ذرا بلال رضی اللہ عنہ کو تو دیکھو۔۔ صحرا کی تپتی ریت پربھاری پتھر کے بوجھ تلے دبے پکار رہے ہیں۔۔ 'احد احد'۔۔بدن کی چربی تو پگھل سکتی ہے، مگر جو اندر کی آنکھ دیکھ رہی ہے، اسکو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔۔ صدا جاری ہے۔۔'احد احد'۔۔میرے دوست، جب آپ نے چکھی ہی نہیں ہے تو کیسے جان سکتے ہو۔۔!
اب آخری بات سمجھ لو، پھرچھٹی کرو۔۔ باطن کی یا قلب کی آنکھ سے صوفی کو جب حقائق نظر آتے ہیں تو وہ کہتا کہ یہ سارے وجود وہم ہیں،، دھوکہ ہیں۔۔اصل ذات وہی باری تعالیٰ کی ہے، باقی یہ سارے نقش برآں ہیں، انکی کوئی حیثیت نہیں ہے۔۔ اسی کو صوفیاء نے 'وحدت الوجود' کہہ دیا۔۔ یعنی حقیقی وجود صرف ایک ہے، باقی جتنے وجود ہیں انکا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔۔ لیکن عام آدمی اسے سمجھنے سے قاصر رہا اور لوگوں نے درختوں، پتھروں، جانوروں، وغیرہ کو خدا سمجھنا شروع کردیا۔۔ وحدت الوجود کا تو مطلب یہ تھا کہ ان چیزوں کی کوئی حیثیت نہیں، انکے لئے زندگی ضائع نہ کرو، یہ مقصد نہیں ہیں، اصل مقصد رضائے الہٰی کا حصول ہے۔۔حضرت مجدد الف ثانی ؒ نے لوگوں کی اہلیت دیکھتے ہوئے اس ٹرم کو تبدیل کیا کہ یہ لوگ وحدت الوجود کو تو سمجھ نہیں رہے اور گمراہ ہو رہے ہیں،، اس لئے اسے 'وحدۃ الشہود' کہا جائے۔۔یعنی کہ ہر چیز اسکے وجود کی گواہ ہے،اسکی خلقت اور قدرتِ کاملہ کی شہادت دے رہی ہے۔۔ لہذا اب اسے 'وحدۃ الوجود' کی بجائے 'وحدۃ الشہود' کہا جائے۔۔ کچھ لوگوں نے مانا اور کچھ نے نہ مانا، تو یوں دو مکتبہ فکر بن گئے، دحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود۔۔یہ ایک کیفیت/نظریہ ہے، جس کے دو نام ہیں۔۔!!

Labels:

تصوف – 10 (فیض)

تصوف – 10
:::::::::::::::
آج کا ٹاپک کیا تھا بھلا؟
'فیض'
جی ہاں، کیا یہ وہی فیض ہے جو ٹرکوں اور ویگنوں کے ماتھے پر سجا ہوتا ہے؟۔۔ بابا فلاں کا فیض، داتا صاحب کا فیض، حق باہو کا فیض وغیرہ۔۔ یعنی لوگوں نے یہ سمجھ رکھا کہ ہم چونکہ ان بزرگوں کے نام پر نذر نیاز کرتے ہیں لہذا اب اس کی برکت سے ہماری روزی کُھل گئی ہے۔
'توسر، پھر یہ فیض کیا ہوتا ہے آخر؟'
یہی بتانے لگا ہوں۔۔ شرعی اعتبار سے جس چیز کو فیض کہا جاتا ہے، وہ ہیں برکاتِ محمد رسول اللہ ﷺ۔۔یوں تو اللہ کاکوئی بندہ ہمیں حضور ﷺ کا کوئی جملہ پہنچا دے، تو فیض ہی فیض ہے، نور علیٰ نور ہے۔۔ لیکن بعض صورتوں کیلئے بعض اصطلاحات مخصوص ہو جاتی ہیں، تو یہ لفظ 'فیض' اصطلاحِ تصوّف میں مختص ہو گیا ہے۔۔ اب غور سے سنیں۔۔ قلبی کیفیات کیلئے، باطنی برکات کیلئے، روحانی تجلیات کیلئے،، اس حالت کیلئے کہ جس سے دل میں مثبت تبدیلی آنی شروع ہو جائے اور کسی شخص کا سفر اندھیروں سے روشنی کی طرف، جہالت سے علم کی طرف، محرومی سے معرفت کی طرف اور بے عملی سے عملِ صالح کی طرف شروع ہو جائے، تو اسے 'فیض' کہا جاتا ہے۔۔ جہلاء کے نزدیک فیض مادی اور دنیاوی نعمتوں کا حصول ہے۔۔مثلاً فلاں قبر پر گئے تو اولاد مل گئی، فلاں بزرگ کی فاتحہ دلوائی تو صحت ہو گئی، فلاں پیر کے آستانے پر چڑھاوا دیا تو نوکری مل گئی وغیرہ۔ یہ سارے نظریات غیر اسلامی ، غیر شرعی اور ہندوانہ رسومات سے لئے گئے ہیں۔۔ تصوف کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔۔!
دُعا کرنا بندے کا حق ہےکہ صرف اللہ سے کرے۔۔ ہاں دعا کے مقام سے ضرورفرق پڑتا ہے،، جیسے آپ سڑک پر دعا کریں تو اسکی حیثیت اور ہے،، مسجد میں کریں تو اس میں اور برکات ہو جائیں گی،، کسی اللہ والے کی صحبت میں بیٹھ کر کریں تو اسکی کیفیت کچھ اور ہو گی،، مسجد الحرام یا مسجد نبوی شریف میں کریں تو حیثیت بدل جائے گی۔۔ لیکن دعا بندے کی ہوگی اور اللہ ہی سے ہو گی۔۔ وہ دے اُسکی چاہت، نہ دے اُسکی مرضی۔۔ اس میں کسی صاحبِ قبر کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔۔جہالت کی وجہ سے لوگوں نے فیض کا مطلب 'دنیاوی کاموں میں بہتری' سمجھا ہوا ہے۔۔ بڑی عجیب بات ہے کہ آپ اہل اللہ کی ساری زندگی پڑھ لیں تو آپ کو علم ہو گا کہ اُنکی تمام توجہ آخرت کی طرف ہوتی ہے، یہ اپنے بہترین اوقات اپنے شعبے میں اور اپنی عاقبت سنوارنے پر صَرف کر دیتے ہیں۔۔جب یہ اپنی زندگی مشکلات و مجاہدات کی نذر کرکے، دنیاسے جان چھڑا کر، برزخ (قبر)میں جاتے ہیں تو کیوں وہاں سے اُٹھ کر آپ کے دنیاوی کاموں میں سر گھسیڑیں گے؟
یہ سب اوہام ہیں اور برصغیر میں کچھ زیادہ ہیں،، کیونکہ یہاں کی تہذیب کے ساتھ مل کر اور خصوصاً اکبر اعظم کے عہد میں جو ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ ایک تہذیب بنی تھی، اس نے ایسے اثرات مرتب کئے، کہ بہت سی ہندوؤں کی رسومات اور توہمات ہم میں دَر آئے۔۔ورنہ اسلام بڑا سیدھا سادہ سا مذہب ہے کہ بندے کو اللہ کے روبرو کر دیتا ہے، رب جانے اور اس کا بندہ جانے۔
'سر میرا ایک کوئسچن ہے، ہم یہ فیض کیسے حاصل کر سکتے ہیں، اور کہاں سے ملے گا؟'
ویری نائس۔۔ یہ بات میں پچھلے کسی لیکچر میں بتا چکا ہوں، چلیں پھر مختصر بیان کئے دیتا ہوں۔۔ یاد رکھیں،،نبی کریم ﷺ منبع ہیں تمام انوار و برکات، فیوضات اور تجلیاتِ الہٰی کا۔۔ تمام فیوضات آپ ﷺ کی ذات ستودہ صفات سے منقسم ہوئے۔۔آپ ﷺ کی صحبت میں پہنچنے والے،اور آپ ﷺ کے سینہء اطہر سے فیوضات حاصل کرنے والےلوگ صحابی کہلائے۔۔ اسی طرح صحابہ کرام کی صحبت پانے والا تابعی کہلایا اور تابعی کی صحبت میں آنے والا تبع تابعی کہلایا۔۔ یہ 3 بہترین زمانے (خیر القرون) تھے۔۔ یہاں تک صرف مسلمان ہونا اور صحبت پانا شرط تھی جس سے لوگوں کے قلوب منور ہوئے اور ہر آنے والے کو برکات و فیوضاتِ محمد ﷺ نصیب ہوئے۔۔ خیر القرون کے بعدوقت میں غبار بڑھا،، طلب وہ نہ رہی،، قبولیتِ فیض کی استعداد میں کمی آئی،، آپ ﷺ کے دور سے فاصلہ زیادہ ہوا،، تو اب محنت و مجاہدے کی ضرورت پڑی۔۔ جن خوش نصیبوں نے اپنے قلوب کو کسی اللہ والے کی صحبت میں رہ کر اللہ کے ذکر سے گرمایا، انہیں وہی کیفیات و فیوضات میسر آئے۔۔آپکو یہ بھی بتا چکا ہوں کہ جس طرح علومِ ظاہری (فقہ، حدیث، تفسیر وغیرہ) کیلئے شعبے وجود میں آئے، اسی طرح علومِ باطنی (فیض، برکت) کیلئے سلاسلِ تصوف (نقشبندی، چشتی وغیرہ)بنے۔۔یہ سلاسل آج بھی موجود ہیں اور طالبانِ حق کسی کامل ولی اللہ کی صحبت میں رہ کر ذکرِ الہٰی کے ذریعے فیوضاتِ محمد ﷺ حاصل کر سکتے ہیں اور بحمدللہ کر رہے ہیں۔۔آنے والی کلاس میں ہم وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود پر بات کریں گے ان شاء اللہ۔۔ رب راکھا۔۔!!

Labels:

تصوف – 9

تصوف – 9
::::::::::::::
آپ نے کئی حیاتی پیروں کے سامنے یا مماتی پیروں کے درباروں پر لوگوں کو تڑپتا، ناچتا، مست ہوتا دیکھا ہو گا۔۔کسی کو کوئی خبر ہے کہ یہ سب کیا ہے؟
'سر مجھے تو یہ بہت عجیب لگتا ہے، کبھی میں سوچتا ہوں کہ کیا صحابہ کرام کے زمانے میں یا نبی کریم ﷺ کی بابرکت محفل میں کسی کو اس طرح تڑپنے کی جرات ہوتی ہو گی؟'
ہوں، کوئی اور اس بات کا جواب دے گا؟
'سر، میرا بھی یہی خیال ہے، بلکہ میں نے تو سنا ہے کہ آنحضور ﷺ کی مجلس میں صحابہ یوں دم بخود موجود ہوتے کہ پرندے انکے سر پر بیٹھ جاتے تھے'
کسی اور کے مائینڈ میں کوئی جواب ہوکہ تصوف سے اسکا کیا تعلق ہے؟
'سر، آپ ہی اسکی مزید وضاحت کردیں پلیز'
چلیں میں بتائے دیتا ہوں۔۔ اس میں تین قسم کے گروہ ہیں۔۔ ایک وہ جو شراب وغیرہ پی کر مخمور ہوئے ہوتے ہیں، میلے کچیلے کپڑے اور گندے سندے بال بنائے رکھتے ہیں۔۔ یہ عموماً کاروباری لوگ ہوتے ہیں، جو منشیات کا دھندہ کرتے ہیں، درباروں کو اپنی آماجگاہ بناتے ہیں، اور بیوقوف لوگ انہیں مجذوب سمجھتے ہیں۔۔ مجذوب کی تفصیل میں نے آپکو سابقہ لیکچر میں بتائی تھی۔۔ منتھلی نہ دینے پر پولیس کا چھاپہ پڑ جائے تو یہ خود ساختہ مجذوب رن وے پر جہاز سے زیادہ تیز دوڑتے ہیں۔۔ دوسرے وہ ہوتے ہیں جنہوں نے ہپنا ٹزم اور مسمرزم کا فن سیکھا رکھا ہوتا ہے۔۔ یہ اپنی قوتِ متخیلہ سے لوگوں کے ذہنوں کو ٹریپ کرتے ہیں اور پھر ان سے اپنی مرضی کا کام کراتے ہیں۔۔ تیسرے وہ ہیں جن کے قلوب و اذہان کمزور ہوتے ہیں،، ایسے لوگوں کے دل یا دماغ پر اگر کوئی قلبی توجہ کرنے والا توجہ ڈالے تو یہ برداشت نہیں کرپاتے اور یوں پھڑپھرانےلگتے ہیں جیسے کسی نے انہیں کرنٹ مارا ہو۔۔اس کرنٹ کا اثر مضبوط اعصاب والے شخص پر نہیں ہوتا تو یہ پریشان ہو جاتے ہیں۔۔ اصل میں اس Shock لگانے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ آنے والے کو اپنی اہمیت کا احساس دلا کر متاثر کیا جائے، اور اپنی جماعت کی طرف راغب کیا جائے تاکہ یہ کسی نہ کسی حد تک "دین" سے جُڑا رہے۔۔ یہ تینوں طرح کے لوگ اس تھرتھرانے اور دیوانہ وار ناچنے کو 'وجد' یا 'دھمال' کا نام دیتے ہیں۔۔ وجد ایک کیفیت ہے جو بے خودی اور سرور کا احساس دیتی ہے۔۔ جسکے نتیجے میں بندہ دھمال ڈالتا ہے۔۔ پہلی دو کیٹگریز کو چھوڑ دیں کیونکہ اس سے زیادہ تر جہلاء منسلک ہیں،، تیسری کے بارے میں ' میں آپکو سمجھاتا ہوں کہ یہ کیوں طاری ہوتی ہے۔
اسکی تین وجوہات ہیں۔۔1۔ شیخ کی توجہ اس حد تک مضبوط نہ ہو کہ وہ مرید کو کنٹرول کر سکے،، 2۔ یا شیخ بلند منازل کا حامل نہ ہو،، 3۔مرید کیفیات کو جذب کرنے کی قوت نہ رکھتا ہو
۔یہ تینوں چیزیں تصوف میں کمزوری سمجھی جاتی ہیں۔
اب آگے سنیں۔۔ انسانی روح جب عالمِ امر کی طرف یا اس سے اوپر سفر کرتی ہے تو لازم ہے کہ شیخ انتہائی مضبوط کیفیات اور روحانی قوت کا حامل ہو،، ورنہ یہ ڈرائیور کی سیٹ کسی اپنے سے بلند مرتبہ ڈرائیور کو سونپ دے جو مرید کی صحیح تربیت کر سکے۔۔یہاں چند باتیں غور طلب ہیں۔۔ نبی کریم ﷺ دنیا کے سب سے بڑے شیخِ کامل ہیں، حتیٰ کہ امام الانبیاء ہیں۔۔کسی بھی اُمت کو برکاتِ نبوت اُس اُمت کے نبی کے راستے بطفیل سرکارِ دوعالم ﷺ نصیب ہوتی ہیں۔۔اگر یہ وجد یا دھمال کامل ہونے کی علامت ہوتا تو ضرورکسی نبی علی السلام کو بھی وجد پڑتا۔۔اسی طرح جن اصحاب کرام کی نبی کریم ﷺ نے تربیت فرمائی، ان میں بھی یہ وجد والا نقص نہیں تھا۔۔انبیاء علیہم السلام تو ہمہ وقت کیفیتِ ذکر میں رہتے ہیں۔۔صحبتِ نبی ﷺ کی برکت سے صحابہ کرام کے قلوب سے لیکر انکی جلدیں (Skins) تک ذاکرہوتی ہیں،، اس کے باوجود وہ دنیا کے سارے جائز امور اپنے مکمل ہوش و حواس میں سرانجام دیتے ہیں،، مگروجد میں تو بندہ کسی کام کا نہیں رہتا۔۔ آج بھی جو صوفیاء حضرات صحیح تصوفِ اسلامی پر قائم ہیں ،انکی محفلوں اور صحبت میں آنے والے مریدین تعظیم اور احترام سے انکے قلوب سے فیض پاتے ہیں،، کسی کو نہ وجد پڑتا ہے، نہ کوئی دھمال ڈالتا ہے۔۔ بلکہ یہاں تو حال یہ ہے کہ کم ظرف کا دامن بھی وسیع کردیاجاتا ہے۔۔ جن لوگوں کو وجد یا دھمال کی کمزوری ہو، انکو میرا مشورہ ہے کہ اپنے گھر کی چار اِنچی دیوار یا کسی کنویں کے کنارے بیٹھ کر ذکر کیا کریں،، لگ پتہ جائیگا کہ وجد ہوتا ہے یا نہیں۔۔ اور یہ سارنگی طبلے کی سرسراہٹ پر رقص کرنا یا گھومنا بھی تصوفِ اسلامی کا حصہ نہیں ہے۔
تو دوستو،، آج کے لیکچر کاحاصل یہ ہے کہ وجد ایک روحانی خرابی یا نقص ہے جو کیفیات کو برداشت نہ کرسکنے پر وارد ہوتا ہے، یا آپکا شیخ اونچے مرتبے کا حامل نہیں ہے، کاملین کو وجد نہیں ہوتا۔۔ نیکسٹ ٹاپک ہو گا کہ فیض کسے کہتے ہیں، پھر ہم وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود، قلندر جیسے اہم نظریات کو ڈسکس کریں گے۔۔ رب راکھا۔۔!!

Labels:

تصوف - 8

تصوف - 8
:::::::::::::
'سر روزانہ آپ ہم سے سوال کرتے ہیں، آج ہماری باری ہے'
جی کیوں نہیں، ضرور پوچھنا چاہئے۔
'سر ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ یہ جو ہم روزانہ قرآن حکیم، احادیث مبارکہ، علماء حق کے مواعظ سنتے اور پڑھتے رہتے ہیں، جب ان پر عمل کا وقت آتا ہے تو ہمیں سانپ کیوں سونگھ جاتا ہے؟ ہمارا کردار اسلام کے مطابق کیوں نہیں رہتا؟ ان ساری باتوں کو جاننے کے باوجود ہم برائی کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، ایسا کیوں ہوتا ہے کہ یہ باتیں ہمارے سر سے گزر جاتی ہیں، دل میں کیوں نہیں اترتیں؟'
بہت اچھا کوئسچن ہے آپکا، اب تسلی سے جواب سمجھیں: ایسا اسلئے ہے کہ گناہ کر کر کے ہمارے دل سیاہ ہو چکے ہیں اور نصیحت قبول کرنے سے عاجز ہیں۔۔' کلا بل ران علی قلوبھم ما کانو یکسبون '(سورۃ المطففین) ۔۔ انکے قلب انکے اعمال کی وجہ سے زنگ خوردہ ہو گئے ہیں۔۔ قلب روح کا ایسا پارٹ (لطیفہ) ہے جسمیں سوچنے، سمجھنے، دیکھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت ہے۔۔ زنگ کی کثرت کی وجہ سے دل کی یہ صلاحیتیں ماند پڑ جاتی ہیں اور قرآن کے مطابق دل اندھے، بہرے، ناسمجھ وغیرہ ہو جاتے ہیں۔۔ یعنی بیمار پڑ جاتے ہیں۔۔اسکا علاج اللہ والوں کی صحبت اور کثرتِ ذکر ہے۔۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'لکل شیی صقالۃ و صقالۃ القلوب ذکر اللہ'۔۔ جس طرح ہر چیز کی صفائی کیلئے پالش ہوتی ہے ، اسی طرح دلوں کی پالش اللہ کا ذکر ہے۔۔ کسی ولی اللہ کی سرپرستی اور توجہ میں ذکرُ اللہ کرتے کرتےایک سٹیج ایسی آتی ہے کہ قلب و روح چمک جاتے ہیں، روشن ہو جاتے ہیں۔۔ تب دل اچھی بات کو قبول بھی کرتا ہے، اور آپ سے بخوشی عمل بھی کراتا ہے۔۔ یہاں تک آپکی بات کا جواب ہو گیا، اب میں اسی بات کو جاری رکھتے ہوتے آج کے ٹاپک سے جوڑ تا ہوں۔۔ قلب کو اللہ اللہ کراتے کراتے ایک وقت وہ بھی آتا ہے جب قلب و روح اتنے منوراور پاکیزہ ہوجاتے ہیں کہ بندے کو اس نور میں کئی ایسی چیزیں نظر آتی ہیں جو بدن کی آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔۔ اس قلبی نگاہ کے کھلنے کو کشف کہتے ہیں۔۔ یعنی منکشف ہونا، Disclose ہونا۔۔ان میں دنیا کی اشیاء کی حقیقت بھی نظر آ سکتی ہے اور عالمِ بالا کی اشیاء کی بھی۔۔ لیکن اسکے لئے لازم ہے کہ روح کی اپروچ وہاں تک ہو۔۔روح ایک لافانی، عقلمند مخلوق ہے، سن سکتی ہے، سُنا سکتی ہے۔۔ روح میں قوت ہو تو یہ دوسرے کی روح سے گفتگو بھی کر سکتی ہے۔۔ اور بھی کئی محیر العقول (beyond the common sense of mind) کام ہیں جنکا یہاں اظہار کرنا غیرضروری ہے۔ البتہ عملی طور پر سکھایا جا سکتا ہے، پھر خود ہی سمجھ آ جاتی ہے کہ کیاصحیح ہے اور کیا غلط۔۔ بہرحال، ہم نے سابقہ کلاس میں تفصیلاً یہ جانا تھا کہ بدن کا تعلق عالمِ خلق سے ہے، اورروح کا تعلق عالمِ امر سے ہے۔۔ عالمِ اَمر روح کادوسرا گھر ہے۔۔ لاغر اور کمزور ارواح بدن میں ہی قید رہتی ہیں۔۔ جس روح کو اللہ کے ذکر کی خوراک اور شیخِ کامل کے قلب سے برکاتِ نبوت ملتی رہیں، تو روح کے ساتوں لطائف (پارٹس) روشن ہو جائیں، وہ تگڑی ہو جاتی ہے ، اس میں انرجی آجاتی ہے، اور یہ بدن سے تعلق رکھتے ہوئےاپنے گھر کی طرف جانے میں راحت محسوس کرتی ہے۔۔ اس سفر میں کچھ اسٹیشنز آتے ہیں جن پر یہ تجلیاتِ الہٰی کو جذب کرتی ہے۔۔ اسے پیٹرول یا فیول سمجھ لیں جسکے بعد یہ اگلے اسٹیشن کیلئے قوت حاصل کرتی ہے۔۔ ان اسٹیشنز کو تصوف کی زبان میں 'مقام' کہتے ہیں۔۔ سب سے پہلامقام 'مقامِ احدیت' ہے۔۔ یہ زمین سے پچاس ہزار نوری سال کے فاصلے پر ہے۔۔ کسی کو ہزار زندگیاں نصیب ہوں اور وہ خود سے سفر شروع کرے تو اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔۔ شیخِ کامل اللہ کی مرضی اور اپنی قلبی توجہ سے یہ فاصلہ آنِ واحد میں طے کرا سکتا ہے، بشرطیکہ بندے میں استعداد اور خلوص سے طلب ہو۔۔ ہر مقام کی مخصوص کیفیات، تجلیات اور قرآنی تسبیحات ہیں۔۔ اگلے مقامات معیّت، اقربیّت، دوائرِمحبت وغیرہ سے ہوتے ہوئے فنا بقا اور عالمِ امر تک پہنچتے ہیں۔۔ یہاں سے آگے اللہ کے قرب کی اعلی منازل کی ابتداء ہوتی ہے۔۔ فنا بقا تصوف کی ابجد ہے اور عالمِ امر تک کوئی پہنچا تو سمجھو بمشکل اپنے گھر پہنچا۔۔ یہاں سے اب ترقی کرے گا۔۔ یہ جو باتیں میں آپکو بتا رہا ہوں انکا تعلق کتابی علم سے نہیں ہے،، یہ مشاہداتی علم ہے،، جس کی میں آپکو کوئی لفظی دلیل اور ثبوت نہیں دے سکتا۔۔ اسلئے اعتراض کرنے والوں سے معذرت۔۔ بس اتنا کہوں گا کہ آپ نے دنیا میں کئی کاموں کو آزمایا ہو گا،، یہ بھی آزما سکتے ہیں۔۔ وقت کا ضیاع سمجھیں تو چھوڑ دیجئے گا اور دوسروں کو بھی بتائیے گا کہ جناب یہ سب ڈرامہ ہے، حقیقت سے اسکا کوئی تعلق نہیں،، مگر آپ اس فیلڈ کو خود سے جانیں بھی نہ اور فتوے بھی جھاڑیں تو محترم یہ بڑی زیادتی کرتے ہیں آپ۔۔چلیں چھوڑیں، آگے سنیں۔۔ کشف یہ ہے کہ کسی کو کوئی چیز روحانی طور پر نظر آجائے، یا کوئی بات سمجھائی جائے۔۔ اسمیں شیطان گڑبڑ کر سکتا ہے اور اپنی طرف سے کچھ روشنیاں وغیرہ دکھا کر بات کو غلط interpret کرا سکتا ہے۔۔ اسلئے کشف غلط بھی ہو سکتا ہے اور صحیح بھی۔۔ کسوٹی یہ ہے کہ کشف میں کہی یا بتائی یا دکھائی جانے والی شے اگر شریعتِ نبویﷺ کے متصادم یا خلاف ہے، یا شرعی احکام کے علاوہ کوئی حکم ہے، تو کشف باطل ہے۔۔نبی کا کشف اور خواب دونوں حق ہوتے ہیں، اور امتیوں کیلئے ان پر عمل کرنا لازم ہوتا ہے۔۔ ولی کا کشف اسکی اپنی ذات کیلئے ہوتا ہے، دوسروں پر دھونس جمانے کیلئے نہیں ہوتا۔۔ کشف سے بھی مضبوط تر ایک چیز ہوتی ہے جسے 'وجدان' کہتے ہیں۔۔ اسکی کیفیت کچھ یوں ہوتی ہے کہ نظر تو کچھ نہیں آتا لیکن انتہائی قسم کا قلبی اطمینان نصیب ہوتا ہے، بات دل میں جما اور بٹھا دی جاتی ہے اللہ کریم کی طرف سے۔۔ اس میں شیطان مداخلت نہیں کر سکتا۔

تین باتیں سمجھیں۔۔ 1۔ شیخ کی توجہ مضبوط نہ ہو، 2۔ یا شیخ بلند منازل کا حامل نہ ہو، 3۔ یا بندہ خود سے ذکرِ قلبی شروع کرکے روحانی سفر شروع کر دے اور روح کی رفتار کو کنٹرول کرنے والا ڈرائیور (شیخ) میسر نہ ہو،، تو روح مقاماتِ قرب میں ادھر اُدھر بھٹک جاتی ہے۔۔ پھر تجلیاتِ الہی کو برداشت اور جذب نہیں کر سکتی۔۔ اس جذب نہ کرنے والی کیفیت کو مجذوبیت اور بندے کو مجذوب کہتے ہیں۔۔ ایسا بندہ ہمہ وقت دنیا سے بے نیاز اللہ کی ذات کو پانے کے چکر میں کھویا رہتا ہے۔۔ دنیا کے کسی کام کے قابل نہیں رہتا ،تو آپ اسے مجنوں یا مجذوب کہتے ہیں۔۔ آج کی معلوم دنیا میں شاید کوئی دس بارہ مجذوب ہی ہوں، باقی سب فراڈئیے ہیں جن کا کام بیوقوف عوام کو ٹھگنا ہے۔۔انواراتِ الہٰی کو جذب نہ کر سکنا، یا مجذوب ہو جانا ایک روحانی نقص ہے، کوئی کمال نہیں ہے۔۔ اگر یہ کمال ہوتا تو ضرور کوئی صحابی بھی مجذوب ہوتا۔۔ !

اس ٹاپک سے متعلق چند اہم باتیں سمجھنا بہت ضروری ہے۔۔ آپ کسی آفس میں کام کرتے ہیں اور کمپنی کا مالک تنخواہ کے علاوہ اپنی مرضی سے آپکو کبھی کوئی بونس دے دیتا ہے۔۔اب اگر آپ تنخواہ کو چھوڑ کر بونس کے چکر میں پڑ جائیں ، جو کہ مالک کی مرضی پر ہے کہ دے یا نہ دے، تو آپکو کوئی سمجھدار نہیں کہے گا۔۔ تصوف کا اصل مقصد رضائے الہٰی،ظاہری باطنی پاکیزگی (تزکیہ) اور انتہائی خلوص سے شریعت پر عمل کرنا ہے۔۔ اس سفر میں کشف یا وجدان بطور بونس ہے، جو مل بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔۔ جو لوگ صرف کشف یا ماوراءالعقل کاموں کیلئے اس گھاٹی کا رُخ کرتے ہیں وہ ہمیشہ خسارے میں رہتے ہیں کیونکہ انہوں نے غیراللہ کی طلب میں ساری محنت کی، جو کسی فائدے کی نہیں، بلکہ ایمان کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔۔ تصوف میں اسے شرک کہا جاتا ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر کسی اور شے کی جستجو میں لگ جانا۔۔کشف اسلئے نہیں ہوتا کہ فلاں کی گائے چوری ہوگئی، فلاں کا بیٹا لاپتہ ہو گیا، فلاں کا کاروبار چلے گا یا نہیں، فلاں کا بیٹا پیدا ہو گا یا بیٹی۔۔ یہ سب چیزیں پیشہ وروں اور نجومیوں کی دلچسپی کی ہیں، تصوف کا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔۔ کشف یا وجدان گناہ اور حرام سے بچنے کیلئے اللہ کا ایک انعام ہے،، کہ اعمال کی ظلمت اور نورانیت نظر آجاتی ہے اور بندہ چوکنا ہو جاتا ہے۔۔جو لوگ باطنی طور پر کمزور ہوتے ہیں انہیں اللہ کریم یہ کھلونے بہلانے کیلئے دیتے ہیں، کہ چلو لگا رہے گااور میرا نام لینا نہیں چھوڑے گا ۔۔ جو لوگ روحانی یا باطنی طور پر Strong ہوتے ہیں ، اور ایمان میں انتہائی مضبوط ہوتے ہیں، انہیں یہ مشاہدات کم ہوتے ہیں۔۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام میں مکاشفات Rare تھے، کیونکہ وہ تعمیرِ فطرت اور عملی زندگی پر زیادہ زور دیتے تھے اور نگاہِ نبوتﷺ کی برکت تھی کہ انکے ایمانی و یقینی لیول کی بلندی کسی مشاہدے کی محتاج نہ تھی۔۔کافی باتیں لیکچر کی طوالت کے خوف سے رہ گئی ہیں جنکو آئندہ نشست میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔۔ تب تک کیلئے اجازت۔۔ اللہ دی امان۔۔!!

Labels:

تصوف -7 سے متعلق سوالات و جوابات

تصوف -  7-1--(الجھن سے سلجھن تک)
 ::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
1۔  بنتِ انصاف پوچھتی ہیں : آپ نے کہا:" حتیٰ کہ آپ وہاں پہنچ جائیں جہاں آپکی روح سے پوچھا گیا تھا، 'الست بربکم' پوچھنے والی ذات اللہ کریم کی تھی کہ بتاؤ، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ آپکی طرف سے جواب آیا: 'بلیٰ'۔۔ بالکل ہیں،، صرف یہی نہیں بلکہ، 'شھدنا'۔۔ ہم گواہی دیتے ہیں۔"۔۔۔ سر مجھے یہ بات بہت عجیب لگتی ہے۔۔مجھے یاد بھی تو نہیں ہے ناں۔۔ پھر اس پہ کیسے ایمان لے آؤں؟
جواب: دو طریقے ہیں ایمان لانے کے۔۔ 1. جو کچھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور قرآن آپکو دیا ہے ان پر من و عن یقین رکھیں کہ ضرور ایسا ہی ہے، چاہے سمجھ آئے یا نہ آئے۔۔ 2. کسی اللہ والے کی صحبت میں اپنی روح و قلب کو  شفاف آئینہ بنا لیں۔۔ پھر اللہ کریم سے دعا کریں کہ وہ آپکو ماضی کا وہ لمحہ دکھا دے۔۔ اسکی مرضی ہو گی تو دکھا دے گا۔۔یوم الست کو ایک سبق دیا گیا تھا انسان کو،، ضروری نہیں ہوتا کہ کمرہ امتحان میں ہمیں وہ سبق من و عن یاد بھی رہے۔۔ امتحان ختم ہو گا تو کتاب کھول کر تسلی کر لیجئے گا۔۔ 
دوبارہ سوال ہوا: کیا آپکو یاد ہے وہ لمحہ؟ اگر آپ نے دیکھ لیا ہے تو میں بھی کوشش کروں پھر؟
جواب: میں پہلے طریقے پر راضی ہوں اور مطمئن ہوں۔۔ اس مقصد کیلئے کوشش کرنا غیراللہ کی طرف کوشش کرنا ہے۔۔ تصوف صرف رضائے الہٰی کی راہ ہے ۔۔ وہ اس راہ میں کیا انعام دیتا ہے، کیا نہیں دیتا، یہ اسکی مرضی۔۔ مگر انعام کیلئے جدوجہد کرنا ذات کی طرف سفر کرنے سے بھٹکا دیتا ہے۔۔!
2۔ خواجہ طاہر محمود صاحب جاننا چاہتے ہیں کہ کیا روح کی بھی بلوغت ہوتی ہے؟ روح بچپن میں کیسی ہوتی ہے اور بڑھاپے میں کیسی؟ بدن چھوڑنے کے بعد روح کا ٹھکانہ کیا ہوتا ہے؟ کیا اہل اللہ کی روحیں متعلقین سے رابطے میں رہتی ہیں؟
جواب: روح پیدائشی طور پر بالغ ہے اور ہمیشہ کیلئے بالغ ہے۔۔  بدن کو یہ عارضی طور پر چھوڑتی ہے پھر لوٹائی جاتی ہے۔۔ بنیادی طور پر یہ سمجھ لیں کہ اسکے ٹھکانے کو یا تو علیین میں ڈھال دیا جاتا ہے یا سجیین میں۔۔ یہ اللہ کی مرضی ہے کہ کسی اہل اللہ کی روح کو وہ کسی سے رابطے کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔۔ بالفرض اگر دیتا بھی ہے تو اسکے متعلقین میں روحانی قوت ہونی چاہئے۔۔!
3۔ ناصر شاہ پوچھ رہے ہیں: اہلِ تصوف حضرات سے مدد مانگنا وہ بھی ان کی غیر موجودگی میں اور پھر مدد کا ملنا۔۔ ہو سکتا ہے؟
جواب:آپ اپنے بھائی کو کہیں کہ میرا فلاں کام فلاں دفتر میں اٹکا ہوا ہے، تم نکلوا دو۔۔ کیا اسے آپ غیر اللہ سے مدد مانگنا کہہ سکتے ہیں؟؟روحانی تربیت کے بعد کسی شخص کی روح میں منجانب اللہ یہ قوت آ جائے کہ آپ دور بیٹھے بندے سے کچھ ڈسکس کر لیں، تو یہ ممکن ہے۔۔ روح ایک باشعور جنس ہے اور یومِ الست کو اسی نے ہی خلافت کو قبول کرنے کا اقرار کیا تھا۔۔ یہ ایک اضافی اور ذیلی چیز ہے جو راہِ تصوف میں حاصل ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔۔ لیکن یہ تصوف کا حاصل، نتیجہ یا مقصد نہیں ہے۔۔ مقصد خلوصِ نیت سے شریعتِ محمدی ﷺ کو اپنا کر اللہ پاک کی رضا حاصل کرنا ہے۔۔ اب یہ اللہ کی مرضی کہ وہ اپنے بندے کو دنیا میں کچھ دے دے یہ دکھا دے۔۔ ان کمالات پر بھروسہ کر کے بیٹھ رہنا یا انکی جستجو کرنا تصوف نہیں ہے۔۔!
4۔ اےبی اعوان کہتے ہیں: سر اسی دل کا ایک فنکشن ھے تجلیاتی لہریں پیدا کرنا جن میں خیالات بدلنے کی اور اپنی سوچ کو ھزاروں میل دور بیٹھے شخص کو بغیر بات چیت کے پہنچانا۔ فرض کریں ھمارا جسم لطیف کام کرنا چھوڑ چکا ھے اور جسد خاکی بھی کسی کام کا نہیں رھا لیکن باوجود اسکے پھر بھی تجلیاتی لہریں کام کر رھی ھیں ان لہروں کے ایفکٹس ایک ایسے شخص پر کام کر رھے ھیں جسے ھم جانتے تک نہیں. یہ کیسے ممکن ھے؟
جواب: خیالات بدلنا تصوف کا نہیں مسمرزم اور ہیپناٹزم کا فنکشن ہے۔۔ جسمِ لطیف کام نہیں چھوڑتا۔۔ اسکی موت سے مراد ظلمت اور سیاہی کا انتہا درجے میں پیدا ہونا ہے اور زندگی سے مراد نورانیت کی وافر مقدار کا ہونا ہے۔۔ نور ہو یا ظلمت، ماحول کو کسی حد تک متاثر ضرور کرتی ہے۔۔ کبوتر بازوں کے ساتھ بیٹھنا شروع کر دیں تو چند دن بعد آپکو بھی کبوتر بازی کی لت لگ جائیگی۔۔ اللہ والوں کی محفل میں بیٹھیں تو دل اللہ کی طرف مائل ہو گا۔۔!

Labels:

تصوف – 7

تصوف – 7
::::::::::::::
ہر چند کہ یہ ایک Conceptual لیکچر ہے، مگر نئےطلباء کیلئے بھی یکساں مفید ہوگا۔۔ ایکسکیوز می، مس لاسٹ بینچ،، ابھی لیکچر شروع نہیں ہوا اور آپ نے اونگھنا شروع کر دیا۔۔ جائیں اور منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر آناً فاناً واپس آئیں۔۔جب تک میں باقی طلباء سے گپ شپ کرلوں۔۔ پیارے دوستو، یہ تو آپکو معلوم ہو گیا کہ انسانی جسم کے دو حصے ہیں۔۔ بدن اور روح۔۔ بدن چونکہ کثیف ہے، اسلئے اسکے پارٹس کو دیکھا اور چھوا جا سکتا ہے۔۔ روح لطیف ہے، اسلئے اسکے پارٹس کو ظاہری آنکھ سے دیکھا نہیں جا سکتا اور نہ ہی یہ Touchable ہیں۔۔ بدن کے اعضاء کی ترکیب اور علاج کا علم اس شعبے کے ماہرین کو ہے اور ہم انکی تحقیق اور علاج پر بھروسہ کرتے ہیں۔۔اس طرح روح کے اجزاء کی ترکیب اور علاج کا علم روح کے ماہرین کو ہے اور ہم انکی تحقیق پر مطمئن ہیں۔۔ ہاں، اگر آپکو اللہ کریم قلبی نگاہ نصیب کرے تو آپ بھی اپنی تسلی کر سکتے ہیں۔۔' مے آئی کم اِن سر'۔۔ یس پلیز، امید ہے نیند اُڑ گئی ہو گی۔۔!اس سے پہلے کہ میں آپ سے کوئی سنجیدہ سوال کروں، میرے علم میں ہونا چاہئے کہ آپ عقلمند ہیں، بالغ ہیں، باشعور ہیں اور سوال کابالکل درست جواب دے سکتے ہیں۔۔دوسری صورت میں مجھے آپ سے کوئی اہم بات نہیں پوچھنی چاہئے۔۔ کیا آپ ایگری ہیں؟ 'یس سر'۔۔ اچھا اب اپنی ذات کو اپنے مکمل شعور کیساتھ پیچھے لے جائیں، بہت بعید ماضی میں، ذرا اور دور۔۔ حتیٰ کہ آپ وہاں پہنچ جائیں جہاں آپکی روح سے پوچھا گیا تھا، 'الست بربکم' پوچھنے والی ذات اللہ کریم کی تھی کہ بتاؤ، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ آپکی طرف سے جواب آیا: 'بلیٰ'۔۔ بالکل ہیں،، صرف یہی نہیں بلکہ، 'شھدنا'۔۔ ہم گواہی دیتے ہیں۔۔معلوم ہوا کہ ہماری روح عاقل ہے، بالغ ہے، باشعور ہے اور خلافتِ الہٰی کی ذمہ داری اپنی مکمل ہوش و حواس میں قبول کی تھی۔۔اب ہوا یوں کہ موجودہ عالمِ امتحان میں روح کو بدن کے ماتحت کیا گیا۔۔ یعنی روح کو سوار اور بدن کو میٹرو بس بنا دیا۔۔ غور کریں کہ یہ کیسی عجیب کمپوزیشن بن گئی کہ بدن کوتو اِرتقائی منازل سے گزر کر بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھانے کی دہلیز تک آنا تھا،، جب کہ روح پیدائشی طور پر صحت مند اور سمجھدار تھی۔۔آپکو پتہ ہے کہ جو با عقل ہو، اسکی خصلت ہوتی ہے کہ وہ حق پر رہے۔۔ اور آپکو یہ بھی علم ہے کہ سب سے بڑا حق کیا ہے؟ ۔'اسلام'۔۔ جی ہاں، اسلام ہی حق ہے،، اسلئے ہربچہ جسمانی طور پر پیدا ہوتے ہی فطرتِ اسلام پر ہوتا ہے،، کیونکہ فطرت کا تعلق روح سے ہے، بدن سے نہیں۔۔یہاں تک جس کو سمجھ نہیں آئی وہ برائے مہربانی دوبارہ اوپر والی لائنز پڑھ لے ،پھر ہم آگے چلتے ہیں۔۔ اوہو، شور نہ کریں، دل میں پڑھیں۔۔!توجہ رکھیں،، جس طرح بدن کےکچھ اعضائے رئیسہ ہیں،، مثلاً دل، گردہ، پھیپھڑا، جگر، آنکھ، دماغ وغیرہ،، اسی طرح روح کے پارٹس کو لطائف کہا جاتا ہے۔۔ علماء ربانیین کا اجماع ہے کہ پانچ بنیادی لطائف ہیں، جنکے نام یہ ہیں۔۔ قلب، روح، سری، خفی، اخفاء۔۔ اسکے علاوہ ایک لطیفۂ نفس ہے اور ایک سلطان الاذکار۔۔ سکون اور ٹینشن کا تعلق قلب سے ہے، قلب پریشان ہو تو دماغ کو بھی وختہ پڑا ہوتا ہے۔۔قلوب کے اطمینان کیلئے قرآن پاک نے جو نسخہ بتایا ہے وہ ہے، اللہ کی یاد۔۔جتنا جتنا اللہ کےذکر میں کھوتے جاؤ گے،، اتنا ہی دنیاوی مصیبتیں بھی آپکو مزہ دیں گی۔۔ اچھا، کسی نے کلام باھوؒ پڑھا ہو تو اس میں انہوں نے یوں فرمایا ہے،،جنہاں عشق حقیقی پایا ،مونہوں نہ کجھ اَلاون ھو --ذکر فکر وچ رہن ہمیشہ ،د م نوں قید لگاون ھو -- قلبی روحی سری خفی اخفا لطائف کماون ھو--قربان انہاں توں باہو جہیڑے عکس نگاہ جگاون ھو۔۔۔اسی طرح مجدد الف ثانیؒ ، شاہ عبد القادر جیلانیؒ،شیخ علی ہجویریؒ ، مولانا اللہ یار خانؒ، اور دیگر صوفیاء کی کتب میں لطائف کی وضاحت اور انکے فنکشنز پر سیر حاصل بحث موجود ہے۔۔ان کا حاصل، جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ جس طرح ہم بدن کے ہر عضو کی نگہداشت کرتے ہیں، ڈاکٹر کو چیک اپ کرواتے رہتے ہیں، وہ بیماری کی نوعیت کے مطابق دوا تجویز کرتا ہے، تو متعلقہ حصہ اپنا کام ٹھیک سے کرنے لگتا ہے۔۔اسی طرح روح کے اعضاء (لطائف) میں بیماری یا فالج کی صورت میں انکا منفی اثر انسانی نفس ، ضمیر اور مزاج پر پڑتا ہے۔۔ مثلاً نفس رشوت لینے کا عادی ہے، بد نگاہی میں مبتلا ہے، غیبت میں مزہ آتا ہے، عریانیت کو فیشن سمجھتا ہے ، وغیرہ،، تو اس سے مزاج بے دین ہو جاتا ہے، نیکی میں دل نہیں لگتا، اور ضمیر صاحب کی موت واقع ہو جاتی ہے، وغیرہ۔۔نگاہوں کے سامنے چونکہ دنیا کی راحتیں زیادہ ضروری ہوتی ہیں اور نفس بھی حرام کھا کر ہٹا کٹا ہو گیا ہوتا ہے، تو یہ روحانی اوصاف پر غالب آ جاتا ہے۔۔اب روح تو بیمار ہو کر بسترِ مرگ پر پڑی ہے، اور نفس صاحب گانے سن کر مزے لے رہے ہیں، جھوم رہے ہیں۔۔ اور پتہ ہے اس نفسانی لطف کے بارے میں یار لوگ کیا کہتے ہیں؟ ۔'واقعی بھئی موسیقی توروح کی غذا ہے،، دیکھو کیسی چس آتی ہے جب لتا اور نصرت فتح کے سُر کانوں میں رس گھولتے ہیں'۔۔ نادانوں کو یہ نہیں پتہ کہ نفس کی خوشی اور روح کی تازگی میں کیا فرق ہے۔۔ روح کی غذا تو اللہ کا ذکر ہے۔۔نفس مضبوط ہو جائے تو وہ اللہ کے ذکر والی غذا کو بھی بد ہضمی بنا دیتا ہے اور پھر آپ کہتے ہیں کہ ہمیں نماز میں مزہ نہیں آتا۔۔۔۔!اب ان تمام بیماریوں کے علاج کی فکر لے کر جب ہم کسی روحانی فزیشن کی خانقاہ پر جاتے ہیں تو وہ تشخیص کرتا ہے، اور علاج تجویز کرتا ہے۔۔ یہاں بطور علاج ہی اسکی قلبی توجہ بھی انتہائی اثر رکھتی ہے۔۔ 'سر میرا ایک کؤسچن ہے یہاں، کہ یہ قلبی توجہ کیا ہوتی ہے؟'۔۔ عمدہ سوال اٹھایاآپ نے۔۔ یہ وہی کیفیات، برکات اور انوارات ہیں جو اس قلب سپیشلسٹ نے سینہ بہ سینہ نبی کریم ﷺ سے حاصل کئے ہیں، اور اب آپکے دل میں انڈیل رہا ہے۔۔ یہ دل کی سیاہی کیلئے انک ریموور کا کام کرتے ہیں۔۔اور نتیجے میں آپکا نفس کمزور ہوتا ہے، ، عبادت کرنا خوشی بن جاتا ہے، جب لطائف پر اللہ کے ذکر کاا سپرے کیا جاتا ہے تو ان میں موجود امریکی سنڈیاں اور انڈین جڑی بوٹیاں مرجھا جاتی ہیں۔۔ اور ایمان کی مضبوطی، دین پر استقامت، گناہ سے نفرت اور اطاعتِ الہٰی کی محبت کے نایاب پھول ناصرف آپکے چمن کو مہکاتے ہیں بلکہ آپکے اردگرد کے ماحول میں بھی خوشبو پھیلا تے ہیں۔۔یہی تصوف ہے، اور اسی کو تزکیہ کہتے ہیں۔۔!!۔۔اگلی کلاس میں ہم دیکھیں گے کہ القاء، الہام، کشف، وجد، وجدان، استدراج، دھمال وغیرہ کیا ہیں اور ان کا تصوف ِ اسلام میں کیا مقام ہے۔۔ہو گئی چھٹی،، نعرے لاؤ ۔۔ دا اللہ پا امان۔۔!!

Labels:

Saturday, June 27, 2015

تصوف – 6

تصوف – 6
:::::::::::::
بہت ہی اہم ٹاپک ہے آج کا،، اس لیکچر میں آپکی توجہ ذرا سی بھی اِدھر اُدھر ہوئی تو ککھ سمجھ نہیں آنی۔۔ اسلئے سارے خیالات کو کچھ دیر کیلئے کلاس سے باہر رکھ دیں اور چھٹی کے بعد اٹھا لیجئے گا۔۔ پچھلے دنوں حاجی عبد الشکور صاحب بوجۂ ہارٹ اٹیک انتقال فرما گئے۔۔ مرنے سے چند لمحے پہلے دوست احباب ،خاندان والے انہیں حاجی صاحب ، بھائی صاحب کہہ رہے تھے۔۔ مرنے کے بعد کہنے لگے میت کو نہلا دو، میت کوکفن دو۔۔ کیا ہوا بھئی؟ ابھی تھوڑی دیر پہلے تو ابا، خالو، چاچا پکار رہے تھے، اور اب میت میت کہنے لگےہو۔۔جو کچھ ملکیت تھا، اب وراثت ہو گئی، نکاح ٹوٹ گیا، بچے یتیم ہو گئے۔۔ کیوں جی؟ پڑے تو اب بھی آپکے سامنے ہیں،کس چیز کی کمی ہو گئی کہ ابو سے میت بن گئے؟ ہاں جی، وہی اصل مٹیریل تھا جو چلا گیا، اب پیکٹ ہی باقی رہ گیا، جسے آپ مٹی میں دفنا دیں گے، بد بو کے خوف سے۔۔اب آگے سنیں،، انسانی جسم کے دو حصے ہیں، روح اور بدن۔۔روح کی مثال بدن میں ایسی ہے جیسے پھول کی پتی میں پانی ہو،، یعنی بدن کے ہر خلیہ میں روح کا نفوذ ہے۔۔روح ایک invisible اور untouchable شے ہے، یعنی ایک لطیف چیز ہے۔۔جبکہ بدن کو دیکھا اور چھوا جا سکتا ہے، یعنی یہ کثیف (Denser)شےہے۔۔ اللہ نے دو عالم (worlds) بنائے ہیں۔۔1۔ عالَمِ خلق،، اسکی پیدائش کا سبب مادہ یا matter ہے، اور اسمیں تمام اشیاء و مخلوقات فزیکل وجود رکھتی ہیں، ہمارا بدن بھی مادی ہے اور عالمِ خلق سے ہے۔۔ 2۔ عالَمِ اَمر،، اسکی پیدائش کا سبب اللہ کا اَمر ہے۔۔ روح کا تعلق عالَمِ اَمر سے ہے۔۔' قل الروح من اَمرِ ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلا' ۔۔اب کیوں ہے، کیسے ہے، اسکا ہمیں علم نہیں دیا گیا۔۔!
عالمِ خلق فانی ہے۔جبکہ عالمِ اَمر ابدی اور لافانی ہےاسلئے روح فنا نہیں ہوتی۔۔ اور جس چیز میں یہ روح پھونک دی جائے وہ بھی فنا نہیں ہوتی۔۔ روح اور بدن کا تعلق عارضی طور پر منقطع کیا جاتا ہے جسے آپ موت کہتے ہیں۔۔موت فنا کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اور جہان میں داخل ہونے کا ویزہ ہے۔۔ آپکو پتہ ہو گا کہ بدن کی تخلیق چار چیزوں سے ہوئی ہے۔ ہوا، پانی، مٹی، آگ۔۔ ان چاروں کے ملنے سے انسانی نفس بنتا ہے۔۔یہ نفس چونکہ مادی اور فانی اشیاء سے مل کر بنا ہے،، اسلئے اسکی خواہشات اور ضروریات بھی مادی ہیں، یہ اُن دنیاوی آسائشوں کی طرف رغبت کرتا ہے جس سےمادی بدن کو تسکین ملے۔۔ بدن کو مادی غذا نہ ملے تو بیمار ہوجاتا ہے،علاج کیلئے فزیشن کی ضرورت ہوتی ہے، جو اسکا علاج بھی مادی دوا سے کرتا ہے۔۔ اسی طرح روح کو روحانی غذا (اللہ کا ذکر) نہ ملے تو بیمار ہو جاتی ہے، معالجے کیلئے شیخِ کامل کی ضرورت ہوتی ہے، جو اسکا علاج بھی روحانی دوا(قلبی توجہ اوراللہ کا ذکر) سے کرتا ہے۔۔ بدن کو مسلسل بھوکا رکھا جائے تو مر جاتا ہے، اسی طرح روح کو مسلسل پیاسا رکھا جائے تو یہ بھی مر جاتی ہے اور انسان ایک چلتی پھرتی لاش ہوتا ہے۔۔ ایک حدیث مبارکہ یاد آگئی مجھےجسکا مفہوم ہے:" اللہ کا ذکر کرنے والے کی مثال زندہ اور نہ کرنے والے کی مثال مردہ کی سی ہے"۔۔ یہاں روح کی حیات و موت کا ذکر ہے۔۔انسانی فکر کا نام ضمیر ہے۔۔ اسکا تعلق نفس اور روح دونوں سے ہے۔۔ نفسانی خواہشات بڑھ جائیں یا روح بیمار ہو جائے تو ایسے شخص کی فکر بھی مر جاتی ہے، اور اسے مردہ ضمیر والا کہا جاتا ہے۔۔ضمیر کو زندہ کرنے کیلئے نفس کو دبانا پڑتا ہے اور روح کو جگانا پڑتا ہے۔۔ روح کی نگہداشت کرنے اور اسے صحت مند رکھنے کے شعبے کو تصوف کہا جاتا ہے۔۔جس طرح روح کے بغیر بدن بیکار ہے، اسی طرح تزکیہ ، تصوف اور اخلاص کے بغیر عقائد اور عبادات بے معنی ہیں۔۔!!
مجھے آپکی نیند کا خیال نہ ہوتا تو میں آپکو بتاتا کہ اس میں کتنی زیادہ مزید تفصیل ہے اور اس سے عذاب و ثواب ِ قبر، حشر میں دوبارہ اٹھایا جانا، اور معراج النبی ﷺ جیسے واقعات کیسے آسانی سے سمجھ آتے ہیں۔۔ مگر ہمارا موضوع تصوف تک محدود ہے۔۔آپکو اگر یہ لیکچر اچھی طرح سمجھ آ جائے تو آئندہ نشست میں روح کے اجزاء، لطائف، اور نفس کی اقسام سمجھنے میں بہت سہولت ہو گی، لہذا میرا مشورہ ہے کہ ایک بار اسے دہرا لیں، جس نے نہیں دہرایا، وہ بیٹھا رہےاور باقی طلباء چھٹی کریں۔۔ مگر رکیں، باہر بنچ پر آپکے خیالات کی گٹھڑی رکھی ہے، اپنے ساتھ لے جانا مت بھولئے گا۔۔ اللہ دے حوالے۔۔!!

Labels:

تصوف -5 سے متعلق سوال و جواب

تصوف – 5-1۔۔ (الجھن سے سلجھن تک)
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
1۔ بنتِ انصاف کے کہنے کا مفہوم ہے: یورپ میں تصوف کی جب بات ہوتی ہے تو درختوں اور غاروں میں مشق کا ذکر آتا ہے۔تصوف کی تعریف جنگلوں اور غاروں کے بغیر ادھوری ہے۔
جواب: چلیں اب اسکی وضاحت بھی ہو جائے۔۔ غیرمسلم لوگ مختلف کرتب اور کمالات دکھانے، ہپناٹزم اور مسمرزم کی تربیت حاصل کرنے کیلئے کئی عرصہ تک دنیا سے کٹ جاتے ہیں، کم کھاتے ہیں، کم سوتے ہیں۔۔اس خاص توجہ اور نفس کشی سے ان میں کئی مہارتیں در آتی ہیں۔۔ مثلاْ کئی میل دور بیٹھے بندے سے بات کر لینا،کسی شخص کے خیالات پڑھ لینا،قوت تخلیہ سے ہوا میں معلق ہو جانا وغیرہ۔۔ یہ سب دنیاوی کام ہیں جو مادی ذرائع سے بھی حاصل ہو جاتے ہیں۔ مثلاْ انسان بذریعہ جہاز ہوا میں معلق ہے، پانی پر تیر رہا ہے اور ہزاروں میل دور بیٹھے شخص کو دیکھ رہا ہے۔۔ روحانیت و تصوف کا یہ مطلب نہیں ،بلکہ یہ سیدھا سادا انسان کے کردار کو سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور شریعت کے دائرہ میں لانے کیلئے ایک طریقت یا راستہ ہے کوئی شعبدہ بازی نہیں ہے۔۔ صوفیاء کو روح کی پاکیزگی اور قلب کی شفافیت کی وجہ سے کئی محیر العقول معاملات من جانب اللہ عطا ہوتے ہیں جو لوگوں پر دین کی حقانیت ثابت کرنے کیلئے کارآمد ہوتے ہیں۔۔ یہ عجیب بات نبی کے ہاتھ سے صادر ہو تو معجزہ اور امتی کے ہاتھ سے صادر ہو تو کرامت کہلاتی ہے۔۔ کرامت سے اپنی بڑائی مقصود نہیں ہوتی بلکہ اللہ کی عظمت کو منوانا مقصد ہوتا ہے۔۔تصوف سے جڑے اولیاء اللہ کی کرامات کو دیکھ کر غیر مسلموں نے اپنے یوگا وغیرہ کو بھی غلط طور پر تصوف کہنا شروع کر دیا ہے۔۔ اسکی خاطر خواہ وضاحت پہلی کلاس (تصوف -1) میں ہو چکی ہے۔
2۔ حامد طیبی پوچھتے ہیں: جب اسلامی تعلیمات قرآن وحدیث کی صورت میں موجود ھے ،تو پھر اس سلسلے (تصوف) پہ عمل کرنے کی کیا ضرورت ھے ؟؟؟ ھم اپنے مرشد کی بات تو مان لیتے ھیں مگر خدا اور رسول ﷺ کی نہیں مانتے ۔
جواب:چوتھے لیکچر میں اسکی وضاحت موجود ہے کہ تعلیمات پربخوبی عمل کیلئے برکاتِ نبوت کی ضرورت ہے۔۔ ورنہ عبادات محض ایکٹنگ بن جاتی ہیں اور ان میں نہ خلوص رہتا ہے اور نہ کیفیت۔۔ تزکیہ کیلئے کتابیں پڑھنا کافی ہوتا تو پڑھ لکھ کرہر بندہ ولی اللہ بن جاتا۔۔ قرآن و سنت پر عمل کیلئے ہی تصوف کو اپنایا جاتا ہے۔۔ ہم اپنے مرشد کی بات اس لئے مانتے ہیں کیونکہ وہ اللہ و رسول کی بات بتاتا ہے، انہی کی اطاعت کی بات کرتا ہے۔۔ جو اللہ و رسول ﷺ کی بجائے اپنی پیروی کا درس دے اسے مرشد نہیں کہا جا سکتا۔۔!
3۔ حسن اقبال صوفیاء کی خلوت نشینی سے متعلق فرماتے ہیں: استاذ جی! ہو سکتا ہے بطور علاج بعض بزرگوں نے تنہائی اختیار کی ہو؟
جواب: یہ خلوت نشینی حصولِ توجہ اور کنسنٹریشن پاور کی مضبوطی کیلئے ہوتی ہے۔۔ ضروری نہیں کہ اسکے لیے دنیا سے کٹا جائے۔۔ کچھ وقت مختص کر کے صوفیاء اللہ اللہ کرتے ہیں۔۔ ایک بات اور بھی بتا دوں۔۔ خلوت سے ارتکاز تو ضرور مل جاتا ہے اور یہ لازم بھی ہے،مگر حلقہ میں ذکر اذکار کرنا زیادہ فائدہ مند ہے۔۔ مثلاً  جماعت کا ثواب تنہا نماز سے 27 درجے زیادہ ہے۔۔!

Labels:

تصوف – 5 (قلب کیا ہے؟)

تصوف – 5
:::::::::::::
کل میں نے آپکو دل کے بارے میں بتایا تھا۔۔ یہ ظاہری طور پرایک بلڈ پمپنگ مشین ہے جو پورے بدن میں خون کی صفائی و سپلائی کی ذمہ دار ہے۔۔اسے مسلز کا ایک لوتھڑا سمجھ لیں، جو اُس وقت سے تھرتھراہٹ میں ہے جب ہم ماں کے پیٹ میں تھے۔۔ جس دن اسکی کپکپاہٹ رک گئی، تو سمجھیں وہ آپکی زندگی کا آخری سانس ہو گا۔۔خون ایک ناپاک چیز ہے، اگر جسم سے نکل کر بہہ جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے، کپڑوں کو لگ جائے تو کپڑا ناپاک۔۔ لیکن عجیب بات ہے کہ قرآن مجید کا نزول قلب پر ہوا ۔۔ نزلہُ على قلبك بإذن الله۔۔اور قرآن کو قبول بھی قلب ہی کرتے ہے۔۔إنما المؤمنون الذين إذا ذكر الله وجلت قلوبهم۔۔ جب مومن اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو انکے قلوب دہل جاتے ہیں۔۔اسطرح کی درجنوں آیات ہیں جن میں قلب کی بات کی گئی ہے۔۔ کیا یہ یہی فزیکل ہڑٹ ہے جسکا آئی سی یو میں اپریشن کیا جاتا ہے؟اللہ کریم کی ذات کی وسعت اتنی ہے کہ وہ ساری کائنات میں نہیں سما سکتے، مگر قلبِ مومن میں سما جاتے ہیں۔۔ یہ کونسا قلب ہے؟۔۔ وہ حدیث مبارکہ تو آپ نے سنی ہوگی جس میں اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا تھا: "انسانی جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، اگر وہ ٹھیک ہو جائے تو سارا جسم درست ہو گیا، اگر وہ بگڑا تو سارا جسم بگڑا، سنو، وہ قلب ہے"۔۔جس طرح میڈیکل سائنس نے دھڑکنے والے دل کی مختلف بیماریاں بتائی ہیں، اسی طرح قرآن مجید میں اللہ کریم نے باطنی قلب کی بیماریاں بھی بتائی ہیں اور خصوصیات بھی۔۔ہماری کلاس میں ایک ذاکر نائک تھا، کدھر ہے؟۔۔"یس سر، میں یہاں ہوں"۔۔ اچھا جی، قرآن میں قلب کی 15 ٹائپس بیان ہوئی ہیں، وہ کون کونسی ہیں ؟۔"سخت قلب ، متکبر قلب ، مہر لگا ہوا قلب ، مجرم قلب ، ٹیڑھا قلب،نہ سوچنے والا قلب، زنگ آلود قلب، گناہ آلود قلب، اندھا قلب، بے ایمان قلب۔۔سر،یہ 10 بیمار قلوب تھے، اور 5 صحت مند قلوب یہ ہیں۔۔ دانش مند قلب، لرز اٹھنے والا قلب، ایمان والا قلب، مطمئن قلب اور قلبِ سلیم"۔۔ ویری نائس۔۔اب سنیں ،یہ ان دلوں کی بات کی گئی ہے جن کا تعلق باطن سے ہے۔۔ ظاہر میں تو مومن و کافر کے دل ایک جیسا فنکشن پرفارم کرتے ہیں، لیکن ان کی باطنی حالت مختلف ہوتی ہے۔۔تصوف کی اصطلاح میں قلب ایک لطیفہ ربانی ہے، جسکی وضاحت اگلی کلاس میں ہو گی۔۔ یہ تو ہو گئیں قلب کی اقسام۔۔ اب انکی بیماریاں کون کونسی ہیں؟ بتا سکتا ہے کوئی؟۔۔"سر، میں بتاتی ہوں: قرآن و حدیث میں قلب و روح کی یہ بیماریاں مینشن ہوئی ہیں: شرک، تکبر، حسد، کینہ، بغض، جھوٹ، ریا کاری، ناجائزنفسانی خواہشات ، اللہ سے بے خوفی، یقین کی کمی، بد نیتی، بے چینی، انجانا خوف، بے حسی، نفاق، چغلی ،غفلت، وغیرہ"۔۔ شاباش بہت خوب۔۔اب مجھے یہ سمجھانے میں آسانی ہوگی کہ بیمار قلب کو صحت مند کرنا، مردہ دل کو زندہ کرنا، تاریک دلوں میں نور پھونکنا، بے حس دل کو با ضمیر بنانا، اندھے دل کو بینا کرنا، بے ایمان قلب کو متقی بنا دینا ،،اور اس اصلاحِ قلب کے نتیجے میں غلط عقائد کا صحیح ہو جانا، اعمالِ بد کا صالح ہو جانا، تزکیہ کہلاتا ہے۔۔فارسی میں اسے آپ تصوف کہہ لیں۔۔ تصدیقِ قلبی اور تزکیہ نہ ہو تو بندہ مردم شماری میں تو مسلمان ہوتا ہے لیکن اللہ کی کتاب کے مطابق نہیں ۔۔ خرد نے کہہ بھی دیا لاالہ تو کیا حاصل، دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں۔۔ اللہ پاک نے نبی کریم ﷺ کے قلب و نگاہ میں یہ قوت رکھی تھی کہ آپ ﷺ کی بارگاہ میں ایمان قبول کرنے والے کا آٹومیٹک تزکیہ ہو گیا۔۔ اس کے دل سے تمام بیماریاں ڈیلیٹ ہو گئیں۔۔دوسروں کی جان و مال لوٹنے والے انسانیت کی حفاظت و فلاح کے ضامن کیسے بن گئے؟یہ اثر تھا برکاتِ نبوت ﷺ کا ۔۔آج ہمیں نبی کریم ﷺ کی تمام تعلیمات کا علم ہے، مگر عمل پر دل آمادہ ہی نہیں ہو پارہے۔۔کیوں بھئی، کمی کہاں رہ گئی؟؟ آج ہم میں انہی کیفیات و تجلیاتِ باری تعالیٰ کی کمی ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کے سینۂ اطہر سے صحابہ میں منتقل ہوئیں، پھر تابعین، تبع تابعین سے چلتی ہوئی آج تک بفضل اللہ جاری ہیں۔۔ضرورت ہے اس نگاہِ ولی کی، جو اُن انوارات کی حامل ہو۔۔'قد افلح من تزکی '، ضروروہ فلاح پا گیا جس نے تزکیہ کرلیا۔۔لَکھ ہزار کتاباں پڑھیاں، ظالم نفس نہ مریا ھو،، اور ،نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں،، یہ صوفیاء پریکٹیکل لوگ ہوتے ہیں۔۔ یہ ضرورت پڑنے پر شمشیر اٹھا لیتے ہیں، تاجر بن جاتے ہیں، مزدوری کر لیتے ہیں، حکمرانی کر لیتے ہیں۔۔ صوفی گوشہ نشین نہیں ہوتا۔۔گوشے اللہ نے عورتوں کیلئے بنائے ہیں اور جنگل جانوروں کیلئے۔۔یہ کون سا تصوف ہے جو آبادیوں میں سے بھگا کر پردوں اور جنگلوں میں لے جائے۔۔میں آپکو بتا دوں کہ جن اکابر صوفیاء کے بارے میں آپ پڑھتے ہیں کہ وہ غاروں میں چلے گئے یا چلہ کشی کرنے لگے،، انکو حکومتوں نے دربدری پر مجبور کیا تھا۔۔ صوفیاء کے پاس لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے بادشاہوں کی شہرت داؤ پر لگی تو انہوں نے خوف سے صوفیاء کو جنگلوں کا رخ کرنے پر مجبور کیا۔۔ دوسری وجہ کفر کے فتوے تھے جن کی وجہ سے صوفیاء عوام سے دور رہنے پر مجبور ہوئے۔۔ صوفی گوشہ نشین نہیں ہو سکتا، بھلا خوشبو کسی کونے میں بندہو سکتی ہے؟پھول تو چمن کی زینت ہوا کرتے ہیں، کیا بند کمروں اور کونوں میں گل کھلا کرتے ہیں؟آخر میں ایک پتے کی بات بتارہا ہوں، جسے آپ چاہے نہ مانیں، جن صوفیاء کو عوام سے دوری سہنا پڑی، ویرانی میں جا کر انکا مرتبۂ ولایت اسی سٹیج پر رہا، آگے ترقی نصیب نہیں ہوئی۔۔نیز مجنوں اور مجذوب لوگ جو ہمہ وقت مست رہتے تھے، وہ کون تھے، اور انکا تصوف سے کیا واسطہ تھا،، یہ پھر کبھی بتاؤں گا۔۔ اگلی کلاس روح، نفس اور ضمیر کے موضوع پر ہو گی ان شاء اللہ۔۔ چلو چھٹی کرو۔۔رب راکھا۔۔!!

Labels:

تصوف – 4 (تصوف کی ابتداء اور برکاتِ نبوت ﷺ)

تصوف – 4
:::::::::::::
آج تو کلاس میں خاموشی چھائی ہے، کی گل اے، تھک تے نئیں گئے؟"نہیں سر، آج ہم ہمہ تن گوش ہیں"۔۔ چلیں یہ بتائیں کل مرد حضرات نے  جمعہ پڑھا تھا ، تو خطیب صاحب نے خطبے میں ایک حدیث مبارکہ بتائی تھی، خیر القرون والی، کس کو یاد ہے؟ ۔"سر مجھے"، ہاں بتاؤ شاباش اور ساتھ میں تشریح بھی کر دینا۔۔"جی سر، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:  'خیر القرونِ قرنی'۔ سب سے بہترین قرن (زمانہ/دور) میرا قرن ہے۔۔اس زمانے میں نبی کریم ﷺ موجود تھے اور صحابہ کرام بھی۔۔ 'ثم الذین یلونھم'۔ پھر اس کے بعد والا زمانہ۔۔ یعنی صحابہ کے صحبت یافتہ (تابعین)۔۔ 'ثم الذین یلونھم'۔ پھر اسکے بعد والا زمانہ۔۔ یعنی تابعین کے صحبت یافتہ (تبع تابعین)۔"۔۔ ویری گڈ، بیٹھ جائیں۔۔  آپکو یاد ہو گا  کل ہم نے ڈسکس کیا تھا کہ صحابی ہونے کیلئے صرف نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں بحالتِ ایمان حاضری شرط ہے۔۔یعنی کوئی محنت مجاہدہ نہیں کرنا ہوتا تھا۔۔ صحابہ اس بات کے طالب رہتے تھے کہ کب کون سا حکم ملے، اور ہم فوراً بلا چوں چراں تکمیل کریں۔۔ شاعر نے صحابہ کی تعریف میں کیا خوب کہا ہے، 
ؔخود نہ تھے جو راہ پر، اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی ،جس نے مُردوں کو مسیحا کر دیا
اسی طرح تابعی ہونے کیلئے بالکل یہی شرط تھی کہ بحالتِ ایمان صحابہ کی نگاہ  نصیب ہو جائے۔۔ اور تابعی کی صحبت میں آنے والا مسلمان تبع تابعی ہوتا تھا۔۔یہ تین زمانے خیر القرون تھے۔۔ان میں نبوت کے باطنی علوم (برکات/ انوارات) کی فراوانی تھی۔۔ یہ برکات سینہ بہ سینہ ٹریول کرتی ہیں۔۔ نبی ﷺ کے سینے سے صحابہ کرام کے سینے میں، ان سے تابعین اور ان سے تبع تابعین کے قلوب تک  یہ بغیر مجاہدے و محنت کے فقط صحبت میں بیٹھنے سے حاصل ہو جاتی تھیں۔۔پھر ماحول میں کثافت بڑھنا شروع ہوئی، برائیاں پھیلنے لگیں۔۔ ہر شخص میں وہ صلاحیت نہ رہی کہ تبع تابعین کے قلب سے انواراتِ نبوت ریسیو کر سکے۔۔ہاں جی،  یہاں تک بات سمجھ آ گئی ہے تو آگے چلیں؟  "یس سر"۔۔اچھا، آپکو معلوم ہو گا کہ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے: 'جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اسکے دل پر ایک کالا نقطہ لگ جاتا ہے، جب وہ توبہ کرتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔۔ اگر توبہ نہ کرے اور گناہ کرتا رہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ قلب مکمل سیاہ ہو جاتا ہے'۔۔ آپ میں سےمیڈیکل کے طلباء جانتے ہیں کہ کافر کا دل بھی اسی کلر کا ہوتا جس رنگ کا مومن کا دل۔۔ پھر یہ کون سا دل ہے جو بلیک ہوتا ہے؟ اِدھر اُدھر نہ دیکھیں، میں بتائے دیتا ہوں۔۔  یہ وہی باطنی دل ہے جس کے متعلق اللہ کے نبی ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے: 'ہر شے کو چمکانے کیلئے ایک پالش ہوتی ہے، اور دلوں کی پالش اللہ کا ذکر ہے'۔۔"لکل شیئ صقالۃ و صقالۃ القلوب ذکر اللہ"۔۔معاشرے کے اثرات اور انسانی گناہوں کی وجہ سے دلوں پہ جو گرد جمی، اسکو ہٹانے کیلئے تبع تابعین نے اپنے پاس آنے والوں کی اللہ کے ذکر سے ظاہری و باطنی تربیت کا اہتمام فرمایا۔۔ جو اس محنت کو اپناتا گیا اس کا قلب روشن ہوا اور انوارات کے قبول کرنے کی استعداد پیدا ہوئی ۔۔ تزکیہ نصیب ہوا، اور وہ صوفی کہلایا۔۔ جس طرح نبوت کے ظاہری علوم کیلئے مدارس بنے، کتابیں لکھی گئیں، لوگ مفسر، محدث، مجتہد، فقیہ کہلائے اور فقہ کے چار مشہور مسالک (حنفی، حنبلی، مالکی، شافعی) وجود میں آئے۔۔ بالکل اسی طرح نبوت کے باطنی علوم کےحصول کیلئے خاقاہیں بنی، لوگوں نے لسانی اور قلبی ذکر سیکھا۔۔  یہ تصوف کا شعبہ تھا جس کے چار مشہور سلاسل ( نقشبندی، قادری، چشتی، سہروردی) وجود میں آئے۔۔صحابی ایک ہمہ جہت شخصیت اورمجموعۂ صفات ہستی کا نام ہے۔۔ کیا آپ صحابی کو مفسر یا محدث کہتے ہیں؟ صحابیت تو ان سے کہیں زیادہ بلند مقام ہے۔۔ اسی طرح صحابی کو صوفی کہہ دینا ایسا ہے جیسا آپ فوج کے کسی جرنیل کو کیپٹن یا میجر کہہ دیں۔۔"ایکسکیوز می سر، نبی کریم ﷺ کے زمانے کے بعد تو کوئی صحابی نہ بن سکا،تو کیا آپ ﷺ کے بعد یہ برکات ختم نہیں ہو جانی چاہئیں تھیں؟"۔۔ بیٹااب صحابی تو کوئی نہیں بن سکتا مگر انوارات آج بھی 'سینہ بہ سینہ' جاری و ساری ہیں ، اللہ کے ایسے اولیاء اس زمین کی آج بھی رونق ہیں جو یہ نعمت لُٹا رہے ہیں اور خوش نصیب بندے اپنے دامن کے مطابق سمیٹ رہے ہیں۔۔ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے کہ برکات ختم ہو جائیں۔۔ اسلئے کہ حضور ﷺ کی رسالت کو تاقیامت باقی رہنا ہے، اور رسالت میں آپ ﷺ کی تعلیمات اور برکات دونوں شامل ہیں۔۔خیر القرون کے پاس بھی وہی تعلیمات (قرآن و حدیث) تھیں جو آج آپکے اور میرے پاس ہے، پھر ہمیں عمل کی توفیق کیوں نہیں ہے؟ جبکہ ان کی جان جا سکتی تھی، مگر عمل نہیں چھوٹتا تھا۔۔ہماری ذرا سی طبیعت خراب ہو تو سب سے پہلے نماز چھوڑتے ہیں۔۔آج ٹی وی انٹرنیٹ کے ذریعے جس قدر تعلیمات پھیلائی جا رہی ہیں کیا پہلے ایسا تھا؟ مگر عمل میں وہ ہم سے مضبوط تھے۔۔ جب تک تعلیمات کیساتھ برکات و کیفیات نہیں آئیں گی، بندہ کورا ہی رہے گا۔۔ فقہ پڑھ جائیگا، مفسر اور مفتی بن جائیگا، لیکن اسکا نہ تو کردار مفتیان کرام والا ہو گا اور نہ اسے عبادت کی لذت سے آشنائی ہو گی۔۔ یہ  بالکل ایسا ہے کہ آپ ساری زندگی انار کے جوس کی تھیوری پڑھتے رہیں کہ اس کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے، مگر کبھی جوس پینے کا تکلف نہ کریں۔۔آپ ذرا ماضی قریب کے علماء ربانیین کی سوانح حیات دیکھیں تو وہاں یوں درج ہوتا ہے، 'حضرت نے درسِ نظامی سے فراغت کی سند لی، اور تحصیلِ طریقت (علمِ باطن)  کیلئے فلاں اللہ والے سے تعلقِ ارادت قائم کیا، اور خلیفہ مجاز ہوئے'۔۔ آج کے لوگ تو اس ضرورت کو محسوس ہی نہیں کرتے اور نرے کتابی علم پر قناعت کئے بیٹھے ہیں۔۔!"لیکن سر ،یہ صوفی لوگ تورہبانیت پسند ہوتے ہیں، جنگلوں میں پڑے رہتے ہیں، پھٹے پرانے لباس پہنتے ہیں، گردن میں تسبیح لٹکائے رکھتے ہیں وغیرہ، اسلام میں تو ایسا نہیں ہے ناں"۔۔ بیٹا آج پھر دو طلباء اونگھنے لگ گئے ہیں۔۔ اسلئے اسکا جواب ان شاء اللہ کل، ساتھ یہ بھی بتاؤں کا کہ تزکیہ کا اصل مفہوم کیا ہے۔۔ گڈ بائے۔۔!!

Labels:

تصوف - 3 (فرائضِ نبوت اورمقامِ صحابیت)

تصوف - 3
:::::::::::::
سائلنس پلیز۔۔آج یہ شور کیسا ہے۔۔ ذرا سی دیر کیا ہو گئی، آپ نے کلاس کی چھت کو سر پہ اٹھا لیا۔۔ سمجھدار طلباء کو یہ زیب نہیں دیتا۔۔ اب آپ بچے تھوڑی ہیں کہ آپکو ادب پہ لیکچر دئیے جائیں۔۔ 'سوری سر، آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔'۔۔ ہوں۔۔ دیلڈن۔۔ آج بطور سرزنش میں خود سے سمجھانے کے بجائے آپ سے کچھ پوچھوں گا۔۔ کون جواب دے گا کہ صحابی بننے کیلئے کتنی تعلیم، ہنر ، محنت اور اہلیت کی ضرورت ہوتی ہے؟ اور ساتھ میں یہ بھی بتا دیں کہ صحابیت کیلئے عمر کتنی ہونی چاہئے، صلاحیت کیا ہو اور کس خاندان سے ہونا لازم ہے؟۔۔' سر، میں بتاؤں؟'۔۔ جی بتائیں۔۔ 'سر ویسے یہ کافی عجیب سوال ہے، کیونکہ ایسی تو کوئی شرط نہیں صحابی ہونے کیلئے۔۔ صحابی صحبت سے نکلا ہے، یعنی جو کوئی بحالتِ ایمان نبی کریم ﷺ کی صحبت (مجلس /محفل )میں آگیا، نبی کی نگاہ اس پر پڑی، یا اسکی نگاہ نبی پر پڑی، تو وہ صحابی ہو گیا'۔۔ٹھیک، ، اب یہ بھی بتا دیں کہ کوئی نماز، روزہ، جہاد وغیرہ لازم ہےمقامِ صحابیت پانے کیلئے؟ ۔۔ 'نہیں سر، بنیادی طور پر صحابیت کا منصب اسی لمحے نصیب ہو جاتا ہےجب یہ نگاہوں کا سودا ہوتا ہے،، یہ عبادات مزید انعام ہیں جوبہ خوشی و محبت ادا ہوتی چلی جاتی ہیں،، مثلاً کچھ صحابہ ایسے بھی ہیں جنکی وفات تب ہوئی جب نماز، حج، جہاد وغیرہ فرض ہی نہیں ہوئے تھے'۔۔بالکل درست کہا آپ نے، بیٹھ جائیں،، قبل اس کے کہ میں کچھ مزید وضاحت کئے دوں، یہ جان لیں کہ آج کا لیکچر بہت اہم ہے، اسکو نہایت توجہ سے اٹینڈ کریں، یہ ہماری اگلی نشستوں کیلئے بنیاد ہے۔۔ اب سنیں،، صحابیت ایسا منصب ہے کہ بالفرض دنیا جہان کے تمام چوٹی کے اولیاء، صلحاء، محدثین، اقطاب وغیرہ کے نیک اعمال اور انکے درجات کو مجسم کر دیا جائے، اور انکے رتبوں کا بہت اونچا مینار بنایا جائے۔۔ تو جہاں اس مینار کی چوٹی ہو گی، وہاں سے تبع تابعین کے مراتب شروع ہوں گے۔۔جہاں تبع تابعین کے منازل کی انتہا ہو گی، وہاں سے تابعین کا رتبہ شروع ہو گا۔۔اور جہاں دنیا جہاں کے تمام افراد کے مجموعی رتبے کی چوٹی کا آخری سرا ہو گا، وہاں سے صحابیت کا مقام شروع ہوتا ہے۔۔ سپوز، اگرساری دنیا کے لوگ آج ہی نیک ہو جائیں اور وہ ساری زندگی عبادت میں گزار دیں، تو کسی ایک صحابی کے رتبے تک بھی نہیں پہنچ سکتے۔۔یہاں تک کسی کو کوئی کنفیوژن؟۔'ایکسکیوز می سر ،ایسا کیا سرمایہ تھا ان کے پاس کہ وہ دنیا جہان سے افضل ہو گئے؟ مثلاً ایک صحابی اسلام کے ابتدائی دور میں وصال پا گئے، اب ظاہر ہے انہوں نے نہ ہی اتنی عبادت کی، نہ روزے رکھے، نہ حج کئے، ، آج کے مسلمان ممکنہ طور پر اس سے زیادہ نیکیاں سمیٹے ہوئے ہیں، آج کے مسلمانوں کے پاس علم کی لائبریریاں ہیں، صحابہ کے پاس تو یہ بھی نہ تھیں۔۔ تو پھر ایسا کیوں؟'۔۔ ویری گڈ کؤسچن۔۔اسکا جواب سمجھنے کیلئے آپکو پہلے یہ جاننا ہو گا کہ قرآن مجید کے مطابق نبی کریم ﷺ کی نبوت کے چار فرائض ہیں۔۔
1۔ 'یتلو علیہم آیٰتہ'، تعلیمات پہنچانا—2۔ 'ویزکیھم' ، اور تزکیہ کرنا – 3۔ 'ویعلمہم الکتاب '، اور کتاب کی تعلیم دینا – 4۔ 'والحکمۃ' اور حکمت/دانائی سکھانا— (آل عمران – 164)
 ہر آنے والا شخص اسی ترتیب کے مطابق مستفید ہوتا تھا۔۔ 1۔ سب سے پہلے اس تک اللہ کا پیغام و دین کی تعلیمات پہنچائیں گئیں۔ 2۔ اگر اس نے قبول کر لیں تو اسکا تزکیہ(قلب و روح کو پاکیزہ ) کیا گیا۔ 3۔ پھر اسے قرآن کے احکامات بتائے گئے۔ 4۔ جسکے نتیجے میں اسے دانائی اور معرفت نصیب ہوئی۔۔یہاں سے نبوت کے دو پہلو سامنے آئے۔۔ 1۔ تعلیماتِ نبوت، 2۔ برکاتِ/ فیوضاتِ نبوت۔۔ یاد رکھیں، تصوف / تزکیہ/ سلوک / احسان کا شعبہ نبوت کے دوسرے پہلو سے متعلق ہے۔۔ توجہ ہے ناں سب کی؟ ۔۔ 'یس سر'۔۔ ویل، اب آگے سمجھیں۔۔نبی کریم ﷺ جب کچھ فرماتے ہیں تو وہ صرف الفاظ اور تھیوری نہیں ہوتی، بلکہ اسکے ساتھ کیفیات اور فیلنگز بھی ہوتی ہیں۔۔ نبی کریم ﷺ نے جب فرمایا کہ اللہ ایک ہے، تو جوشخص اس بات پر ایمان لاتا ہے ، اسے نظر تو نہیں آتا ، مگر وہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ اللہ واقعی ایک ہی ہے۔۔ اب چاہے اسے تپتی ریت پر لٹا کر اس پر گرم پتھر رکھ دئیے جائیں، یا اسے ابلتے ہوئے تیل میں ڈالا جائے۔۔ وہ اَحد اَحد ہی پکارتا ہے،، وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ ایک نہیں ہے۔۔اسی حالت کا حصول تصوف ہے۔۔ اس پر ایسی کیفیت وارد ہوتی ہے کہ ظاہری آنکھوں سے دیکھنے سےزیادہ اسے اپنی حیثیت کے مطابق قلبی یقین نصیب ہوتا ہے،، یہی تو احسان ہے۔۔ان فیلنگز کی اصل نوعیت میں آپکولفظوں میں محسوس تو نہیں کرا سکتا، البتہ آپ بطور مثال یوں سمجھیں کہ کوئی استاد آپکو ایک کام کرنے کا کہے، وہی کام آپکے والد کرنے کا کہیں، وہی کام آپکو میں کرنے کا کہوں، اور وہی کام کوئی محلے کا دوست کرنے کا کہے، تو اس کام کو سمجھنے اور ماننے کیلئے آپکے دل میں جواحساس اور جذبہ امڈتا ہے، وہ مختلف لوگوں کی شخصیات کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ جب فرما دیں کہ دیانت داری یہ ہوتی ہے، تو مخاطب مومن کو دیانت داری ایسی سمجھ آتی ہے کہ وہ مجسمِ دیانت ہو جاتا ہے،، یہی تو تزکیہ ہے۔۔یہ کمال تھا محمد رسول اللہ ﷺ کے سینۂ اطہر میں، کہ جوکوئی بحالتِ ایمان اس نورِآفتاب کے سامنے آتا گیا، وہ رنگا گیا، اسکا تزکیہ ہو گیا، وہ قاری نظر آتا تھا، لیکن حقیقت میں قرآن تھا،، وہ چلتا پھرتا مسلمان لگتا تھا ،لیکن اصل میں اسلام تھا۔۔ اللہ کریم کیا فرماتے ہیں قرآن میں صحابہ کرام کی کیفیت سے متعلق۔۔'ثم تلین جلودھم و قلوبھم الی ذکر اللہ'۔۔پھر انکے جلود (کھال/جلد کی جمع) اور قلوب (دل/قلب) اللہ کا ذکر کرنے لگے۔۔ یعنی نہ صرف اسکا قلب منور ہو گیا، بلکہ باڈی سیلز بھی ذاکر ہو گئے۔۔اب اسے آپ قلبِ نبی ﷺ میں موجود انوارات کہہ لیں، برکات کہہ لیں یا فیوضات کہہ لیں ۔۔ ان غیر مرئی سگنلز کا سورس یا منبع نبی کریم ﷺ کا سینہ اطہر ہے، جو ڈائرکٹ ذاتِ باری تعالی سے ریسیو کرتا ہے اور لوگوں میں تقسیم کرتا ہے۔۔ ہر چھوٹا بڑا شخص بہ حالتِ ایمان انکا اہل ہے۔۔'معاف کیجئے گاسر، میرے مائنڈ میں ایک سوال آیا ہے کہ وہ تو صحابہ تھے، براہ راست نبی کریم ﷺ سے مستفید ہو گئے، ہم تک کتابوں کے ذریعے علمِ نبوت تو پہنچ گیا الحمد للہ، ہم بھلا کیسے وہ کیفیات و برکات حاصل کر سکتے ہیں، کیونکہ ہم میں اور آقا علیہ السلام کے زمانے میں تو چودہ صدیوں سےزیادہ فاصلہ حائل ہے، ہمارا کیا بنے گا؟'۔۔ نائس کوئسچن ۔۔ اسکا جواب اگلی نشت پر موقوف کرتے ہیں کیونکہ آپ میں سے تین سٹوڈنٹس کو نیند کا ایک جھٹکا لگ چکاہے۔۔ 'سر، ایک سوال اور بھی رہ گیا کہ صحابہ کرام کو صوفی کیوں نہیں کہا جاتا؟'۔۔بیٹا اب پیریڈ کا ٹائم ختم ہو چکا ہے۔۔زندگی باقی توان شاء اللہ کل ملیں گے۔۔رب دی امان۔۔!!
---------------------------
نوٹ: کچھ معزز طلباء کو بہت ایمرجنسی ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں ساری باتیں ایک ہی پیریڈ میں کلیئر کروں۔ لیکن میرے لئے یہ ممکن نہیں، اور نہ ہی ابھی آپکو سمجھ آئےگی کہ لطائف، مراقبات، قلب، روح، سری، خفی، اخفاء، نفس، کشف، القاء، کرامت، وجدان، وجد، توجہ، مقام، منصب، منازل،بیعت،فنا، بقا، محبت، وحدت، پیری، اور مریدی وغیرہ کیا ہے اور ان کا اسلام سےتعلق ہےبھی یا نہیں۔۔ اسلئے پلیز مجھے آہستہ آہستہ چلنے دیں۔ شکریہ

Labels:

تصوف -2 (تصوف کیا ہے؟)

دوستو، میں نے ایک مرتبہ پہلے بھی آپکو بتایا ہے کہ میرے آنے پر یہ 'کلاس سٹینڈ' اور 'کلاس سِٹ' نہ کیا کریں، مجھے برا لگتا ہے۔۔چلیں بیٹھ جائیں شاباش۔۔ کل کا سبق آپ نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے تو آج مسئلہ نہیں ہوگا۔۔ پتہ ہے لوگ کیا کہتے ہیں؟ وہ جی فلاں نے کہا کہ اللہ والے صوف (اون) کا لباس پہنا کرتےتھے، تو انہیں صوفی کہا جانے لگا اور یوں یہ تصوف بنا۔۔ میں نے کہا، بھئی تب تو رواج ہی موٹے کھدر کا تھا، مشینی دور تو تھا نہیں کہ نرم اور کاٹنی لباس بنایا جا سکے، آج جو بندہ پھٹے اور موٹے کپڑے پہن کر ملنگ بن جائے کیا وہ صوفی ہو جائیگا؟۔۔ فلاں کہتا ہے کہ تصوف صفا سے ہے، یا صفہ سے ہے، یا الصفو سے ہے۔۔ یار چھوڑ دو سب فلانوں کو، اسکا لفظی مطلب کوئی بھی ہو، اس میں شک نہیں کہ یہ دینِ اسلام کا ایک اہم شعبہ ہے۔۔اس کی اساس نیت اور عمل میں خلوص پر ہے۔۔قرآن کریم کا سب سے پہلا ترجمہ فارسی زبان میں ہوا۔۔ جس طرح ہم صلوٰۃ کو اردو میں نماز، اور صوم کو روزہ کہتے ہیں، اسی طرح فارسی میں 'تزکیہ' کو تصوف لکھ دیا گیا، بس اتنی سی بات ہے جس کا بتنگڑ بنا دیا گیا ہے۔۔ اب کوئی آپ سے کہے کہ قرآن و حدیث میں نماز، روزہ ثابت کرو، تو کیا کریں گے آپ؟ تو میری جان، آپ تصوف کو قرآن کے مطابق تزکیہ کہہ دیں اور حدیث کے مطابق احسان کہہ دیں تو آپکی ساری الجھن فِشوں ہو جائیگی۔۔
کون کہتا ہے کہ اس راہِ تصوف/سلوک/تزکیہ/احسان میں ہم سنتِ نبوی ﷺ اور شریعت کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں؟ جنابِ من، اس شعبے کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ ہم پورے اخلاص سے سنت کے مطابق شریعت پر عمل کریں، اللہ سے ذاتی تعلقات قائم کریں ، اسے پرسنلی جانیں ، اور اسکی رضا حاصل کریں۔۔کسی کے کہنے سننے پہ مسلمان نہ بنیں کہ اللہ ایسا ہے، اللہ ویسا ہے،، بلکہ ہمیں خود پتہ ہو کہ اللہ کیسا ہے، کیا چاہتا ہے،،اس سے باتیں کریں، اسکی باتیں سنیں۔۔ ریڈیو کی ٹیونگ درست چینل پہ نہ ہو تو آپ اس چینل کی نشریات نہیں سُن سکتے۔۔ اپنے قلب کی ریسیونگ فریکونسی کو اللہ کے نور و معرفت کی ٹرانسمٹنگ فریکونسی پر ٹیونگ کرنا تصوف ہے۔۔ یہ ہم آہنگی لائف ٹائم کیلئے ہوگی۔۔ دنیا کے سارے جائز کام آپ کریں گے۔۔اپنی نیند بھی پوری کریں گے اور لانگ ٹوور پر بھی جائیں گے۔۔ مگر اس سب کے باوجود کسی ایک لمحے کیلئے بھی آپکی کال آپکے رب سے ڈراپ نہیں ہو گی، یہی تصوف ہے۔۔ صحابہ کرام تاجر تھے، حکمران تھے، مزدور تھے،جرنیل تھے یا سپاہی تھے ،، سوتے تھے یا جاگتے تھے،، ہنستے تھے یا روتے تھے، غرض کسی بھی حالت میں ہوتے تھے، اللہ کا قرآن کہتا ہے 'تراھم رکعا سجدا' تم انہیں جب بھی دیکھو تو رکوع و سجود میں ہوں گے۔۔ کمال ہے، یعنی دنیا کا ہر عمل عبادت بن گیا۔۔ کیسے؟ یہ ہماری اگلی نشت کا موضوع ہو گا۔۔ایک ہوتا ہے عبادت کو زبردستی کرنا، مجبوراً کرنا،، اور ایک ہوتا ہے عبادت کی بھوک لگنا، اللہ کے سامنے حاضری کی طلب و تڑپ ہونا،، یہ جو اپنی دلی مرضی اور خوشی سے اطاعت والی کیفیت ہے، یہی تصوف ہے۔۔ یہ کیسے پیدا ہو گی؟ یہ بھی ہماری اگلی نشت کا ٹاپک ہو گا۔۔ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ صحابہ کو صوفی کیوں نہ کہا گیا اور آج یہ صوفی کہاں سے پیدا ہو گئے ہیں، نیز تزکیہ کے لئے کون کون سے عوامل کی ضرورت ہے۔۔!
کہتے ہیں کہ، بھائی جی یہ تصوف تو بڑا مشکل کام ہے، بڑی مصیبتیں ہیں اس میں۔۔! کیوں جی، کیا آپ نے کر کے دیکھا ہے؟ جس فیلڈ کا پتہ نہ ہو اس میں خواہ مخواہ اپنی رائے گھسیڑنا عقلمندی نہیں میرے دوست۔۔ چند عزیزوں کی نصیحت ہے کہ بڑے گھمبیر اور خاردار موضوع کو چھوا ہے آپ نے، رہنے دیجئے، جانے دیجئے، چھوڑ دیجئے، پھنس جائیں گے۔۔ تو عزیزم آپکی نذر ایک بند۔۔!!
-- کیا کہتا ہے ناصح، لوگو روکو اس دیوانے کو،،
ہم نکلے ہیں سر کٹوانے، یہ چلا سمجھانے کو،،،
دانش مندی اچھی شے ہے، پر سیمابؔ جی بات سنو،،
شمع جلے تو یہ سمجھانا تم جا کر پروانے کو۔۔۔!!
نوٹ: صرف اس پوسٹ سے متعلق کسی لفظ یا بات کی سمجھ نہ آئی ہو تو بلا جھجھک پوچھئے۔

Labels: