Thursday, August 24, 2017

اسلامی اور غیراسلامی تصوف


کوئی انسانی تحریک، خواہ وہ کتنی اچھی کیوں نہ ہو، جب افراط و تفریط اور عمل و ردعمل کا بازیچہ بنتی ہے تو اس کی شکل مسخ ہوئے بغیر نہیں رہتی۔۔ مثلا ہمارے متکلمین نے اسلام کو یونانی فلسفہ کی زد سے بچانے میں بڑی قابلِ قدر خدمات سرانجام دی ہیں،، لیکن آگے چل کر جب علمِ کلام کو شکوک و شبہات پیدا کرنے کا ذریعہ بنا لیا گیا تو یہی علمِ کلام مسلمانوں میں ذہنی انتشار برپا کرنے کا سبب بن گیا۔۔چنانچہ جوابا حضرات علمائے کرام نے علمی و نظری دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا۔۔!

یہی حال تصوفِ اسلامی کا بھی ہوا۔۔ تصوف کی ہمہ گیر مقبولیت اور ہر دلعزیزی دیکھ کر جاہل یا نقلی اربابِ غرض، صوفیوں کے بھیس میں جماعتِ صوفیاء میں گھس آئے اور اپنی مقصد برآری کے لیے شریعت و طریقت میں تفریق کا نظریہ شائع کردیا۔۔ انہی نامعقولوں نے مجاز پرستی، قبرپرستی، وجد و تواجد اور گائیکی کو روحانی ترقی کا لازمی جزو بنادیا۔۔ یہی راہزن تھے جنہوں نے دنیاپرستی سے گریز کو رہبانیت کی شکل دے دی۔۔ مگر ہمیں اس سچ کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ محققین صوفیاء نے ہمیشہ ان گمراہیوں کے خلاف عملی و علمی آواز بلند کی ہے اور ان فاسد عناصر کو تصوف سے خارج کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے ہیں۔۔!

یہ ایک ظلم تھا کہ دین فروشوں نے تصوف کے نام پر عوام کے عقائد سے کھلواڑ کیا۔۔ دوسرا اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ جعلی اور غیر اسلامی تصوف کی بنا پر سرے سے تصوف ہی کا انکار کر دیا جائے اور اسے نوعِ انسانی کے لیے بمنزلہٴ افیون بتایا جائے۔۔ پھر ضد بازی میں یہ نامعقول الزام عائد کیا جائے کہ تصوف زندگی کے حقائق سے گریز کی تعلیم دیتا ہے۔۔ یا یہ کہ تصوف نے مسلمانوں کے قوائے عمل کو مضمحل یا مردہ بنا دیا ہے۔۔ جناب! یہ سراسر بے انصافی ہے اور اسلامی تصوف پر تہمت ہے۔۔!

اس ضمن میں دورِ حاضر کی ایک بدقسمتی ملاحظہ کیجئے۔۔ ہمارے ہاں خود مسلمانوں کا ایک طبقہ جو براہِ راست اسلام اور اسلامی مآثر کا مطالعہ کرنے کی بجائے مستشرقین اور عیسائی مصنّفین کی مستعار عینک سے اسلامی علوم و معارف کو دیکھنے کا عادی ہے،، اسلامی تصوف پر اسی قسم کے بیجا اور غلط اعتراضات کرتا رہتا ہے۔۔ یہ بات حق و صداقت اور انصاف و عدالت سے کس قدر بعید ہے کہ ہدفِ ملامت تو بنایا جائے اسلامی تصوف کو اور قبائح مدنظر رکھی جائیں غیراسلامی تصوف کی۔۔ یعنی کہ دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا۔۔ اسلام کے یہی نادان دوست اپنے اس رویہ سے نہ صرف علم و تحقیق کا خون کرتے ہیں بلکہ لاکھوں بندگانِ خدا کو تصوف کی حسنات و برکات سے محروم کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔!

غیرمتعصبانہ طور پہ پرکھا جائے توصحیح معنوں میں تصوف درحقیقت اسلام کا عطر اور اس کی روح ہے۔۔ دسیسہ کاری سے پاک تصوف کی مستند کتابوں مثلاً قوتُ القلوب از شیخ ابوطالب مکی، طبقات الصوفیہ از شیخ عبدالرحمن سلمی، حُلیۃ الاولیا از ابو نعیم اصفہانی، الرسالۃ القشیریۃ از امام قشیری، کشف المحجوب ازشیخ علی بن عثمان ہجویری، تذکرة الاولیاء از شیخ فرید الدین عطار، عوارف المعارف از شیخ سہروردی، فوائد الفواد ملفوظات شیخ نظام الدین اولیاء، خیرالمجالس ملفوظات شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی، شریعت اور طریقت از مولانا اشرف علی تھانوی، دلائل السلوک از مولانا اللہ یار خان، تعلیمات و برکاتِ نبوت از مولانا محمد اکرم اعوان اور ایسی سینکڑوں کتب کے صفحے کے صفحے الٹ جائیے، صرف زبانی ہی نہیں بلکہ عملاً بھی کتاب و سنت کی تلقین ملے گی اور معتمد طور پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اکابر صوفیاء کے مجاہدات، ریاضات اور مراقبات کی اساس قرآن وسنت کی تعلیمات ہی ہیں اور ان کی پاکیزہ زندگیاں بیشک اسلام کی جیتی جاگتی تصویریں تھیں۔۔!!

Labels:

Wednesday, July 29, 2015

تصوف اور اسکے متعلقات کے بارے میں علامہ ابن تیمیہؒ کا عقیدہ

عام طور پر علامہ ابن تیمیہؒ کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ھے کہ آپ تصوف و صوفیاء کے مخالفین میں سے تھے (بدقسمتی سے بعض اوقات انکے نام لیوا خود ہی اس تاثر کو بڑھاوا دینے کا باعث بن جاتے ہیں)، درج ذیل تحریر اس غلط تاثر کے حوالے سے نہایت چشم کشا ہے۔

تحقیق: مولانا حافظ محمد خان 
تدوین:  بنیاد پرست

''بعض لوگ جو اپنے آپ کو سلفی منہج کی طرف منسوب کرتے ہیں، یہ لوگ تصوف کواسلام کے مقابل اورمخالف ایک الگ مذهب تصور کرتے هیں تصوف کو کفر شرک وبدعت سمجهتے هیں اور بڑے زورشور سے تمام ذرائع نشر واشاعت استعمال کرکے لوگوں کویه باورکراتے هیں که صوفیه اورتصوف کا سلسلہ ایک شرکیه کفریه بدعیه اور خرافات پر مبنی سلسله هے اورصوفیه کرام دین اسلام کے دشمن اور باطل عقائد رکهنے والے لوگ هیں .اوریه بعض لوگ اپنے سلفی منهج کی بنیاد شیخ الاسلام ابن تیمیه رح اوران کے شاگرد ابن قیم رح کی تعلیمات وتحقیقات پر رکهتے هیں اور لوگوں کویه کهتے هیں که ان دو حضرات کا منهج ومسلک قرآن وسنت کے عین مطابق هے لیکن درحقیقت یه لوگ اپنے اس دعوے میں جهوٹےهیں کیونکه شیخ الاسلام ابن تیمیه رح اور ابن قیم رح جن کی تقلیدواتباع کا یه لوگ دعوی کرتے هیں وه تو تصوف اور صوفیه کرام کی تعریف وتوصیف میں رطب اللسان هیں وه تو صوفیه کو ائمه هدی ائمه حق ائمه اسلام کهتے هیں اور ان کی اتباع کو باعث سعادت ونجات سمجهتے هیں. قول وفعل کے اس تضا د کو هم کیاکهیں منافقت یا جهالت یا محض ضد وتعصب ؟ وه تمام امورجن کی وجه سے یه لوگ علماء دیوبند کو اور دیگر صوفیه کو کافرمشرک کهتے هیں وه سب باتیں بلکه اس سے کهیں زیاده ابن تیمیه رح اور ابن قیم رح کی کتابوں میں موجود هیں . مختصرطورپرچند حوالے ملاحظه فرمائیں .

تصوف کے بارے میں ابن تیمیهؒ کی شہادت

سب سے پهلے صوفی کا نام ابو هاشم الکوفی کو حاصل هوا یه کوفه میں پیدا هوئے اور اپنی زیاده زندگی شام میں گزاری اور (160 ھ ) میں ان کی وفات هوئ اور سب سے پهلے تصوف کی نظریات کی تعریف وشرح ذوالنون المصریؒ نے کی جو امام مالکؒ کے شاگرد هیں اور سب سے پہلے جنید بغدادیؒ نے تصوف کو جمع اور نشر کیا۔

صوفی کی تعریف ابن تیمیهؒ کے نزدیک

صوفی حقیقت میں صدیقین کی ایک قسم هے وه صدیق زهد وعبادت کے ساتهہ مشہور هو اس طریقه پر جس پر دیگر صوفیه نے عبادت وریاضت کی تو ایسے آدمی کو اهل طریق کے یهاں صدیق کها جائے گا جیسے کها جاتا هے صدیقوآلعلماء صدیقوآلاُمراء یعنی علماء میں صدیق اور امراء میں صدیق الخ. (مجموع الفتاوى 11ـ 17)

لفظ فقراورتصوف کی تشریح

لفظ فقر اورتصوف میں جوالله ورسول کے پسندیده امور داخل هیں ان پرعمل کا حکم دیاجائے گا ، اگرچہ ان کانام فقر وتصوف هو،کیونکہ کتاب وسنت ان اعمال کے استحباب پر دلالت کرتے هیں لهذا یہ اعمال استحباب سے خارج نهیں هوں گے نام بدلنے کی وجہ سے۰ جیساکہ فقروتصوف میں اعمال قلوب یعنی باطنی اعمال توبہ صبر شکر رضا خوف رجاء محبت اور اخلاق محمودہ یعنی اچہے اخلاق بهی داخل هیں.(مجموع الفتاوى 11ــ 28 ـ 29)

اولیاء الله کی تعریف

اولیاء الله وه مومنین متقین هیں چاهے کوئ ان کو فقیر یا صوفی یا فقیه یا عالم یا تاجر یا فوجی یا کاریگر یا امیر یا حاکم وغیرہ کہے (مجموع الفتاوى جلد 5)

اعمال قلوب کی تشریح

وه اعمال قلوب جن کا نام بعض صوفیہ احوال ومقامات یا منازل السائرین الی اللہ یا مقامات العارفین وغیره رکہتے هیں اس میں سب وہ اعمال هیں جن کو الله ورسول نے فرض کیئے هیں بعض وہ اعمال هیں جو فرض تو نهیں لیکن پسندیده هیں لهذا ان پر ایمان مستحب اور اول پر ایمان فرض جس نے فرض اعمال پر اکتفاء کیا وه اَبراریعنی نیک لوگوں میں سے اور اصحاب الیمین میں سے هے اور جس نے دونوں کو جمع کیا وه مقرّبین سابقین میں سے هے الخ. (مجموع الفتاوى جلد 7 صفحه 190)

ابن تیمیہؒ اور آئمه تصوف کی تعریف وتزکیہ

سالکین میں سے صراط مستقیم پرچلنے والے جیسے جمهورمشائخ سلف میں سے فُضیل بن عیاض اور ابراہیم اَدہم اور ابوسلیمان دارانی اور معروف کرخی اورسِرّی سقطی اورجنید بن محمد وغیرہم رحمہم اللہ هیں یہ سب بزرگ پہلے زمانے کے هیں اور ان کے بعد کے زمانے کے بزرگوں میں شیخ عبدالقادر جیلانی شیخ حماد شیخ ابی البیان وغیرہم هیں . یہ سب بزرگ سالک کیلئے یہ جائز نهیں سمجہتے تہے که وه امر ونهی سے باهر نکل جائے اگرچه سالک ہوا میں اڑے یا پانی پر چلے بلکه سالک کیلئے مرتے دم تک مامورات پر عمل کرنا اور محظورات کو چہوڑنا فرض هے . اور یہی وه حق ہے جس پر قران وسنت اور اجماع سلف دلالت کرتے هیں اور اس طرح کی نصیحتیں ان بزرگوں کی کلام بہت زیادہ هیں .(مجموع الفتاوى جلد 10 صفحه 516 ـ 517)

ابن تیمیهؒ کے نزدیک شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور شیخ جنید بغدادیؒ تصوف کے امام ہیں

آئمہ تصوف میں سے اور پہلے زمانے کے مشہور مشائخ میں سے جنید بغدادی اور ان کے پیروکارهیں اور شیخ عبد القادر جیلانی اور ان جیسے دیگر بزرگ یہ بزرگ امر ونہی کو سب سے زیاده لازم پکڑنے والے تہے اور لوگوں کو بهی اس کی وصیت کرتے تهے الخ-(مجموع الفتاوى جلد 8 ــ 369)
ابن تیمیهؒ فرماتےهیں که جنید بغدادیؒ اور ان جیسے دیگر شیوخ آئمہ هدی هیں اور جو اس بارے میں ان کی مخالفت کرے وه گمراه هے۔ (مجموع الفتاوى جلد 5 صــ 321)
اور اپنی کتاب اَلفرقان میں بهی شیخ الاسلام نے جنید بغدادی کو ائمہ هدی میں کہا۔ (الفرقان صفحه 98)
اورشیخ عبد القادر جیلانی کے بارے میں کہا که وه اتباع شریعت میں اپنے زمانه کے سب بڑے شیخ تهے.( مجموع الفتاوى جلد 10 صــ 884)
اور فرمایا که صوفیاء میں سے جو بہی شیخ جنید بغدادیؒ کے مسلک پر چلے گا وه هدایت ونجات وسعادت پائے گا۔
(مجموع الفتاوى جلد 14 ص 355)
ابن تیمیہؒ کے نزدیک علماء تصوف مشائخ اسلام اور ائمہء هدایت هیں۔ (مجموع الفتاوى جلد 2 ص 452)

فقیر افضل هے یا صوفی؟

شیخ الاسلام فرماتے هیں که اس بارے میں اختلاف هواهے که صوفی افضل هے یا فقیر ایک جماعت نے صوفی کو ترجیح دی جیسے ابوجعفر سهروردی وغیره نے اور ایک جماعت نے فقیر کو صوفی پر ترجیح دی اور تحقیقی بات یہ هے کہ جوان دونوں زیادہ متقی هے وه افضل ہے۔۔ الخ (مجموع الفتاوى جلد 11 ص 22)
شیخ الاسلام فرماتے هیں: صوفیاء کرام کے الفاظ و اصطلاحات ان کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا-(مجموع الفتاوى جلد 5 ص 79)

صوفیاء کے کلام کی تشریح

صوفیاء کے کلام کچہه عبارات ظاهری طور پر سمجھ میں نهیں آتی بلکہ بعض مرتبہ تو بهت غلط عبارت نظر آتی هے لیکن اس کو صحیح معنی پر حمل کیا جا سکتا هے۔ لہذا انصاف کا تقاضہ یہ هے کہ ان عبا رات سے صحیح معنی مراد لیا جائے جیسے فناء، شہود،اورکشف وغیرہ (مجموع الفتاوى جلد ص 337)

ابن تیمیہؒ کے نزدیک فناء کے اقسام

فناء کی تین 3 قسمیں هیں ایک قسم کاملین کی هے انبیاء اور اولیاء میں سے دوسری قسم هے قاصدین کی اولیاء وصالحین میں سے اور تیسری قسم هے منافقین وملحدین کی الخ شیخ نےاس کے بعد ان تینوں اقسام کی تعریف وتفصیل ذکر کی۔ دیکھئے . (مجموع الفتاوى جلد 10 ص 219)

صوفیہ کرام کی طرف لوگوں نے باطل عقائد بہی منسوب کئے هیں

شیخ الاسلام فرماتے هیں کہ اهل معرفت صوفیہ میں سے کسی ایک کا بهی یہ عقیده نهیں هے کہ الله تعالی اس میں یا اس کے علاوه دیگر مخلوقات میں حلول واتحاد کر گیاهے ، اور اگر بالفرض اس طرح بات ان اکابر شیوخ کے بارے میں نقل کی جائے تو اکثر اس میں جھوٹ هوتاہے ، جس کو اتحاد وحلول کے قا ئل گمراہ لوگوں نے ان صو فیہ کرام کی طرف منسوب کیاہے ، صوفیہ کرام اس قسم کے باطل عقائد سے بری هیں .. (مجموع الفتاوى جلد 11 ص 74 - 75)

صوفیہ کرام عقیدہ حلول سے بری ہیں

صوفیہ کرام جو امت کے نزدیک مشہور هیں وه اس امت سچے لوگ هیں وه حلول و اتحاد وغیرہ کا عقیده نهیں رکہتے بلکه لوگوں کو اس سے منع کرتے هیں اور اهل حلول کی رد میں صوفیہ کرام کا کلام موجودهے ، اور حلول کے عقیده کو ان نا فرمان یا فاسق یا کافر لوگوں نے اختیار کیا جنہوں نے صوفیہ کرام کے ساتھ مشابہت اختیارکی اور ظاہری طور پر ولایت کے دعوے کیئے الخ (مجموع الفتاوى جلد 15 ص 427)

صوفیہ کرام کفر سے بری ہیں

اگر ان لوگوں کی تکفیر کی جائے تو لازم آئے گا بہت سارے شافعی مالکی حنفی حنبلی اشعری اہل حدیث اهل تفسیر اور صوفیہ کی تکفیر، حالانکہ باتفاق مسلمین یہ سب لوگ کافر نهیں تھے .. (مجموع الفتاوى جلد 35 ص 101)

شیخ الاسلام کے شاگردِ رشید حافظ صوفی ابن القیمؒ کا کلام تصوف کے بارے میں علم تصوف بندوں کے اشرف وافضل علوم میں سے ہے علم توحید کے بعد اس سے زیاده اشرف کوئ نہیں ہے اور یہ علم تصوف شریف نفوس کے ساتهہ هی مناسبت رکہتا ہے.. (طريق الهجرتين ص 260-- 261)

صوفیہ کی اقسام

صوفیہ کی تین 3 قسمیں هیں۔ 1 صوفیہ اَرزاق ،2 صوفیہ رسوم ،3 اور صوفیہ حقائق
پهلے دو2 فریق جوهیں سنت وفقہ کا علم رکهنے والے لوگ ان کی بدعات کو جانتے هیں، اور جہاں تک تعلق صوفیہ حقائق کا تو صوفیہ حقائق وہ لوگ هیں جن کے سامنے فقهاء ومتکلمین کے سر جهکے هوئے هیں اور حقیقت میں صوفیہ حقائق هی علماء اور حکماء هیں .. (شرح منازل السائرين)

صوفیہ و فقراء کی اقسام ابن القیمؒ کے نزدیک

پهر ان کی دو قسمیں هیں۔ صوفیہ اور فقراء۔ پهر اس میں اختلاف هے کہ صوفیہ کو فقراء پر ترجیح هے یافقراء کو صوفیہ پریا دونوں برابر هیں ، اس بارے میں تین 3 اقوال هیں .
1 ایک جماعت نے صوفی کو ترجیح دی اور یہ اکثر اهل عراق کا قول هے اور صاحب کتاب ، العوارف ، کابهی یہی قول هے ، اور انهوں نے کها کہ فقیر کی جہاں انتهاء هوتی هے وهاں سے صوفی کی ابتدا هوتی هے ..
2 ایک جماعت نے فقیر کو ترجیح دی ، اور فقر کو تصوف کا لُب لباب اور ثمره قرار دیا اور اکثر اهل خراسان کاقول هے ..
3 اور ایک جماعت کی رائے یہ هے کہ فقر اور تصوف ایک هی چیز هے ، اور اهل شام کا قول هے ..
(مدارج السالكين ج 2 ص 368)

عارف باللہ کی تعریف

بعض سلف نے کہا که عارف کی نیند بیداری هوتی هے ، اس کے سانس تسبیح هوتی هے ، اور عارف کی نیند غافل کی نماز سے افضل هے۔عارف کی نیند بیداری کیوں هوتی هے؟ اس لیئے کہ اس کا دل زنده اور بیدار هوتاهے اور اس کی آنکهیں سوئی هوتی هیں اور اس کی روح عرش کے نیچے اپنے رب اور خالق کے سامنے سجده ریز هوتی هے جسم اس کا فرش پر هوتاهے اور دل اس کا عرش کے ارد گرد هوتا هے.. (مدارج السالكين ج 3 ص 335)
سبحا ن الله۔ عا رف کی یہ حالت وتعریف زندگی میں پهلی مرتبہ صوفی ابن القیمؒ کی کتا ب میں دیکهی ۰ فجزاه الله خیرالجزاء علی هذه الفوائد الرائعہصوفیہ کی عبارات و اصطلاحات کو جا ننا هر کس و نا کس کا کام نهیںصوفی ابن القیمؒ فرماتے هیں: خوب جان لو کہ صوفیہ کرام کی زبان میں جو استعارات هوتے هیں اتنے کسی اور جماعت کی زبان میں نهیں هیں ، عام بول کر خاص مراد لینا، لفظ بول کر اس کا اشاره وکنایہ مراد لینا حقیقی معنی مراد نہ لینا وغیره، اس لیئے صو فیہ کرام فرماتے هیں کہ هم اصحاب اشاره هیں اصحاب عباره نهیں هیں ، لهذا ایک جماعت نے ان صوفیہ کرام کی ظاهری عبارات کو لیا اور ان کو بدعتی و گمراه قرار دیا ، اور ایک جماعت نے ان عبارات و اشارات کے اصل روح ومغز ومقاصد کو دیکها اور ان کو صحیح قرار دیا ۰ (مدارج السالكين ج 3 ص 330)

صوفیہ کرام نے مجمل ومتشابہ الفاظ بول کر صحیح معانی مراد لیئے هیں لیکن جاهل لوگوں نے ان الفاظ کےسمجهنےمیں غلطی کی

خبردار هو کر خوب جان لو کہ صوفیہ کرام کی اصطلاح میں جو مجمل ومتشابہ الفاظ واقع هوئے هیں وه اصل آزمائش هے ، کم علم اور ضعیف معرفت والا آدمی جب وہ الفاظ سنتاهے، تو وه اس کو حلول اتحاد وشطحات سمجهہ لیتا هے ، حالانکہ صوفیہ عارفین نے اس قسم کے الفاظ بول کر فی نفسہ صحیح معانی مراد لیئے هیں، جاهل و ان پڑھ لوگوں نے ان کی صحیح مطلب ومراد سمجهنے میں غلطی کی ، اور صوفیہ کرام کو ملحد و کا فر قرار دیا . (مدارج السالكين ج 3 ص 151)

صوفی ابن القیمؒ کے نزدیک فناء کی تعریف

فناء کا لفظ جو صوفیہ کرام استعمال کرتےهیں ، اس کا مطلب یہ هے کہ بنده کی نظروں سے سب مخلوقات دور هو جائیں اور افق عدم میں غائب هو جائیں جیسا کہ پیدا هونے سے پهلے تهیں ، اور صرف حق تعالی کی ذات اس کی نظروں میں باقی رهے ،پهر تمام مشاهدات کی صورتیں بهی اس کی نظروں سے غائب هو جائیں ، پهر اس کا شهود بهی غائب هو جائے ،اور صرف حق تعالی کا مشاهده کرے . حقیقت اس کی یہ هے کہ هر وه چیز جو پهلے موجود نهیں تهی اس کی نظروں سے فناء هو جائے اور صرف حق تعالی عزوجل ولم یزل کی ذات عالی اس کی نظروں کے سامنے رهے ۰ اور خوب جان لو کہ اس فناء سے ان کی مراد یہ نهیں هے کہ الله تعالی کے سوا هر چیز کا وجود خارج میں حقیقتََا فناء هو جائے ،بلکہ مطلب یہ هے کہ اس بنده کے حِس اورنظروں سے یہ سب چیزیں غائب هو جائیں فقط۔ (مدارج السالكين ج 1)

علم لَدُنّی کی تعریف

علم لدنی عبودیت ، اتباع ،صدق مع الله ،اخلاص ،علوم نبوت حاصل کرنے میں کو شش ،اور الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی کامل اتباع کا ثمره هے ، ایسے بنده کیلیئے کتاب وسنت کی فهم کا خصوصی دروازه کهول دیا جاتاهے۔۔ الخ
(مدارج السالكين ج 2 ص 457)

فراست کی تعریف

فراست ایک نور هے جس کو الله تعالی بنده کے دل میں ڈالتا هے ، جس کے ذریعه سے بنده حق و باطل ، حالی و عاطل ، صادق و کاذب کے درمیان فرق کرتا هے الخ (مدارج السالكين ج 2 ص 483)
ابن تیمیہؒ تبرک کو جائز کہتےهیں اور اس کو امام احمد بن حنبل رح کی طرف منسو ب کرتے هیں فرمایاکہ امام احمد وغیره نے منبر نبوی اور رُمّانہ نبوی صلی الله علیه وسلم سے تبرک کو جائز قرار دیا ۰ اقتضاء الصراط المستقيم ابن تیمیہ رح قرآن اور آثار النبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتهہ تبرک کو جائز کهتے هیں اگرکوئی آدمی کسی برتن یا تختی پر کچهہ قرآن یا ذکر لکهہ دے اور اس کو پانی وغیره سے مٹاکر پی لے ، تو اس میں کوئ حرج نهیں هے ، امام احمد وغیره نے بهی اس بات کی تصریح کی هے ، اور ابن عباس رضی الله عنهما سے منقول هے که وه قرآن و ذکر کے کلمات لکهتے تهے اور بیمار لوگوں کو پلانے کا حکم کرتے تهے ، اس میں دلیل هے برکت کی ،اور وه پانی بهی بابرکت هے جس سے آپ صلی الله علیہ وسلم وضو فرمایا اور حضرت جابر رض پر چهڑک دیا کیوں کہ وه بیمار تهے ،اور سب صحابہ کرام رض اس سے تبرک حاصل کرتے تهے۔ (مجموع الفتاوى ج 12 ص 599)
ابن تیمیہؒ سُبحہ یعنی دانوں والی تسبیح استعمال کرنے کو جائز اور صحابہ کرامؓ  کا عمل بتلاتے هیں انگلیوں کے ساتهہ تسبیح شمار کرنا سنت هے ،اور کهجوروغیره کی گٹهلیوں اورکنکریوں وغیره کے ساتهہ بهی تسبیح پڑهنا جائزهے ،بعض صحابہؓ بهی اس طرح کرتے تهے ،اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے اُم المومنینؓ کو کنکریوں کے ساتهہ تسبیح پڑهتے دیکها تو آپ نے اس کی تائید کی منع نهیں کیا ،اور حضرت ابو هریرهؓ کے بارے میں روایت هے کہ وه بهی اس کے ساتهہ تسبیح پڑهتے تهے ،اور وه تسبیح جو دهاگے میں دانے وغیره ڈال کر بنائ جاتی هے ، بعض نے اس کو مکروه کها هے اوربعض نے مکروه نهیں کها۔ شیخ الاسلام فرماتے هیں کہ اگر نیت اچهی هو تویہ تسبیح یعنی دهاگے میں دانے وغیره ڈال کر جو بنائ جاتی هے یہ جائزهے مکروه نهیں هے .. (مجموع الفتاوى ج 22 ص 6)

ابن تیمیہؒ نماز میں بهی سُبحہ یعنی تسبیح استعمال کرنے کو جائز کهتے هیں

سوال ۰ ایک آدمی نمازمیں قرآن پڑهتاهے اور تسبیح کے ساتهہ شمار کرتا هے کیا اس کی نماز باطل هو گی یا نهیں ؟جواب ۰ اگر سوال سے مراد یہ هے که وه آیات شمار کرتاهے یا ایک هی سورت مثال کے طور قل هوالله احد کا تکرارشمار کرتاهے تسبیح کے ساتهہ تو یہ جائز هے اس میں کوئ حرج نهیں هے ، اور اگر سوال سے کچھ اور چیز مراد هو تو اس کو بیان کردیں ۰ والله اعلم۔ (مجموع الفتاوى ج 22 ص 625)

میت کے لیئے ایصا ل ثواب جا ئز هے

سوال۰ اگر میت کو تسبیح تحمید تهلیل تکبیر کا ثواب هدیہ کر دیاجائے تواس کو ثواب پہنچتا هے یا نهیں ؟
جواب ۰ میت کو اگر اس کے اهل وعیال وغیره تسبیح تکبیر اور تمام اذکا ر کا ثواب هدیہ کردیں تو وه اس کو پہنچ جاتاهے والله اعلم ۰ (مجموع الفتاوى ج 24 ص 324-321)۔

میت کیلئے کلمہ طیبہ 70 هزار مرتبہ پڑهنا جائز هے

سوال۰ کیامیت کیلئے کلمہ طیبہ 70 هزار مرتبہ پڑهہ کر اس کو بخش دیا جائے تو اس کو جہنم سے براءت حاصل هو جائے گی یہ حدیث صحیح هے یا نهیں ؟اور اگر اس کا ثواب میت کو بخش دے تو اس کو پہنچتا هے یا نهیں ؟ جواب ۰ اگر اس طرح 70 هزار دفعہ یا کم یا زیاده پڑهہ کر میت کو بخش دیا جئے تو اس کو ثواب پہنچتا هے اور الله تعالی میت کو اس سے نفع دیتے هیں ، باقی یہ حدیث نہ صحیح هے نہ ضعیف یعنی حدیث نهیں هے والله اعلم ۰ (مجموع الفتاوى ج 24 ص 324)

هر قسم کے نیک اعما ل کا ثواب میت کو پہنچتا هے

قرآن مجید کی تلاوت اور صدقہ وغیرها نیک اعمال کا جهاں تک تعلق هے تو علماء اهل سنت کا اس میں کوئ اختلاف نهیں کہ عبادات مالِیّہ جیسے صدقہ ، عتق وغیره کا ثواب اس کو پہنچتا هے ، جیسا کہ دعا اور استغفار اور نماز جنازه اور اس کے قبر کے پاس دعا کا ثواب بهی اس کو پہنچتاهے . هاں عبادات بدنِیّہ روزه نماز قراءت کی ثواب میں اختلاف هواهے ، لیکن صواب اور صحیح با ت یہ هے کہ تمام نیک اعما ل کا ثواب میت کو پہنچتا هے ، اور هر مسلمان کی طرف سے چاهے وه میت کا رشتہ دار هو یا غیر هو میت کو جو کچهہ بخشا جا تا هے میت کو اس سے نفع هو تا هے ، جیسا کہ اس پر نماز جنازه پڑهنے اور اس کے قبر کے پا س دعا کرنے سے اس کو نفع هوتا هے ۰۰ (مجموع الفتاوى ج 24 ص 367-366)

ابن تیمیہؒ اور با طنی علم

علم باطن قلوب کے ایمان و معارف واحوال کا علم هے اوروه علم هے با طنی ایمان کے حقائق کا اور یہ باطنی علم اسلام کے ظا هری اعمال سے افضل واشرف هے . (ألفرقان ص 82)

اور صوفیہ میں بعض حضرت علیؓ کو علم با طنی میں فضیلت دیتے ہیں۔ جیسا شیخ حربیؒ اوردیگر کا طریقہ هے اور یہ لوگ دعوی کرتے هیں کہ حضرت باطنی علوم کے سب سے بڑے عا لم هیں اور حضرت ابو بکر صدیقؓ ظاهری علوم کے سب سے بڑے عالم هیں ، اِن لوگوں کی رائے محققین و ائمہ صوفیہ سے مختلف هے ، کیونکہ محققین صوفیہ کا اتفاق هے کہ باطنی علوم کے سب بڑے عالم ابوبکر صدیقؓ هیں ، اور اهل سنت والجماعت کا اتفاق هے کہ ابوبکر صدیقؓ امت میں ظاهری وباطنی علوم کے سب سے بڑے عالم هیں اور اس کے اوپر ایک سے زائد علماء نے اجماع نقل کیا هے .. (مجموع الفتاوى ج 13 ص 237)

اولیاء کے کرامات و مکاشفات

فرماتے هیں کہ اهل سنت والجماعت کے اصول میں سے هے اولیاء الله کی کراما ت کی تصدیق کرنا اور جو کچهہ ان کے هاتهو ں پر خوارق عادات صادر هوتے هیں مختلف علوم ومکا شفات میں اور مختلف قدرت و تا ثیرات میں ان کی تصدیق کرنا۔ الخ (مجموع الفتاوى ج 3 ص 156)

شیخ الاسلام اور سماع موتی

سوال۰ کیا میت قبر میں کلام کرتاهے؟
جواب ۰ جی هاں میت قبر میں کلام کرتاهے ، اور جو اس سے با ت کرے تو سنتا بهی هے جیسا که صحیح حدیث میں هے، انهم یسمعون قرع نعالهم ، اور صحیح حدیث میں هے کہ میت سے قبر میں سوال کیا جاتا هے اور اس سے کها جاتا هے مَن ربُّک ؟ وما دینُک ؟ ومَن نبیُّکَ ؟ ۔۔ الخ (مجموع الفتاوى ج 4 ص 273)
کبهی میت کهڑا هوتا هے ، اور چلتا هے ، اور کلام بهی کرتا هے ،اور چیخ بهی مارتا هے ، اور کبهی مرده قبر سے با هر بهی دیکها جا تا هے۔۔ الخ (مجموع الفتاوى ج 5 ص 526)
شیخ الاسلام کے شا گرد ابن مُفلِحؒ فرماتے هیں کہ همارے شیخ یعنی ابن تیمیہ نے فرمایا کہ اس با رے میں بهت ساری احادیث آئ هیں کہ میت کے جو اهل وعیال و اصحاب دنیا میں هوتے هیں اُن کے احوال میت پر پیش هوتے هیں اور میت اس کو جانتا هے ،اور اس بارے میں بهی آثار آئ هیں کہ میت دیکهتا هے ، اور جو کچھ میت کے پاس هوتا هے اس کو وه جانتا هے ، اگر اچها کام هو تو اس پر میت خوش هوتا هے اور اگر برا کا م هو تو میت کو اذیت هو تی هے ۰ (كتا ب الفروع ج 2 ص 502)

موت کے بعد خواب میں شیخ الاسلام کا مشکل مسائل حل کر نا
ابن القیمؒ فرماتے هیں کہ مجهے ایک سے زیاده لوگوں نے بیان کیا جو کہ شیخ الاسلام کی طرف مائل بهی نهیں تهے ، انهوں نے شیخ الاسلام کو موت کے بعد خواب میں دیکها اور فرائض وغیره کے مشکل مسائل کے بارے میں سوال کیا تو شیخ الاسلام نے ان کو درست و صحیح جواب دیا ، اور یہ ایسا معاملہ هے کہ اِس کا انکار وُهی آدمی کرے گا جو کہ اَرواح کے احکام واعمال سے لوگوں سب سے بڑا جاهل هو ۰ (كتا ب الروح ص 69)
تنبیه: کتاب الروح ، ابن القیمؒ کی کتا ب هے۔ اس کتا ب میں ارواح واموات کے جو حالات وواقعات بیان هوئے هیں کسی اور کتاب میں اتنی تفصیل آپ کو نهیں ملے گی ، اور اس کتاب وه سب کچھ هے جس کی وجہ سے نام نہاد اهل حدیث اور سلفی دیگر علماءکو مشرک وبدعتی کهتے هیں ، اسی لیئے تو حید وسنت کے ان نام نهاد علمبرداروں نے جب اس کتاب کو دیکها تو اس کا انکار کر دیا اور کہا کہ یہ سلفیہ کے امام ابن القیمؒ کی کتاب نهیں هے بلکہ اُن کی طرف منسوب کی گئ هے ، حقائق کا انکارکرکے جاهل آدمی کو تو منوایا جا سکتا هے لیکن اهل علم کے نزدیک اس کی کوئ حیثیت نهیں ہے ، یہ کتاب درحقیقت ابن القیم رح هی کی هے۔
1 = جتنے بهی کبار علماء مثلا حافظ ابن حجر وغیره نے ابن القیم کا ترجمہ وسیرت ذکرکی هے سب نے ان کی تا لیفات میں ،کتاب الروح، کابهی ذکرکیاهے اور کسی نے بهی اس اعتراض نهیں کیا۔
2 = اورسب سے بڑھ کر یہ کہ خود ابن القیمؒ نے اپنی دیگر کتابوں میں ، کتاب الروح ، کا حوالہ دیا هے مثلا اپنی کتا ب ، جلاء الاَفهام ، باب نمبر 6 میں حضرت ابوهریرهؓ کی حدیث ، اذا خَرجت روحُ المومن۔۔ الخ،، پر کلام کرتے هوئے ابن القیمؒ نے کها کہ میں نے اِس حدیث اور اس جیسی دیگر احادیث پر تفصیلی کلام اپنی ، کتاب الروح، میں کیاهے ،اب اس کا کیا جواب هو گا؟
3 = حافظ ابن حجرؒ کے شاگرد علامہ بقاعیؒ نے بهی یہ شہادت دی کہ یہ ابن القیم کی کتاب هے اور انهوں نے اس کا خلاصہ بهی " سرُالروح" کے نام سے لکها
۰4 = ابن القیمؒ کتاب الروح میں جا بجا اپنے شیخ ابن تیمیہؒ اقوال وتحقیقات بهی ذکر کرتے هیں جیسا کہ اپنی دیگر کتابوں میں ان کی یهی عادت مالوفہ هے٠

ابن تیمیہؒ کا کشف اور لوح محفوظ پر اطلاع

ابن قیمؒ شیخ الاسلامؒ کی باطنی فراست کا تذکره کرتے هوئے فرماتے هیں کہ میں نے شیخ الاسلام کی فراست میں عجیب عجیب امور دیکهے اور جو میں نے مشا هده نهیں کیئے وه بهت بڑے هیں اور ان کی فراست کے واقعات کو جمع کرنے کیلئے ایک بڑا دفتر چا ئیے ،فرمایا کہ ابن تیمیہ رح نے ،،699 هجری ،، کے سال اپنے ساتهیوں کو خبر دی کہ ،ملک شام ، میں تاتاری داخل هوں گے اور مسلمانوں کے لشکرکو فتح ملے گی اور ، دِمَشق ، میں قتل عام اور قید وبند نهیں هو گا اور یہ خبر ابن تیمیہ رح نے تاتاریوں کی تحریک سے پهلے دی تهیپهر ابن تیمیہ رح نے لوگوں کو خبر دی ،،702 هجری ،، میں جب تاتا ریوں کی تحریک شروع هوئ اور انهوں نے ملکِ شام میں داخل هونے کا اراده کیا تو شیخ الاسلام نے فرمایا کہ تاتاریوں کو شکست و هزیمت هو گی اور مسلمانوں کو فتح ونصرت ملے گی اور شیخ الاسلام نے یہ بات قسم اٹها کر کهی ، کسی نے کها ان شاء الله بهی بولیں تو فرما یا ان شاء الله یقیناََ ۰ ابن القیمؒ فرماتے هیں کہ میں نے شیخ الاسلام سے سنا فرمایا کہ ، جب انهوں نے مجهہ پر بهت زیاده اصرار کیا تو میں نے کها کہ مجهہ پر زیاده اصرار نہ کرو الله تعالی نے ،،لوح محفوظ ،، پر لکهہ دیا هے کہ تاتاریوں کو اِس مرتبہ شکست هو گی اور فتح مسلمان لشکروں کی هو گی ، اور ایسا هی هوا۔۔۔ الخ۔۔ ابن القیمؒ فرماتے هیں کہ مجهے کئ مرتبہ ابن تیمیہ رح نے ایسے با طنی امور کی خبر دی جو میرے سا تهہ تهی میں نے صرف اراده کیا تها زبان سے نهیں بولا تها ، اور مجهے بعض ایسے بڑے واقعات کی بهی خبر دی جو مستقبل میں هونے والے تهے ، ان میں سے بعض تو میں نے دیکھ لیئے هیں باقی کا انتظار کر ها هوں ، اور جو کچهہ شیخ الا سلام کے بڑے اصحاب نے مشاهده کیا هے وه اُس سے دوگنا هے جو میں نے مشاهده کیا ۰۰(مدارج السا لكين ج 2 ص 490-489)

فائدہ

مدارج السالکین ، ابن القیمؒ کی کتاب هے اور یہ کتاب شرح هے کتا ب ، مَنازِلُ السا ئرین ،کی اور اس کتا ب کے مصنف کا نا م هے علامہ ابو اسماعیل عبدالله بن محمد الاَنصاری الهروی الحنبلی الصوفی اوران کی یہ کتاب علم تصوف اور مسائل تصوف پر مشتمل هے ،ابن القیمؒ نے اس کتا ب کی شرح ۳ جلدوں میں لکهی اور اس صوفی بزرگ کی بڑی تعریف کی اور اس صوفی عالم کو شیخ الاسلام کا لقب دیا اور جنت میں اُس کے ساتهہ جمع هو نے کی دعا کی اور اپنے آپ کو اس کا مُرید کہا۔۔ الخ۔ لهذا جو لوگ تصوف کو شرکت و بدعت اور صوفیہ کو مشرک کہتے هیں اُن کے اِن بکواسا ت سے ابن تیمیہؒ اور ابن القیمؒ کیسے محفوظ هوں گے؟ کیونکہ دونوں استاد شاگرد صوفی هیں اور شاگرد استاد سے بهی بڑا صوفی هے کما لا یخفی علی العلما ء

خواب میں الله تعالی کی زیا رت

شیخ الاسلام فرماتے هیں کہ جس نے خواب میں الله تعالی کو دیکها تو دیکهنے والا اپنی حالت کے مطا بق الله تعالی کو کسی صورت میں دیکهے گا ، اگر وه آدمی نیک هے تو الله تعالی کو اچهی صورت میں دیکهے گا ، اسی لیئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے الله تعالی کو خو بصورت اور بهترین صورت میں دیکها۰ (مجموع الفتا وى ج 5 ص 251)

شیخ الاسلام کا مخصوص وظیفہ مخصوص وقت میں

حافظ عمر بن علی اَلبَزّار شیخ الاسلام کے شاگرد هیں وه فرماتے هیں کہ میں نے شیخ الاسلام کی یہ عادت دیکهی کہ ، نماز فجر کے بعد بغیر ضرورت کوئ ان سے بات نهیں کرتا ذکر میں مشغول رهتے بعض دفعہ ان کے ساتهہ بیٹها هوا آدمی بهی اُن کا ذکر سنتا ، اور اس دوران کثرت سے آسمان کی طرف نظر پهیرتے تهے ، طلوع شمس تک ان کا یهی طریقہ هوتا تها ۰ اور میں جب ، دِمَشق ، میں مقیم تها تو دن و رات کا اکثر حصہ شیخ الاسلام کے ساتهہ گذرتا ، مجهے اپنے قریب بٹها تے تو اس وقت میں ان کا ذکر وتلاوت سنتا ، میں نے دیکها کہ وه تکرار کے ساتهہ سورت فاتحہ پڑهتے تهے اِس سارے وقت میں یعنی نمازفجر کے بعد سے لے کر طلوع شمس تک ۰ تومیں نے اس بات میں غور کیا کہ شیخ الاسلام نے صرف اسی سورت کا وظیفہ کیوں لازم پکڑاهے ؟ تو میرے اوپر ظاهر هوا والله اعلم کہ شیخ الاسلام کا اراده یہ تها اس کی تلاوت سے ان تمام فضائل کو جمع کرلے جو احادیث میں وارد هوئ هیں ، اوروه جو علماء نے ذکر کیاهے کہ ،کیا اس وقت میں مسنون اذکار کو تلاوت قرآن پر مقدم کرنا مستحب هے یا تلاوت کو اذکار پر ؟ تو شیخ الاسلام نے سورت فاتحہ کی تکرار کو اس وقت میں وظیفہ مقر ر کیا تاکہ دونوں اقوال کو جمع کرلیں اوریہ شیخ الاسلام کی کمال ذهانت اور پختہ بصیرت تهی ۰۰ (ألأعلام العليه فى مناقب ابن تيمية ج 1 ص 38)
یقینا شیخ الاسلام نے اس خاص وقت میں اپنے لیئے جو خاص وظیفہ مقر ر کیا تها وه اس طریقہ پر کسی حدیث سے ثا بت نهیں ، لهذا وه لوگ جو صوفیہ کرام کے اورد ووظائف کو بدعت و منکر کهتے هیں، شیخ الاسلام کے اس وظیفہ کو کیا کهیں گے؟؟

شیخ الاسلام کی کشف و کرامات

حافظ البزّارؒ اپنی اسی کتاب میں شیخ الاسلام کی کشف وکرامات کابهی ذکرکرتے هیں ، فرمایا بعض وه کرامات جن کا میں نے مشاهده کیا ، ان میں سے ایک یه هے که ، بعض علماء کے ساتهہ چند مسائل میں میرا اختلاف هو گیا اور اُن مسائل میں بحث و مباحثہ طویل هو گیا ، تو هم نے فیصلہ کیا کہ شیخ الاسلام کے پاس جاتے هیں جس قول کو وه ترجیح دے دیں اسی پر فیصلہ کرتے هیں ، اتنے میں شیخ الاسلام حاضر هوئے تو هم نے شیخ الاسلام سے سوال کرنے کا اراده کر لیا ، لیکن شیخ الاسلام همارے بولنے سے پهلے هی هم پر سبقت کر گئے ، اور اکثر وه مسائل جن میں همارا بحث و مبا حثہ هوا تها ، شیخ الاسلام نے ایک ایک مسئلہ ذکر کرنا شروع کر دیا ، ساتهہ هی علماء کے اقوال بهی ذکر کرتے پهر هر مسئلہ کو دلیل کے ساتهہ تر جیح دیتے ، یهاں تک کہ آخری مسئلہ ذکر کیا جس میں همارا اختلاف هوا تها ،اور هم نے جو شیخ الاسلام سے سوال پوچهنے کا اراده کیا تها وه بهی بیان کیا ، لهذ ا میں اور میرا ساتهی اور جو لوگ همارے ساتهہ حاضر تهے سب حیران ره گئے ، کہ کیسے شیخ الاسلام کو کشف هو گیا اور همارے دلوں میں جو کچهہ تها الله تعا لی نے اُن پر ظا هر کر دیا ۰۰ ؟؟؟؟ مزید کرامات کی تفصیل کے لیئے دیکهئے: (ألأعلام العلية ج1 ص 56)

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ صوفیہ کے قبرستان میں مدفون هیں

علامہ ابن عبد الهادی اَلمَقدَسی اپنی کتا ب میں شیخ الاسلام کی وفا ت کا تذکره کرتے هوئے فرماتے هیں کہ ، لوگوں نے تبرک حاصل کرنے کیلئے شیخ الاسلام کے نعش پر اپنے رومال اور پگڑیاں ڈال دی تهیں۔ اور جنازه شیخ الاسلام کے بهائ زین الدین عبد الرحمن نے پڑهایا ، اور شیخ الاسلام کو ،مَقبره صوفیہ ، میں اپنے بهائ شرف الدین عبد الله کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
(العقودالدُرّیہ فی سیرت ابن تیمیہ ج 1 ص 486)

گزارشات

تصوف اور اس سے متعلق چند اقوال میں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور ابن القیمؒ کی کتابوں سے مختصر طور پر با حوالہ ذکر کیئے هیں ، تا کہ وه لوگ جو ان دونوں بزرگوں کواپنا راہنما تسلیم کرتے هیں اور ان کی تعلیمات سے جاهل هیں ،ان کو نصیحت هو جائے اور اولیاء وصوفیہ کرام کو بُرا کہنے سے باز آ جائیں ، اور چند جاهل اور جهوٹے لوگوں کی پیروی میں اپنی آخر ت برباد نہ کریں ۰ اور اگر یہ لوگ اپنی اس غلط روش سے با ز نهیں آتے ، تو هماری درخواست هے کہ ، فضائل اعمال ، وغیره کتابوں کا اپریشن کے نا م سے چند جاهل لوگوں نے جو کتابیں لکهی هیں تو وه لو گ ایک کتا ب شیخ الاسلام کی ، مجموع الفتا وی ، اور ابن قیم کی کتاب ، مدارج السالکین ، کا اپریشن کے نا م سے ضرور لکهنے کی زحمت کریں ، کیونکہ جن امور کی وجہ سے ، فضائل اعمال ، وغیره کتابوں کا اپریشن کیا گیا هے وه سب کچھ بلکہ اس سے بهی بهت زیاده شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ابن القیم کی کتا بوں میں موجود هے۔ موضوع تو بہت طویل هے لیکن میں ،، وَلَديْنَا مَزِيْدْ ،، کہہ کراسی پر اکتفا کرتا هوں اور یہ بات ذہن میں رهے کہ همارے نزدیک ان مذکوره باتوں پر کوئی اشکال واعتراض نهیں هے ، بلکہ یہ ساری تفصیل ان لوگوں کی اصلاح و نصیحت وعبرت کیلیئے هے جو ان سب باتوں کو شرک وبدعت کہتے هیں۔ کیا مذکوره با تیں پڑهنے کے بعد شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور شیخ الاسلام ابن القیم کے متعلق بهی شرک وبدعت کا حکم صا در کریں گے؟؟ یا اپنی برُی اور مذموم روِش سے توبہ کریں گے؟؟
وصلی اللہ علی النبی الامی وعلی آلہ وصحبہ اجمعین

Labels:

Sunday, July 19, 2015

مقاصد اور ذرائع

طریقت یعنی تزکیہء نفس قرآن و حدیث سے علیحٰدہ کوئی شے نہیں ہے بلکہ درحقیقت شریعت کا ہی ایک جزو ہے۔ اور تصوف سے اصل مقصد تزکیہ نفس یا عام زبان میں کہہ لیجیے کہ نفس کی سرکشی دور کر کے اس کو قابو کرنا ہے.. اس میں کوئی ایک جزو بھی الحمدللہ شریعت سے متصادم نہیں ہے.. بلکہ ہر ایک کی اصل قرآن و حدیث میں موجود ہے... البتہ جن چیزوں کی حیثیت مقاصد کی نہیں بلکہ ذرائع کی سی ہیں، مثلا اشغال اور بعد کے زمانے کے مخصوص ریاضتیں وغیرہ... ان کی براہِ راست اصل شریعت میں نہ سہی، مگر ان کےٹھیک ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ شریعت سے متصادم بھی نہیں ہیں... وہ تجربے کی چیزیں ہیں... ان کی اس زمانے میں اچھی مثالیں مروجہ طریقے پر مدارس اور تبلیغی جماعت کا مخصوص نظم ہیں... جیسے لوگ کہتے ہیں کہ درسِ نظامی کی یہ تفصیل اور مدرسے کا مخصوص نظم اور اسی طرح چار ماہ، چلے کی پابندی اور جماعت میں نکل کر مخصوص اعمال کی پابندی کہاں لکھی ہوئی ہے؟ ...تو جو اس کا جواب ہے، وہی تصوف میں مقصد تک پہنچنے کے لیے ذرائع کا بھی ہے... مقصود منزل تک پہنچنا ہے، اس لیے ذرائع پر اصرارہمیں کیا، کسی کو بھی نہیں ہے... خوب غور سے نوٹ فرما لیں کہ:
ایک ہے کسی عمل کا شرعی حکم ہونا اور ایک ہے کسی عمل کا غیر شرعی نہ ہونا!
اگر کوئی عمل شریعت سے ثابت نہیں مگر غیر شرعی بھی نہیں تو وہ مباح ہے.. جو اگر اچھے کام کے لیے ہو تو ثواب کا باعث ہے... جناب طفیل ہاشمی صاحب نے ایک بحث میں بہت اچھی مثال دی کہ جس طرح انجکشن لگانے کے لیے اگر ڈاکٹر کو رگ نہ مل رہی ہو تو تھوڑی دیر کے لیے بینڈ باندھ دیا جاتا ہے تاکہ رگ نظر آ جائے اور انجکشن لگ سکے... بینڈ مقصود نہیں اور نہ ہر مریض کے لیے ضروری ہے... بالکل یہی حیثیت تصوف میں اشغال ومخصوص مجاہدوں کی ہے کہ کچھ ایسے طریقے اختیار کیے جائیں کہ نفس قابو میں آجائے... یہ طریقے مقاصد تصوف نہیں ہیں... ان کے بارے میں سنت وبدعت کی بحث خارج از موضوع ہے، بشرطیکہ یہ مباح طریقے ہوں!
ہم تو کہتے ہیں کہ صدیوں سے جاری ایک مفید سلسلہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے طریقے سے بہت مشابہ اور اقرب ہے اور ہزاروں بلکہ لاکھوں صالح لوگوں کا مشاہدہ اور تجربہ ہے، ہم جیسے عامی تو اسی کو فالو کررہے ہیں... البتہ آپ کو اگر اللہ صدی کا مجدد بنا دیں اور آپ پر کوئی نیا ذریعہ منزلِ مقصود تک پہنچنے کا کھول دیں تو ہمیں بھلا کیا اعتراض ...!
(تحریر: محمد فیصل شہزاد)

Labels:

Monday, June 29, 2015

کیا طریقت شریعت کے علاوہ کوئی شے ہے؟ (از : محمد فیصل شہزاد)

سلوک و احسان کے چشمہ صافی پر گزشتہ ایک صدی میں جاہل اور غالی صوفیاء کے تصرف کی وجہ سے غلط فہمی اور بدگمانی کی ایسی دبیز اور گرد آلود تہہ بیٹھی ہے کہ چودہ سو برسوں سے دین حنیف کا تزکیہ نفس کا یہ مسلمہ شعبہ، اب بحث و تمحیص کا میدان کارزار بن گیا ہے... جس کا عکس آج کل فیس بک پر بھی دیکھا جا سکتا ہے... دراصل ہوا یہ کہ دین کے اور شعبوں کی طرح اس شعبے میں بھی دو انتہا ئیں پیدا ہو گئیں جن کی وجہ سےغلط فہمیاں پیدا ہوئیں... دونوں کی سوچ ایک مگر نتیجہ مختلف رہا... ایک خشک علماء کا گروہ جو کہنے لگے کہ تصوف کوئی چیز نہیں، یہ سب واہیات ہے... بس نماز، روزہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے، اسی کو کرنا چاہیے، گویا ان کے نزدیک قرآن و حدیث تصوف سے خالی ہیں... دوسری انتہا پر جاہل صوفیاء کا گروہ تھا جو کہتے تھے کہ قرآن و حدیث میں تو محض ظاہری احکام ہیں جو حجاب ہیں ... تصوف ایک باطنی علم ہے جو شریعت سے بالکل علیحدہ کوئی چیز ہے اور وہی اصل مراد ہے... سو نعوذ باللہ قرآن و حدیث ہی کی ضرورت نہیں... یوں دونوں انتہا پسند گروہوں نے قرآن و حدیث کو سلوک و احسان المعروف تصوف سے خالی سمجھا... پھر اپنی اپنی رائے کے مطابق ایک نے تو تصوف کو چھوڑ دیااور یوں کمال دین سے محروم ہو گیا... اور ایک بدبخت گروہ نے قرآن و حدیث کو ہی چھوڑ دیا اور کفر اختیار کیا!
ان دونوں انتہاؤں کےدرمیان محققین علماء کرام تھے، جو درحقیقت وارث انبیاء ہیں... انہوں نے نہ صرف شریعت کے اس اہم جز کو تھامے رکھا، ہر غلط ور زائد شے سے اس کی صفائی فرماتے رہے...بلکہ اپنی مساعی سے یہ ثابت بھی کیا کہ سلوک و احسان کچھ شریعت سے متصادم نہیں بلکہ عین شریعت ہے... اسی کی تفصیل ہم ذیل کی سطور میں پیش کر رہے ہیں۔
سب سے پہلا اعتراض منکرین تصوف کا یہ ہوتا ہے کہ... تصوف کا نام یا مخصوص ترتیب حضو راکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں تھی...!
یہ نہایت سطحی اعتراضات ہیں... نام سے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں... لفظ تصوف سے آپ کو مسئلہ ہے تو طریقت یا سلوک و احسان کہہ لیجیے... اگر اس میں بھی پریشانی ہے تو کوئی بات نہیں... آپ تزکیہ نفس کہہ لیجیے اور اس پر آپ کوئی اعتراض نہیں کرسکتے کیوں کہ قرآن و حدیث لفظ تزکیہ سے بھرے پڑے ہیں!
اور جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ تصوف بطور علم حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں نہیں تھا تو میرے بھائی... حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو علم حدیث و اصول فقہ و علم کلام وغیرہ کچھ بھی جدا جدا نہ تھا... بلکہ تابعین اور تبع تابعین کے دور میں جب ہمتیں پہلی سی نہ رہیں... انفاس میں صحابہ کرام کی سی جامعیت نہ رہی... اسلام کی دور درازتک اشاعت ہونے کی وجہ سے نت نئے مسائل سامنے آنے لگے تو یہ ضرورت سمجھی گئی کہ شریعت جو تمام ظاہری و باطنی علوم و اعمال کا مجموعہ ہے، ان تمام پر جداگانہ محنت کی جائے...اس موقع پر یاد رہے کہ شروع میں لفظ "فقہ" شریعت کے ہم معنی استعمال ہوتا تھا... یعنی یہ صرف اعمال ظاہرہ سے متعلق نہیں تھا بلکہ اعمال ظاہرہ و باطنہ دونوں کو جامع تھا... خود امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے فقہ کی تعریف : معرفۃ النفس مالھا و ما علیھا (نفس کے نفع اور نقصان کی چیزوں کوپہچاننا) منقول ہے... بعد میں متاخرین کی اصطلاح میں لفظ "فقہ" کو انہوں نے شریعت کے اعمال ظاہرہ سے متعلق جزو کے لیے مخصوص کر دیا... جب کہ دوسرے جزو متعلق اعمال باطنہ کا نام "تصوف" ہو گیا...پس ثابت ہوا کہ یہ دونوں جز شریعت سے ہی متعلق ہیں... اور جو جاہل عوام میں یہ بات مشہور ہو گئی ہے کہ شریعت احکام ظاہرہ کو کہتے ہیں اور تصوف یا طریقت اعمال باطنہ کو... یہ تعبیر کسی طرح ٹھیک نہیں بلکہ شریعت جامع ہے فقہ (یعنی ظاہری اعمال سے متعلق احکام) اور طریقت ( یعنی باطنی اعمال سے متعلق احکام) کو!
اب جب قرآن و حدیث سے استنباط کر کے علوم نکالے گئےتو ہر ایک کا علیحدہ نام بھی تجویز ہوا... اور ان پر بنیادی محنت کرنے والوں کو سب نے امام مانا... امام اعظم ابو حنیفہ،امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ وغیرہ فقہ کے امام ... اوراسی طرح امام بخاری اور مسلم رحمہم اللہ اپنے تبحر فی الحدیث کی وجہ سے حدیث کے امام مانے گئے... اسی طرح تزکیہ باطن کی تعلیم دینے والے بزرگان دین مثلاً حضرت جنید بغدادی ، شیخ عبدالقادر جیلانی، خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی، خواجہ معین الدین چشتی، شیخ شہاب الدین سہروردی رحمہم اللہ وغیرہ کو سب نے ہی اس علم میں پیشوا مانا... اور وہ تصوف کے شیخ کہلائے...!
اب ہوا یوں کہ اپنے اپنے علمی میدان میں تو سب اسپیشلسٹ کہلائے مگر وہ ایک دوسرے سے مستغنی نہیں ہو گئے... کیوں کہ اسی طرح وہ پورے دین پرکامل چل سکتے تھے... سو ہم دیکھتے ہیں کہ تمام ائمہ تصوف ظاہری علوم میں کسی نہ کسی امام فقہ کی پیروی کرتے رہے اور کبھی اس سے باہر نہ ہوئے...اور اسی طرح تمام ائمہ فقہ اور ائمہ حدیث نے اپنے تمام علم و فضل کے باوجود تصوف کی لائن میں کسی نہ کسی شیخ سے بیعت رہے اور اجازت ملنے پر آگے بھی بیعت کرتے رہے!
اب اعمال ظاہرہ اور اعمال باطنہ کی تفصیل پیش کرتے ہیں... تا کہ معلوم ہو کہ یہ جو ہم بار بار "اعمال باطنہ" کہہ رہے ہیں، یہ کوئی باطنیہ تحریک کی طرح کسی خفیہ، پوشیدہ چیز یا سحرانگیز علوم و اعمال کا نام نہیں بلکہ کلام اللہ اور کلام رسول اللہ میں بیان کردہ صاف صاف احکام ہیں جن سے ہر خاص و عام خوب واقف ہے!
دیکھیے ظاہری بدن یا ظاہری چیزوں سے متعلق شریعت کے احکام کلمہ پڑھنا، نماز روزہ، حج زکوٰۃ، والدین کی خدمت اور تبلیغ و جہاد وغیرہ ہیں ان کو مامورات کہتے ہیں... اور اس کے برعکس کلمات کفر کہنا، شرکیہ افعال کرنا، زنا، چوری، سود خوری وغیرہ کو مناہی کہتے ہیں...جن سے بچنا ضروری ہے... بالکل اسی طرح بعض اعمال صالحہ ایسے ہیں جن کا تعلق باطن سے ہے... مثلاً ایمان و یقین، اخلاص، صبر و شکر، توکل، رضا بالقضاء اور محبت الٰہی و رسول وغیرہ...ان کو اوصاف حمیدہ یا فضائل کہتے ہیں اور اس کی ضد یعنی عقائد باطلہ،تکبر، ریا، ناشکری، بے صبری، حسد اور عجب وغیرہ یہ رذائل کہلاتے ہیں، جن سے شریعت نے منع کیا ہے!
اب دیکھیے جس طرح قرآن مجید میں امر کے صیغے کے ساتھ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیا کرو کے احکام موجود ہیں... تو بالکل اسی طرح امر کے صیغے کے ساتھ (یاایھا الذین امنو ااصبرو) اے ایمان والو! صبر کرو اور(واشکرو) یعنی اللہ کا شکر بجا لاؤ بھی تو موجود ہے... اگر ایک جگہ پر (قد افلح المومنون الذین ھم فی صلوتھم) ہے تو اس کے ساتھ ہی (خاشعون) بھی تو لگا ہوا ہے تو کیا وجہ ہے کہ جب صلوتھم سے نماز کے ظاہری رکن مطلوب سمجھے جاتے ہیں تو پھر (خاشعون) سے خشوع کو مطلوب کیوں نہیں سمجھا جاتا، حالاں کہ دونوں حکم ضروری ہیں!
اسی طرح جہاں (اذا قاموا الی الصلوٰ ۃ قاموا کسالیٰ) یعنی جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں (ظاہری عیب) مذکور ہے تو اس کے ساتھ ہی (یراءون الناس) یعنی لوگوں کو دکھلاتے ہیں (ریا باطنی عیب) بھی تو موجود ہے!
اگر ایک مقام پر روزہ اور حج فرض بتایا گیا ہے تو دوسرے مقام پر ( والذین امنو ا اشد حبا للہ)یعنی جو ایمان والے ہیں، وہ اللہ سے بہت محبت رکھتے ہیں) بھی تو بتایا گیا ہے... تو کیا ایمان والے محبت کے سوز و گداز سے خالی روزے رکھتے اور حج کرتے رہیں گے... اس محبت کی جوت اپنے دل میں جگانے کی کوشش محنت نہیں کریں گے...؟؟؟
تو ثابت ہوا کہ جس طرح اعمال ظاہرہ حکم خداوندی ہیں، اسی طرح اعمال باطنہ بھی حکم خداوندی ہیں... اور یہ دونوں اعمال ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم اور دائمی کامیابی کے لیے ضروری ہیں.. بلکہ ظاہری اعمال سے باطنی اعمال ایک درجہ اس لیے بڑھ کر ہیں کہ مثلا ایک مسلمان ساری زندگی ظاہری اعمال ، یعنی نماز، روزہ نہیں کرتا مگر انکار بھی نہیں کرتا تو وہ بہرحال مسلمان ہے مگر اگر وہ ایمان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے تو کتنے ہی ظاہری اعمال کر لے، کوئی فائدہ نہیں... اس تزکیہ نفس سے ہی متعلق اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے:قد افلح تزکھا......
"بے شک جس نے (نفس کو )صاف کیا، کامیاب رہا اور جس نے میلا کیا ناکام رہا۔"
اسی طرح دوسری جگہ یوم حشر کے متعلق ارشاد ہے: "اس دن مال اور اولاد کام نہ آئیں گے مگر جو شخص اللہ کے پاس سلامت قلب لے کر آیا!"
تو دیکھیے مدار نجات قلب کی درستی اور تزکیہ نفس پر ہی منحصر ہوئی... اور ہمیں اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ظاہر میں جتنے اعمال ہیں، وہ دراصل ایمان ہی کی تکمیل کے لیے ہیں اور ایمان کا محل تو ظاہر ہے کہ قلب (یعنی باطن) ہے... پس معلوم ہوا کہ اصل مقصود دل کی اصلاح ہے جو بمنزلہ بادشاہ کے ہے... اور اعضاء اس کی رعایا ہیں... بادشاہ درست ہو جائے تو رعایا خودبخود اس کی مطابقت کرنے لگتی ہے! 
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مشہور ارشاد تو سب نے ہی سنا ہو گا کہ 
"بے شک آدمی کے بدن میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے جب وہ درست ہو جاتا ہے تو تمام بدن درست ہو جاتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے تو تمام بدن تباہ ہوجاتا ہے، سن لو وہ دل ہے!"
تو سوچنے کی بات ہے کہ کیا حضور کا اشارہ اس حدیث میں دل کے ظاہری فنکشن کی طرف تھا یا قلب کی روحانی حیثیت اجاگر کرنا تھا؟
اسی طرح عموما ہم تقویٰ کوصرف ظاہری جوارح سے متعلق سمجھتے ہیں مگر مسلم کی ایک حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک نقل ہوا ہے: "تقویٰ یہاں ہے اور سینے کی طرف اشارہ فرمایا۔" (مسلم)
اب ان دو صفات یعنی ایمان اور تقویٰ سے متعلق اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مفہوم ملاحظہ فرمائیے:
آگاہ ہو جاؤ کہ بے شک اللہ کے اولیاء پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے لیےدنیا و آخرت کی زندگی میں بشارت ہے!
اس آیت میں ولایت کا مدار دو چیزوں یعنی ایمان اور تقویٰ پر فرمایا گیا ہے... اور سمجھ لیجیے کہ مثل نماز روزے کے یہ بھی فرض و واجب ہے اور یہ دونوں چیزیں اپنے کامل ہونے میں بغیر اصلاح باطن کے حاصل نہیں ہوتیں... کیوں کہ جیسا کہ پہلے عرض کیا، دونوں ہی کا تعلق باطن یعنی قلب سے ہے!
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اور مشہور ارشاد کو بیان کر کے قسط ختم کرتے ہیں۔فرمایا:
"احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے!"
معلوم ہوا کہ عقائد ضروریہ اور اعمال ظاہرہ کے علاوہ ایک اور چیز بھی ہے جسے حدیث میں "احسان" (یعنی حضوری) کہا گیا ہے اور جو طریق باطن میں سے ہے... اور چودہ سو سال سے لاکھوں معتبر آدمیوں کی شہادت موجود ہے کہ بغیر مخصوص طریق کے یہ نصیب نہیں ہوتی... بے شمار نیک روحوں کا مشاہدہ صدیوں سے ہے کہ اہل تصوف کے پاس بیٹھنے سے ایک نئی حالت اپنے قلب کی محسوس ہوتی ہے جو اس سے پہلے نہیں ہوتی... اور اس مبارک حالت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان کو طاعت سے طبعاً رغبت ہونے لگتی ہے اور معاصی سے نفرت...اس کی تائید میں بزرگوں کے کشف و کرامات بھی اس درجے منقول ہیں کہ جس کی انتہا نہیں اور یقیناً ان سب کا غلط ہونا محال ہے!
قسط کے آخر میں عرض ہے کہ یہ جو کچھ اوپر لکھا گیا، یہی تصوف کی اصل تعریف ہے اور یہی تصوف کا مقصود ہے... باقی جہاں تک مقامات کی بات ہے تو انہی اوصاف حمیدہ کے حصول یعنی "تحلیہ" اور اخلاق ذمیمہ کو دور کرنا (جسے تخلیہ بھی کہا جاتا ہے) کو ہی صوفیاء کی اصطلاح میں "مقامات" کہا جاتا ہے، یہ کوئی الگ بات نہیں... ان کے حصول کے لیے جو مجاہدات یا ریاضتیں کروائی جاتی ہے، اس کے بارے میں اگلی اقساط میں بات ہو گی ان شاء اللہ!
ان کے علاوہ دیگر کیفیات و احوال کی اصل بھی اگرچہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے مگر چونکہ ایک تو وہ مقصود نہیں، اور دوجے ان پر نجات کا دارومدار بھی نہیں بلکہ...
اگر یہ کہوں کہ کیفیات و احوال کی حیثیت تو بچے کو بہلانے والے کھلونوں سے زیادہ بھی نہیں تو غلط نہ ہو گا...اس لیے وہ کمال کا لازمہ تو کیا ہوتے، اس کے برعکس ان کا نہ ہونا کمال ہے کیوں کہ یہ مبتدی کو اور ضعفاء کو راہ آسان کرنے کے لیے عارضی طور پر دیے جاتے ہیں... اور چونکہ تمام اعتراضات انہی کیفیات و احوال پر ہی عموما وارد کیے جاتے ہیں اس لیے ان کو ہم اسی درجے میں رکھتے ہیں کہ اگر کسی کا دل ان سے مطمئن نہیں ہوتا تواپنی ذات کی حد تک انکار کردے... اس کا کوئی مسئلہ نہیں مگر... اس کی آڑ میں بزرگوں پر طعن نہ کرے کہ یہ بدبختی کی علامت ہے!
اب ناقدین تصوف سے گزارش ہے کہ بتائیں اس تفصیل میں کیا چیز شریعت پر اضافہ ہے؟
(تحریر : محمد فیصل شہزاد)

Labels: