Tuesday, July 28, 2015

قادیانیت، غامدیت اور تصوف (از: فرنود عالم)

’’قادیانیت ، غامدی صیب اور میرا تجزیہ‘‘
آ پ اپنے جملے کی ترکیب کو الٹ دیں۔ اور یہ آپ کو الٹنا ہی پڑے گی۔ کیوں۔؟ میں بتاتا ہوں
آپ نے کہا
’’غامدی صیب کا مدعا یہ ہے کہ چونکہ ابنِ عربی کو آپ چھوٹ دیتے ہیں لہذا غلام احمد قادیانی کو بھی چھوٹ دی جانی چاہیئے‘‘
میں کہتا ہوں
’’غامدی صیب کا مدعا یہ ہے کہ چونکہ غلام احمد قادیانی کیلئے کوئی چھوٹ نہیں ہے، لہذا ابنِ عربی کو بھی چھوٹ نہیں دی جانی چاہیئے‘‘
اب سنیں۔۔!!
جملے کی جو ترکیب آپ نے کی، اس کی تائید میں آپ صرف اپنے جذبات پیش کر رہے ہیں۔ اور آپ کے جذبات قابلِ رشک ہیں۔ جملے کی جو ترکیب میں نے باندھی ہے اس کی تائید میں غامدی صیب کا پورا لٹریچر بکھرا پڑا ہے۔
وہ کیا۔؟
وہ یہ کہ ۔۔!!!
’’جاوید احمد غامدی صیب کوئی بھی لگی لپٹی رکھے بغیر دو ٹوک اور بے غبار الفاظ میں تصوف کو شریعت کا متوازی ادارہ سمجھتے ہیں‘‘
بے محل نہیں ہوگا کہ اگر ایک بات برسبیلِ تذکرہ ہی سن لیں
آپ جانتے ہیں۔۔!!!
جاوید صیب کے والد گرامی ایک سکہ بند صوفی تھے۔ یہی وجہ رہی کہ جاوید صیب اول تصوف کی راہ پہ چلے اور جی جان سے چلے۔ تصوف کو پڑھا ہی نہیں، بلکہ تصوف ان پہ بیتا بھی ہے۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ بر صغیر میں تصوف پہ اور خاص طور سے وحدت الوجود کے مسئلے پہ سب سے مستند کتاب ’’عبقات‘‘ کو مانا گیا ہے۔ جاوید صیب شاہ اسما عیل شہید کی کتاب عبقات کے باقاعدہ استاد رہ چکے ہیں۔ اس کتاب سے متعلق میرا دعوی یہ ہے کہ درس نظامی کے اکثر فضلا اس کو حل کرنے کی دسترس نہیں رکھتے۔
آمدم بر سرِ مطلب۔۔!!!
تصوف سے اس قدر گہری وابستگی رکھنے والا شخص ایک دن اس نتیجے پہ پہنچا کہ تصوف کا ادارہ اپنے بنیادی اصولوں کے ساتھ سراسر شریعت کے متصادم ادارہ ہے۔ اب یہ سوال آپ جاوید صیب کی جناب میں لیکر جائیں گے، کہ صاحب آپ نے ایسی بات کیوں کہی۔؟ ظاہر ہے اس کا جواب جاوید صیب ہی دے سکتے ہیں نا؟ اب جو جواب وہاں سے ملے گا وہ کروڑوں الفاظ اور لاکھوں جملوں پہ مشتمل ہے، میں اسے سمیٹتا ہوں۔
بات یہ ہے کہ۔۔!!!
آپ تصوف کے ادارے میں کھڑے ہوکر خدا تک رسائی کے تین مدارج بیان کرتے ہیں۔ تیسرے درجے کے بعد آپ وحدت الوجود میں سما جا تے ہیں۔ یہاں سے آگے آپ کی روحانیت اس قدر ایکٹیویٹ ہو جاتی ہے کہ آپ براہ راست اسی مقام سے علم کشید کرتے ہیں، جہاں سے انبیا کو علم ملا کرتا تھا۔ اسی زعم میں ابنِ عربی نے ایک دن ایک بات کہی تھی
وہ کیا۔؟
وہ یہ کہ ۔۔!!!
’’اے انبیا و رُسل! تمہیں تو نبی ہونے کا صرف نام ملا، جو چیز ہمیں ملی ہے اس کی تو تمہیں ہوا بھی نہیں لگی‘‘
اب بات کیا ہے۔؟؟
بات یہ ہے کہ جاوید صیب کتابی علم سے ما وری ان تمام اصولوں کو بشمول ابن عربی جیسے صوفیا کے اقوال کے مسترد کرتے ہیں۔ جب مسترد کرتے ہیں، تو باری آتی ہے آپ کے بولنے کی۔ جونہی آپ کی باری آتی ہے، تو آپ ابن عربی اور تصوف کے تمام آئمہ کی اس سے بھی شدید اقوال کی تاویل کرتے ہیں۔ کر لی تاویل ۔؟ اب جاوید صیب آپ سے سوال گزار ہیں
کہ۔۔!!
’’ابن عربی اور دیگر صوفیا کو آپ کس اصول کی بنیاد پہ تاویل کا را ستہ دے رہے ہیں، جبکہ رسالت مآب ﷺ کی ذات والا صفات ہی وہ ہستی ہے جو دین میں کسی کمی و بیشی کا اختیار رکھتی ہے’’
پھر ایک بات اور۔!!!
’’جب آپ شریعت سے متصادم صوفیا کے اقوال کو تاویل کا جیک فراہم کر رہے ہیں، تو یہی جیک مرزا غلام احمد قادیانی کو کیوں فراہم نہیں کر دیتے’’
پھر اس پہ مزید ایک بات اور۔۔!!
’’جب مرزا غلام احمد قادیانی سے تاویل کا حق مکمل طور پہ چھین لیا گیا، تو کم و بیش وہی بات کہنے والے صوفیا سے وہی حق چھین کیوں نہیں لیتے‘‘
بات اصل میں ہے کیا۔؟؟
’’بات در اصل یہ ہے کہ نبوت کے اکثر دعوے تصوف کے سیکٹر سے وارد ہوئے۔ سوچنے کی بات ہے کہ تصوف کے ہی سیکٹر سے یہ دعوے وارد کیوں ہوتے ہیں۔؟ اس کی وجہ ہے کشف و الہام کے بیچ کی وہ کائنات، جو روحانی عیاشیوں سے مرحلہ وار جنم لیتی ہے‘‘
نہیں سمجھے۔؟؟؟
اک ذرا صبر۔ توجہ مرکوز رکھیئے، میں بات سمیٹ رہا ہوں
میں کہتا ہوں۔!!
’’وہی بات جو مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کے دعوے کے ساتھ کہی ، کم وبیش وہی بات اکثر صوفیا نے بغیر دعوے کی کہہ دی۔ تو اب کیا کیجیئے گا جناب۔ آپ چھوٹ دیدیں، میں بھی دیدیتا ہوں، تو کیا غامدی صیب بھی دیدیں۔؟ ان سے اصرار کیوں۔؟ نیت پہ شک ہی کیوں؟ بات کرو تو آپ کہتے ہیں، ہم چار گھنٹے کا لیکچر کیوں سنیں۔ یہ مکالمے کی کون سی قسم ہے بائے دی وے‘‘
کیا برا ہو، اگر برسبیل تذکرہ ایک بات اور سن لیں
کیا مرزا غلام احمد قادیانی ایک متبحر عالم دین نہیں تھے۔؟ 
کیا وہ ایک مستند صوفی نہیں تھے۔؟
اگر نہیں، تو پھر علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور علامہ اقبال ؒ کا پہلے پہل مرزا قادیانی سے متاثر ہونا چہ معنی دارد۔؟ 
جب آپ غلام احمد قادیانی کو ایک صوفی مان لیں گے تو آپ بات سننے کے روادار ہوجائیں گے۔ جب روادار ہوجائیں گے، تو میں آپ کے ہاتھ میں تصوف کا اوریجنل ٹیکسٹ تھما دوں گا۔ جب آپ پڑھ کر فارغ ہو جائیں گے، تو پھر میں آp سے ایک ایک بات کہوں گا جو پوری ہونے سے بھی پہلے آپ کو سوچنے پہ مجبور کر دے گی۔ کون سی بات؟
وہ یہ !!!
غامدی صیب کہتے ہیں، کہ تصوف کے مدارج کی منہ زور لہریں ہی تھیں ، جو مرزا غلام احمد قادیانی کو بے رحمی سے بہا کر لے گئیں۔ نتیجہ وہی نکلا جو نبوت و مہدیت کے دعوے کے بغیر تصوف کی کائنات میں ہمیشہ سے نکلتا آرہا ہے۔ آخر منصور حلاج نے بھی تو انالحق کا نعرہ لگایا اور زمین سے اٹھ کر سیدھا عرش معلی پہ خدا کی کرسی کے ساتھ اپنی کرسی لگا کر بیٹھ گئے تھے۔؟ میں پوچھوں گا کہ وہ سب کیا تھا۔؟ اب اس کے جواب میں آپ چار گھنٹے کی تاویل کریں گے۔ پھر مجھ سے اصرار کریں گے کہ میرے چار گھنٹے کی بات سنو تو بات سمجھ آئے گی، ورنہ تصوف کو سمجھنا تم جیسے مادہ پرست لوگوں کے بس کا روگ نہیں۔
حرفِ آخر۔۔!!!
ختم نبوت کے باب میں جس قدر شدت کے ساتھ نقطہ نظر غامدی صیب نے اختیار کیا، وہ اب تک کوئی اختیار نہیں کر سکا ہے۔
وہ کیسے۔؟
وہ ایسے کہ ۔!!
’’نبوت کے سیکٹر پہ شب خون مارنے کیلئے تمام تر فتووں اور رکا وٹوں کے باوجود ایک چور دروازہ اور چور کھڑکی رہ جاتی ہے۔ چوردر وازہ ’’ا لہام’’ ہے اور چور کھڑکی ’’کشف’’ ہے۔‘‘
اب سنیں۔۔!!!
’’ختم نبوت اور خاص طور سے قادیانیت کے ہی باب میں غامدی صیب کہتے ہیں کہ نبوت کے معاملے میں خدا کی کتاب انتہائی واضح اور انتہائی صریح ہے۔ جب قرآن نے نبی کو انبیا کی مہر قرار دے دیا تو میں کسی کے دعوائے نبوت کو ادنی درجے میں بھی کیسے تسلیم کر سکتا ہوں۔ میں تو روایتی مقدمے سے ایک قدم آگے بڑھ کر کہتا ہوں کہ اب زمین کا آسمان سے رابطے کیلئے کشف و الہام کا دروازہ بھی بند ہو چکا ہے۔ ‘‘
سوال۔۔!!!
’’کوئی ہے جو کوچہ رسالت کے تحفظ کیلئے اس آخری دروازے کو بھی سر بمہر کر سکے؟ کوئی ہے، تو ہاتھ اٹھائے‘‘
مجھے ایک بات بتائیں۔!!
’’جو کشف والہام جیسے کھڑ کی دروازے کو بھی بند کرنے پہ مصر ہے، آپ اس سے ایمان کی تصدیق چاہتے ہیں؟‘‘
آخری تجزیئے میں۔۔!!!
جاوید صیب کا مکالماتی اسلوب ہی کا نتیجہ ہے کہ، قادیانی پیروکار ہی نہیں بلکہ قادیانی مبلغین ، پروفیسرز اور پائے کے دانشور دبے قدموں اپنی راہ پہ واپس لوٹ آئے۔ میرے ایک سابق احمدی دوست، جو بہت عالم فاضل ہیں میرے پاس ایڈ ہیں (اجازات دیں تو نام افشاں کروں)، وہ کچھ برس قبل احمدیت کی بنیاد سمجھانے جاوید صیب کی جناب میں پہنچے۔ کچھ دن کے مکالمے کے نتیجے میں وہ اپنی احمدیت جاوید صیب کی جوتیوں میں چھوڑ کر چلے گئے۔ احمدیوں کی نمائندہ ویب سائٹ کا ایک وزٹ کیجیئے، اور وہاں دیکھیئے کہ غامدی صیب سے بڑھ کر بھی کیا وہ کسی کا تعاقب کر رہے ہیں۔؟
تو یوں ہے کہ۔!!
آپ انگشت بدنداں ہیں کہ جاوید صیب نے مرزا کو کافر کیوں نہیں کہا۔ اس کا جواب بھی ایک سوال میں پنہاں ہے۔
’’کیا جاوید صیب نے اہلِ تصوف کو کافر کہا‘‘
نہیں نا۔؟؟
تو پھر اہلِ تصوف جاوید صیب پہ کیوں خار کھائے بیٹھے ہیں۔؟ اسی لیئے قادیانی سیکٹر بھی انہی پہ خار کھائے بیٹھاہے۔۔ ایسا نہیں ہے؟
منیر نیازی نے کہا تھا
خیال جس کا تھا مجھےخیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
بس اپنے ہی سوالوں پہ ایک نگاہ کر لیجیئے۔۔!! دلی دور ہو سکتا ہے، جواب دور نہیں ہے۔ 
جو درست سمجھا، وہ کہہ دیا۔ حرف آکر کچھ نہیں۔ غلطی کا احتمال باقی۔ رہے بس نام خدا کا۔
(فرنود عالم)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جواب 1: 
مرزا قادیان کے دعوؤں کی بنیادیں صوفیاء کے کلام میں تلاش کرنے کا رجحان برصغیر میں علامہ اقبال (رح) کے یہاں تفصیل سے ملتا ہے۔ اقبال نے ابن عربی و مرزا قادیان کے عین اسی موازنے کو اٹھا کر اسکا جواب بھی دیا ہے جسے آج فیس بک پر گویا "کسی نئی تحقیق" کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اقبال کے اٹھائے گئے سوال کو تو لے لیا گیا مگر اس کے جواب سے سہو نظر کرلیا گیا۔ چنانچہ اقبال (رح) شیخ ابن عربی (رح) و مرزا قادیان کے فرق کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"صوفی محی الدین ابن عربی کی سند پر مزید دعوی کیا جاتا ھے کہ ایک مسلمان ولی کےلیے اپنے روحانی ارتقاء کے دوران اسطرح کا تجربہ حاصل کرنا ممکن ھے جو شعور نبوت سے مختص ھے. میرا ﺫاتی خیال ھے کہ شیخ کا یہ خیال نفسیاتی نقطہ نظر سے درست نھیں لیکن اگر اسکو صحیح فرض بھی کر لیا جائے تو تب بھی قادیانی استدلال شیخ کےموقف کی غلط فھمی پر مبنی ھے۔ شیخ ایسے تجربے کو ذاتی کمال تصور کرتے ھیں جس کی بنا پر کوئی ولی یہ اعلان نہیں کر سکتا کہ جو شخص اس پر اعتقاد نھیں رکھتا دائرہ اسلام سے خارج ھے. اس میں شک نہیں کہ شیخ کے نقطہ نظر سے ایک ھی زمانہ اور ملک میں ایک سے ذیادہ اولیاء موجود ہوسکتے ھیں. غور طلب امر یہ ہے کہ نفسیاتی نقطہ نظر سے ایک ولی کا شعور نبوت تک پہنچ جانا اگرچہ ممکن ہو، تاھم اسکا تجربہ سیاسی و اجتماعی حیثیت نھیں رکھتا، اور نہ ہی کسی نئی تنظیم کا مرکز بناتا ھے اور نہ ہی یہ استحقاق عطا کرتا ہے کہ وہ اس نئی تنظیم کو پیروان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان یا کفر کا معیار قرار دے۔ 
اس صوفیانہ نفسیات سے قطع نظر فتوحات کی متعلقہ عبارتوں کو پڑھنے کے بعد میرا یہ اعتقاد ھے کہ ہسپانیہ کا یہ عظیم الشان صوفی ختم نبوت پر اسی طرح مستحکم ایمان رکھتا تھا جس طرح ایک راسخ العقیدہ مسلمان رکھ سکتا ہے. اگر شیخ کو اپنے صوفیانہ کشف میں نظر آجاتا کہ ایک روز مشرق میں چند ہندوستانی جنہیں تصوف کا شوق ہے، شیخ کی صوفیانہ نفسیات کی آڑ میں پیغمبر اسلام ﷺ کی ختم نبوت کا انکار کر دیں گے تو یقینا علمائے ہند سے پہلے مسلمانانِ عالم کو خبردار کر دیتے"
اس پورے مضمون کا مطالعہ از حد ضروری ہے یہ سمجھنے کے لیے کہ صوفیانہ تجربات اور مرزا قادیانی کے دعوے میں کیا فرق ہے. اس سے بھی اہم کہ اگر احمدیت پر اس پہلو سے نقد کرنا ھے تو اسکا درست طریقہ کیا ھے. درست طریقہ یقینا یہ نھیں کہ نکلے تو تھے احمدیت پر نقد کرنے اور پوری تصوف کی عمارت اور ابن عربی کی شخصیت کو ڈھانے کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب کے دعوی نبوت پر بھی شکوک اٹھانے لگے.
(از: احمد علی کاظمی)

جواب 2: 
اگر صوفیاء کے کلام سے "نبیوں کا جنم لینا" ایسا ہی آسان ہوتا جیسا ہمارے یہ بھائی ہمیں سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں تو پچھلے ایک ہزار سال میں ہندوستان سے قادریوں، سہروردیوں، چشتیوں اور نقشبندیوں کے ایک نہیں بلکہ کئی ایک نبی برآمد ہوئے ہوتے اور وہ انہیں قادیان کی طرح اپنا نبی کہتے پھر رہے ہوتے، کیونکہ از روئے مفروضہ مخالف، صوفیوں کے ماننے والے تو جاہل و اندہی عقیدت کے مارے ہوتے ہیں۔ تو ان سلسلوں اور انکے "جاہل عقیدت مندوں" میں ایسے نبیوں کا ظہور کیوں نہ ہوا؟
بتایا جارہا ہے کہ جو اپروچ مرزا قادیان کو نبوت کی طرف لے جانے کا باعث بنی وہ صوفیانہ تھی۔ اسی اصول پر ذرا غور کریں تو معلوم ہوگا کہ جس اپروچ نے امت کے سب سے پہلے فتنے خوارج کو جنم دیا وہ "توحید کا بخار" تھا، وہ بھی عین قرآنی آیت پر مبنی۔ اب نتیجہ ایک جیسا نکالنا بھائیو۔
اگر ابن عربی و صوفیاء کا کلام بھی ویسا ہی ہوتا جیسا مزرا قادیان کا تو تاریخ میں ابن عربی کو بھی کسی معنی میں "نبی" ماننے والوں کا کچھ سراغ ملنا چاہئے تھا، انہیں شیخ اکبر ماننے والے کچھ نہ کچھ جیالے "غیر تشریعی نبی" ضرور کہتے مل جاتے۔ یہی وہ فرق ہے جو ہمارے یہ عزیز سمجھ نہیں پائے۔ قادیان کا مسئلہ ابن عربی و دیگر کی طرح نہیں، ابن عربی کو نبی کہنے اور سمجھنے والا کوئی پیدا نہیں ہوا، ابن عربی کے یھاں ولایت و نبوت کے مابین تعلق کے حوالے سے بس ایک "عمومی کلام" ہے، نہ "اپنی نبوت" کے حق میں دلائل اور نہ ہی کسی امت کی تعمیر کی دعوت۔ دوسری طرف "اپنی نبوت" کے دلائل و دعووں کا انبار ہے، اسکے مخالفین پر حکم کفر کا اجراء ہے، ان دعووں کو جوں کا توں ماننے والوں کی ایک فوج ہے۔ ان دونوں صورت حال کو ایک دوسرے پر کیسے قیاس کرلیا جائے؟ یہ قیاس نہیں سادہ لوحی ہوسکتی ہے۔
(از: زاہد مغل)

جواب 3: 
بات کو خوب گڈمڈ کیا۔۔ زبردست۔۔ میں غامدی صاحب کو تصوف کی فیلڈ میں انتہائی ناسمجھ مانتا ہوں۔۔ تفصیل میں جانے کا موقع نہیں اسلئے فی الوقت دومنٹ کیلئے تصوف کی تفصیلی بحث اور قادیانیت دونوں کو ایک سائیڈ پر رکھ دیں اور صرف ان جملوں کے متعلق اپنی رائے دیں:
1۔ کنجریوں کی اولادوں کے سواء سب میری دعوت کی تصدیق کرتے اور مجھے (نبی) مانتے ہیں۔ (آئینہء کمالات) -- ایسا قول صوفیاء سے ثابت کرسکتے ہیں؟
2۔ میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔ (نزول المسیح، حاشیہ) -- کیا کہیں گے؟
3۔ دشمن ہمارے بیانوں کے خنزیر ہوگئے اور انکی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں" (نجم الہدی) -- اور سناؤ۔۔
4۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس طرح میں قرآن کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ھوں اسی طرح اس کلام کو جو میرے اوپر نازل ہوا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں" (حقیقۃ الوحی) -- ہے کوئی تُک؟
5۔ مجھے اپنی وحی پر ویسا ہی یقین ہے جیسا تورات، انجیل اور قرآن پر (اربعین 4)-- چھڈو دادا جی۔۔
6۔ اس امت میں نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا، باقی کوئی اسکا مستحق نہیں" (حقیقۃ الوحی) -- اسے بھی صوفیاء کے کھاتے میں ڈال دیں پلیز۔۔
7۔ سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا (دافع البلا) -- کمال نئیں ہو گیا۔۔
8۔ قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا ای مرسل من اللہ۔۔۔ "اور کہہ دو کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔۔" (اشتہار معیار الاخیار ص 3 مجموعہ اشتہارات ج3 ص 270) -- بس یہی کمی رہ گئی تھی۔۔
شاید علامہ غامدی صاحب کی عقابی نگاہ سے یہ "تصوفاتی" اقوال اوجھل رہے ہوں۔۔ رابطہ کیجئے گا موصوف سے۔۔ اجازت چاہوں گا۔ :)
(از: محمد نعمان بخاری)

Labels:

Sunday, June 28, 2015

اعتراض -2 (از- قاری حنیف ڈار صاحب)

ابوبکر صدیقؓ سے سلسلے کا کوئی ثبوت ؟ حضرت علیؓ سے 3 سلاسل کا کوئی ثبوت ؟ باقی ساری کہانیاں انہی بے ثبوت باتوں پہ دھری ھوئی ھیں ، گویا پانی پہ محل بنایا ھوا ھے جس خدا نے عمر فاروقؓ کوجنت کی بشارت لسانِ نبوت سے دی ، 10 سال کی خلافتِ راشدہ اور 22 لاکھ مربع میل پر پھیلی ھوئی فتوحات عطا فرمائیں ، اس خدا نے ان کو صوفی نہیں بنایا تو انعام سے محروم رہ گئے ؟ عثمان غنیؓ کی جنت کی بشارت اور 12 سال کی خلافت اور فتوحات بھی محرومی میں تبدیل ھو گئے کیونکہ وہ بھی صوفی نہ بن سکے نہ صوفیت کے قابل سمجھے گئے ۔ 
تزکیہ و تصفیہ نبی ﷺ کا فرضِ منصبی تھا ،، صرف 2 صحابہ ھی یہ سند حاصل کر پائے اور آپ کے چوتھے درجے کے بزرگ سیکڑوں اور ھزاروں مرید اور سیکڑوں خلفائے مجاز لئے بیٹھے ھیں ،، گویا نتیجے کے لحاظ سے محمد مصطفی ﷺ ناکام ترین پیر ثابت ھوئے ( نعوذ اللہ ) جن کے صرف 2 خلیفہ مجاز بنے ،، جھوٹ کے پاؤں نہیں ھوتے ،، نہ آپ لوگ نبی ﷺ کے قول میں ان سلاسل کی کوئی دلیل پیش کر سکتے ھیں اور نہ ھی عمل میں اور نہ خود ان دو خلفائے راشدین سے ،، محمد نعمان بخاری صاحب بسم اللہ کیجئے اور ثبوت پیش کیجئے ،پیروں کے شجرہ طیبہ سے یہ سلسلے ثابت نہیں ھوتے اندھے بہرے مرید ھی ان پہ یقین رکھتے ھیں کتاب و سنت میں اس بارے میں کچھ نہیں ،، سات لطیفے ،، اور یہ تپسیا اور مصنوعی مجاھدے آخر خلفائے راشدین کے عمل سے کیسے ثابت کیئے جائیں گے ؟ وہ انسانوں میں رھتے تھے غاروں میں نہیں ،لفاظی آپ نے خوب کر لی ،، اور اس لفاظی کے کارپٹ میں اپنے دلائل کی کمزوری کو خوب لپیٹا ھے :)- پھر قطبوں اور غوثوں کے اختیارات کا پورا Administrative tree اللہ کی قسم ھندو دیوتاؤں کی شکتیوں کی کاپی کے سوا کچھ نہیں ،دینِ اسلام میں سب شکتیاں ایک ھی ذاتِ بے ھمتا کے ھاتھ میں ھیں ،، فسبحان الذی بیدہ ملکوت کل شئ ،، 12(مَا یَفْتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَۃٍ فَلَا مُمْسِکَ لَہَا وَمَا یُمْسِکْ فَلَا مُرْسِلَ لَہُ مِنْ بَعْدِہِ وَہُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ)[فاطر:٢- اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد -- اللھم انی عبدک وابن عبدک وابن امتک فی قبضتک ناصیتی بیدک ماضٍ فی حکمک عدل فی قضاءک ،، یہ عاجزیاں دیکھی ھیں میرے نبی ﷺ کی ؟ یہ نفعے اور نقصان کے اختیارات ، یہ دفع بلیات کی شکتیاں ، یہ ارزاق کے بندوبست ،، یہ سب طلسم قرآن کے 180 ڈگری خلاف ھے ،، سورہ انبیاء پڑھ کے بتایئے نبیوں میں کتنے قطب اور غوث تھے ،، درخت کے نیچے کھڑے اس موسی علیہ السلام کی فقیری دیکھئے جس کی شریعت میں ھزاروں نبی مبعوث ھوئے ،اور دوسری جانب اپنے غوثوں اور قطبوں کے خدائی اختیارات دیکھئے ، یہانتک کہ جس بستی میں کوئی مسلمان نہ ھو وھاں غیر مسلم قطب ھوتا ھے ( شریعت اور طریقت) :) ھائے رے تصوف کے خدا تو کتنا مجبور ھے کہ بستی چلانے کے لئے تجھے ھندو کرائے پہ لینا پڑا ،،، (قاری حنیف ڈار)
----------------------------------------------
جواب: (از: محمد نعمان بخاری)
تصوف کا انکار مختلف بہانوں اور تاویلوں سے کیا جاتا ہے۔۔ سب سے بڑی وجۂ انکار وہ نظریات ہیں جو جہلاء کی وجہ سے اہلِ تصوف کیساتھ نتھی کر دئیے گئے ہیں حالانکہ کسی صوفی سے یہ باتیں ثابت نہیں جن کو قاری حنیف صب نے زبردستی اہلِ تصوف سے منسوب کر دیا ہے،، اور یہی قاری صب کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ ۔دیکھئے: "پھر قطبوں اور غوثوں کے اختیارات کا پورا Administrative tree اللہ کی قسم ھندو دیوتاؤں کی شکتیوں کی کاپی کے سوا کچھ نہیں ،دینِ اسلام میں سب شکتیاں ایک ھی ذاتِ بے ھمتا کے ھاتھ میں ھیں ،،،، الخ "،، " یہ نفعے اور نقصان کے اختیارات ، یہ دفع بلیات کی شکتیاں ، یہ ارزاق کے بندوبست ،،، ور دوسری جانب اپنے غوثوں اور قطبوں کے خدائی اختیارات دیکھئے ، یہانتک کہ جس بستی میں کوئی مسلمان نہ ھو وھاں غیر مسلم قطب ھوتا ھے ( شریعت اور طریقت ) "۔۔۔۔۔
یہ سب وہ باتیں یہ جن کا کسی صحیح صوفی سے کوئی ثبوت نہیں بلکہ منکرینِ تصوف کے جہلاء کی وجہ سے گھڑے گئے اعتراضات ہیں جن کا جواب وہی دے سکتے ہیں جو ان من گھڑت نظریات کے حامل ہیں۔۔بقول مولانا احمد علی لاھوریؒ:'' یہ منکرینِ تصوف چور، ڈاکو اور راہزن ہیں جو دین کا ایک اہم جزو دین سے خارج کرنا چاہتے ہیں''۔۔امام حسن بصریؒ سے لیکرجنید بغدادیؒ ، شہاب الدین سہروردیؒ، بایزید بسطامیؒ، مولانا رومیؒ تک اورحضرت عبیداللہ احرارؒ، مولانا عبدالرحمٰن جامیؒ، خواجہ نقشبندؒ، شیخ سعدیؒ سے لے کر امام غزالیؒ، شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، سلطان باھوؒ، شیخ علی ہجویریؒ، بہاؤالدین زکریاؒ، فرید الدین عطارؒ، معین الدین چشتیؒ اور مجدد الف ثانیؒ تک اور دیگر ہزاروں اولیائے کرام کو بدعتی و جھوٹا کہنے کی بجائےیہ زیادہ مناسب ہے کہ منکرینِ تصوف کو انکو حال پہ چھوڑ دیا جائے کیونکہ انکی حیثیت نہ تو مجتہد کی ہے اور نہ ہی یہ منکرین لوگ علمائے حق اور صوفیہ محققین پر کسی طرح فوقیت رکھتے ہیں۔۔نیز اتنی بڑی جماعتِ صالحین کا کسی جھوٹ اور گمراہی پر متفق ہونا عقلاً محال ہے۔۔جو باتیں اہلِ تصوف نے کی ہی نہیں ہیں انکو زبردستی اور بِلا دلیل اہلِ تصوف کی طرف منسوب کرنا منکرین کا شیوہ ہے جسکی ہمیں قطعاً پرواہ نہیں۔۔ !
اب آتے ہیں انکے  اعتراضات کے جواب کی طرف:
1- ابوبکر صدیقؓ سے سلسلے کا کوئی ثبوت ؟ حضرت علیؓ سے 3 سلاسل کا کوئی ثبوت ؟
جواب: حصولِ فیض و کیفیات یا حصول برکاتِ نبویﷺ کیلئے صحبتِ نبوی ﷺ میں پہنچنا لازم تھاجو کہ دونوں شیوخ سے ثابت ہے۔۔ یہ حدیث مبارکہ تمام صحابہ کرام کے مستفید ہونے پر دلیل ہے۔۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا :' میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو ظرف علم کے محفوظ رکھے ہیں ،،ان میں سے ایک کو تو میں نے تم میں پھیلا دیا، دوسرے کو اگر پھیلاؤں تو میرا حلق کاٹ دیا جائے'۔۔(صحیح البخاری : کتاب العلم)۔۔۔۔۔۔۔ صحابی ایک ایسا منصب ہے جو باقی تمام مناصب پر حاوی ہے۔۔ جس طرح کسی صحابی کو الگ سے مفسر، محدث ، مجاہد ، فقیہ اور مجتہد کہنا عجب ہے، اسطرح کسی صحابی کو صوفی کہہ دینا عجیب ہے۔۔ (قرآن و حدیث سے لفظ مفسر، محدث وغیرہ کی دلیل پیش کیجئے)۔۔ تزکیہ و تصفیہ نبی ﷺ کا فرضِ منصبی تھا اورہر صحابی کے پاس کیفیاتِ قلبی موجود تھیں، جس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر صحابی کی صحبت میں پہنچنے والا بلا تخصیص علم و عمر منصبِ تابعی پہ فائز تھا۔۔یعنی ہر صحابی(بشمول حضرت عمر، حضرت عثمان رضی اللہ عنہم و غیرھما )میں برکاتِ نبوت ﷺ منتقل کرنے کی صلاحیت تھی اور لوگ مستفید ہوئے۔۔معروف صرف چار سلاسل ہی ہوئے۔۔اللہ شرحِ صدر دے تو دیکھا جا سکتا ہے کہ کونسا سلسلہ کہاں سے شروع ہوا۔۔ اب یہ خودساختہ اختراع کہ :'' گویا نتیجے کے لحاظ سے محمد مصطفی ﷺ ناکام ترین پیر ثابت ھوئے ( نعوذ اللہ ) جن کے صرف 2 خلیفہ مجاز بنے ''۔۔۔جناب،، لاعلمی کے پاؤں نہیں ہوتے ۔۔!
2- پیروں کے شجرہ طیبہ سے یہ سلسلے ثابت نہیں ھوتے اندھے بہرے مرید ھی ان پہ یقین رکھتے ھیں کتاب و سنت میں اس بارے میں کچھ نہیں ۔
جواب: کتاب و سنت کے احکامات سلاسلِ تصوف بننے سے پہلے کے ہیں۔۔ کیا کتاب و سنت سے دین کے دیگر شعبوں کے نام اور اصطلاحات ثابت کی جاسکتی ہیں؟ ہرچند کہ ان علوم کے اصول و کلیات موجود تھےمگر یہ شعبے بعد میں مدون ہوئے۔۔ صحابہ کی زندگی لفظ 'احسان' اور تزکیہ کا عملی نمونہ تھی، مگرکوئی صحابی صوفی اور علم الکلام کا ماہر وغیرہ مشہور نہ تھا۔۔جن لوگوں نے دین کے اس شعبۂ تزکیہ و تصوف کی خدمت کی اور اس کے حامل و مخصص قرار پائے، انکی زندگیاں زہد و تقویٰ، خلوص و سادگی کا عمدہ نمونہ تھیں اور انہی سے سلاسل کا احیاء ہوا۔۔جن کی آنکھیں تعصب اور لاعلمی کی وجہ سے بند ہیں، وہ اس پر یقین نہیں رکھتے۔۔!
3۔ سات لطیفے ،، اور یہ تپسیا اور مصنوعی مجاھدے آخر خلفائے راشدین کے عمل سے کیسے ثابت کیئے جائیں گے ؟ وہ انسانوں میں رھتے تھے غاروں میں نہیں۔
جواب: حدیثِ ابی محذرہؓ ملاحظہ ہو: 'پھر رسول اکرم ﷺ نے ابو محذرہ ؓکے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔۔ پھر آپﷺ اپنے ہاتھ کو اس کے چہرے پر لے گئے۔۔ پھر سینے پر (اور ایک روایت میں ہے کہ) اور اس کے جگر پر لے گئے۔۔ پھر آپ ﷺ کا ہاتھ انکی ناف تک پہنچا۔ پھر آپ ﷺ نے دعا دی کہ اللہ تجھے برکت دے۔ (ابنِ ماجہ: باب ترجیع الاذان)۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے ان مقامات کا متبرک ہونا ثابت ہو گیا۔۔فھو المقصود۔۔ جسم کے اعضائے رئیسہ(پھیپھڑے، گردے وغیرہ)پر کسی خلفائے راشد نے بحث نہیں کی مگر آپ انکو مانتے ہیں،، فقط سائنسی تحقیق کی وجہ سے۔۔ روح کے اعضائے رئیسہ (لطائف) کا بھی یہی حال ہے اور یہ اہلِ نظر کی تحقیق ہے جس کو ہم مانتے ہیں،، نہ صرف مانتے ہیں بلکہ اگر اللہ مشاہدہ نصیب کرے تو دیکھ بھی سکتے ہیں الحمدللہ،، جیسا کہ آپ مادی ذرائع (ایکسرے وغیرہ) سے جسمانی خفیہ اعضاء کا معائنہ کرتے ہیں۔۔! 
جسمانی ضروریات کیلئے تپسیا اور مصنوعی مجاہدے مثلاً اوور ٹائم وغیرہ کے تو آپ قائل ہیں کیونکہ جسمانی آسائش مقصود ہے،، مگر روحانی آسائش کیلئے اور روح کو اسکی خوراک پہنچانے کی نجانے ضرورت کیوں محسوس نہیں کی جاتی۔۔ رہا یہ سوال کہ اس مناسب مجاہدے (یہ فقط نفلی ذکر اذکار ہیں جو دن میں آدھ گھنٹہ بھی کافی ہیں،، ان سے ہماری عملی زندگی ہرگز متاثر نہیں ہوتی) کو صحابہ کرام نے کیوں نہ اپنایا؟؟ کوئی شے ڈائرکٹ سورج کے سامنے رکھ دی جائے تو اسے کندن کرنے کیلئے مزید کسی مشقت کی ضرورت نہیں رہتی کہ ماچس اور لکڑیاں ڈھونڈی جائیں یا گیس کا انتظام کیا جائے ۔۔ بعینہ جو کوئی بحالتِ ایمان نبی کریم ﷺ کی مبارک نگاہ میں آگیا،، وہ ہمیشہ کیلئے کندن ہو گیا اور بعد والے جس قدر تپسیا بھی کرلیں، انکے مقام کو نہیں پا سکتے۔۔ یہی پاور صحابہ کرامؓ ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ میں بھی تدریجاً موجود رہی جس سے تزکیہ ہو جاتا تھا، توایکسٹرا مجاہدے کی حاجت نہ تھی۔۔ہم میں وہ برکات ریسیو کرنے کی فریکونسی بُعدِ زمانہ اورظلمتِ حالات کی وجہ سے ناپید ہے۔۔ قلب سیاہ ہو چکے ہیں۔۔ روح کو اس فریکونسی پر ٹیون کرنے کیلئے اللہ کے ذکر اور توجۂ شیخ کے ضرورت ہے تاکہ یہ میل کچیل ختم ہو اور ہم بھی وہ برکاتِ نبوتﷺ حاصل کرنے کی کپیسٹی حاصل کرلیں۔۔آپکو آج مدارس کی اوردرسِ نظامی کی ضرورت ہے، حالانکہ سابقین میں اسکی حاجت نہ تھی۔۔ یہ میں کوئی غوری میزائل نہیں چھوڑ رہا، بلکہ الحمدللہ، اس عملِ تزکیہ کا عینی شاہد ہوں۔۔!
دیگر اعتراضات کا کمبائن جواب:
اولیاء اللہ کوئی عجیب مخلوق نہیں،، بلکہ قرآن مجید کے مطابق ہر مومن ولی اللہ ہے۔۔ یہ ولایتِ عامہ ہے جو ہر ایمان والے کو حاصل ہے۔۔جب ہم تصوف میں لفظ 'ولی اللہ' کی بات کرتے ہیں تو اسکا مطلب ہے کہ ہم اس خاص تعلق کی بات کرتے ہیں جو کسی کو کسباً اللہ سے نصیب ہوتا ہے۔۔ کوئی ولی پیدائشی ولی نہیں ہوتا (یہ انکے معتقدین نے بعد میں اپنی عقیدت کی بنا پر ان سے منسوب کر دیا ہے،، ویسے دیکھا جائے تو ہمیں ہمارے معاشرے میں کئی شریف النفس لوگ ملنا محال نہیں جو بچپن کے ماحولیاتی اثر کی وجہ سے صالح رہتے ہیں،، مگر ولایتِ خاصہ کیلئے کسب لازم ہے،، پھر اللہ کی عطا ہے)۔۔ نیز ہمارے پاس کسی کے ولی ہونے کی کوئی سند نہیں ہے،، بلکہ یہ فقط ہمارا حُسنِ ظن ہے،، کیونکہ بدگمانی حرام ہے۔۔ میں تو آپکو بھی ولی اللہ سمجھتا ہوں قاری صاب،، مگر یہ اللہ کو معلوم کہ آپ کس سٹیپ پر ہیں۔۔!
کسی شخص کو اپنے کشف پر کوئی اختیار حاصل نہیں ہے کہ کب کشف ہوگا اور کب نہیں ہوگا۔۔ مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھ لیجئے کہ ایک وقت میں انہیں آسمانوں و زمینوں کے راز دکھائے جارہے ہیں اور دوسرے لمحے انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ چھری کے نیچے بیٹا ذبح ہوا ہے یا دُنبہ۔۔ کشف کسی گمشدہ شے کو تلاشنے، قبروں میں جھانکنے، اور گزشتہ یا آئندہ واقعات کی خبر دینے کیلئے نہیں ہوتا ،بلکہ اللہ کریم کے اِسراروں کو سمجھنے اور اپنی ذاتی اصلاح میں معاون ہوتا ہے۔۔ گناہ کی ظلمت نظر آتی تو بندہ اس گناہ سے بچ جاتا ہے،، کسی رزق میں حرام کی تاریکی نظر آتی ہے تو بندہ اسے کھانے سے اجتناب کرلیتا ہے۔۔ کسی شخص کا انسانی روپ سے کسی اور روپ میں منتقل ہوجانا تصوف نہیں ہے،، بلکہ یہ متعصب ذہنوں کا اہلِ تصوف پر بہتان ہے۔۔ اگر کوئی ایسی حرکتیں کرے تو ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔۔ تصوف کا حاصل قربِ الہٰی، عبادات میں حد درجہ خلوص اور پیروئ سنت خیر الانام ﷺ ہے۔۔ویسے کیاآپ ایسی حرکات کا وقوع کسی ایک بھی صوفی سے ہونا (جن کے نام میں نے اوپر مینشن کئے ہیں) ثابت کرسکتے ہیں؟ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آپ مداریوں اور کرتب دکھانے والوں کو کسی 'خاص' وجہ سے حاملینِ تصوف سے ملانے کی ناکام کوشش میں ہیں،، مگر پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائیگا۔۔!
تاریخِ تصوف میں سےکسی ایک صوفی کا نام بتا دیجئے جس نے انسانی آبادی کو مستقل چھوڑ کر غاروں میں رہ کر تپسیا کیا ہو،، الاّ یہ کی کسی مولوی نے شہر میں اسے فسادی مشتہر کراکے سوئے جنگل مجبور کردیا ہو۔۔ ویسے بائی دا وے، نبی کریم ﷺ بھی غارِ حرا میں جایا کرتے تھے،، اور تب عبادات بھی فرض نہیں ہوئی تھیں۔۔ تحقیق کیجئے گا کہ آپﷺ وہاں بیٹھ کر کیا کرتے تھے؟
جناب، آپ حیلوں سے وہ کام متصوفین کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں جن سے وہ بری الذمہ ہیں۔۔میری سابقہ پوسٹ میں کئی سوالات آپکی راہ تک رہے ہیں جن سے آپ چشم پوشی کئے بیٹھے ہیں۔۔ چلیں اورکچھ نہیں،، باتوں کو ادھر اُدھر گھمانے کی بجائے صرف یہی بتا دیں کہ شعبۂ تصوف کو اپنانے کے بعد کس صوفی میں کون سے شرعی نقائص پیدا ہوئے اور اس نےقرآن وسنت سے دوری اختیار کرلی؟ محترم، ہم تو طریقت کو شریعت کے بغیر گمراہی سمجھتے ہیں،، آپ کا خدا جانے کہ کن لوگوں سے واسطہ رہا ہے جنہوں نے آپکو نقشبندیہ کی خلافت سونپ دی تھی اور اُس سلسلے میں یہ ساری خرافات موجود تھیں۔۔!!
(تاحال جواب ندارد،، فقط الزامات)

Labels:

اعتراض-1 (از: قاری حنیف ڈار صاحب)

نبئ کریم ﷺ کا لایا ھوا اللہ کا دین تمام نوعِ انسانیت کے لئے یکساں تھا ، اور یہ دین ظاھر و باھر تھا سینہ بسینہ نہیں تھا ،، جس نبئ ﷺ کے حجرے کے اندر کی زندگی اور نہانے کا طریقہ کار تک معلوم ھے ، اس نبی ﷺ پر یہ الزام رکھنا کہ وہ کوئی خاص تعلیم اپنے صرف دو صحابہ کو دے گئے تھے ،، جو صرف ان دونوں سے ھی آگے چلی ھے شاید چودہ صدیوں کا سب سے بڑا جھوٹ ھے ،، اسلام سیدھی سادی اور عملی تعلیمات کا دین ھے جو ایک مومن کو 24 گھنٹے کی روزمرہ زندگی کے بارے میں ھدایات دیتا ھے ،، نہ جبرائیل نے کچھ چھپایا کیونکہ رب انہیں امین کہہ رھا ھے ،، اور نہ ھی نبئ کریم ﷺ نے کچھ چھپایا کیونکہ اللہ ان کو بھی امین کہتا ھے ،،،،
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے تصوف کے سلسلے چلانا بہت بڑا فراڈ ھے ،، عشرہ مبشرہ میں سے باقی آٹھ روحانی خلافت میں فیل کیوں ھو گئے ؟ عمرؓ میں کیا خامی تھی کہ وہ نبئ پاک کے تصوف کے خلیفہ مجاز نہ بن پائے ؟ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو نبئ کریم ﷺ نے دو بیٹیاں دے دیں مگر خلعتِ خلافت نہ بخشی اور جن کو نبی ﷺ نے خلافتِ مجازی کے قابل نہ سمجھا ان کو مسلمانوں نے خلیفہ راشد کیسے بنا لیا،،، ؟ یہ سلسلے ایک چیستاں کے سوا کچھ نہیں ،تصوف بہت قدیم نفسیاتی علم ھے ،، سائیکومینٹری کہلاتا ھے ،ھندوؤں میں یوگا کہلاتا ھے اور وھی سات پاؤر پؤائنٹس ھندو یوگا میں بھی موجود ھیں جو ھمارے یہاں سات لطیفے کہلاتے ھیں ، وھی پاسِ انفاس ھندو یوگا کی تعلیم میں بھی موجود ھے ،، خواہ مخواہ صحابہ کو اس میں ملوث کرنے کی آخر ضرورت ھی کیا ھے ؟ ھم نے بھی اسے سیلف کنٹرول کے لئے ایک علم سمجھ کر سیکھا ھے ،،،
مگر ھمارے یہاں جس رسم میں علماء شامل ھو جاتے ھیں وہ فوراً دین بن جاتی ھے ،علماء نے باطنی علوم کے نام پہ اس علمِ یوگا کو سیکھ کر اسے دین بنایا اور فورا اس کا سلسلہ نسب جا حضرت علیؓ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ سے جا جوڑا ،، جس کی کوئی دلیل ان حضرات کے پاس نہیں ھے ، یہ زیاد ابن سمیہ کے ابوسفیانؓ سے منسوب کرنے کے فعل سے بھی بڑھ کر شنیع فعل ھے ،،۔ (قاری حنیف ڈار)
-----------------------------------------------------------
جواب: (از: محمد نعمان بخاری)
ہمیں غلط فہمیوں نے مار ڈالا،، ورنہ آدمی ہم بھی بڑے کام کے تھے۔۔کنارے پہ رہ کر اندازۂ طوفاں کیا جائے اورغوطہ غوروں کی بات کی پرواہ نہ کی جائے تو ایسے ہی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔۔میں نے تصوف پہ لیکچرز کیوں پیش کئے تھے؟ اس لئے کہ جن باتوں کو عوام نے پیشہ ورپیروں کی وجہ سے تصوف کا لازمہ سمجھ رکھا ہے اور انہی باتوں کی وجہ سے تصوف پہ تنقید کرتے ہیں،، انکی کج فہمیوں کا ازالہ کیا جائے۔۔اب آپ وہ مواد پڑھیں سمجھیں ہی ناں، تو اعتراض کی سوئی ایلفی سے ایک ہی جگہ چپکی رہے گی۔۔بہرحال، اعتراضات کا جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں۔!
1۔ حضرت علیؓ اور ابوبکر صدیق ؓ سے تصوف کے سلسلے چلانا بہت بڑا فراڈ ھے ،، عشرہ مبشرہ میں سے باقی آٹھ روحانی خلافت میں فیل کیوں ھو گئے ؟ عمرؓ میں کیا خامی تھی کہ وہ نبئ پاک کے تصوف کے خلیفہ مجاز نہ بن پائے ؟ عثمان غنی ؓ کو نبئ کریم ﷺ نے دو بیٹیاں دے دیں مگر خلعتِ خلافت نہ بخشی اور جن کو نبی ﷺ نے خلافتِ مجازی کے قابل نہ سمجھا ان کو مسلمانوں نے خلیفہ راشد کیسے بنا لیا،،، ؟
جواب:یہ تو سیدھا سیدھا عطائے الہٰی پر اعتراض ہے کہ اللہ نے فلاں کو یہ مقام کیوں بخشا اور فلاں کو کیوں نہ نصیب کیا۔۔ اس طرح کی سینکڑوں 'کیوئیں' آپ اخذ کر سکتے ہیں۔۔مثلاً سارے صحابہ جرنیل کیوں نہ بن سکے، کیا باقی نعوذ باللہ بزدل تھے؟ یا سارے تابعین و تبع تابعین امام ابوحنیفہؒ اور امام احمدؒ کیوں نہ بن سکے، کیا باقی نعوذ باللہ جاہل تھے؟ یا اگرمیں یہ کہوں کہ جناب رعایت اللہ فاروقی میں کیا خامی ہے کہ وہ ابوظہبی کی مسجد کا امام نہ بن سکے وغیرہ۔۔! ہر صحابی کے پاس کیفیاتِ قلبی موجود تھیں مگر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اس نے کس میں یہ کیفیات آگے ٹرانسفر کرنے کی کتنی صلاحیت رکھی۔۔ یہ علوم و کیفیات سینہ بہ سینہ منتقل ہوئے اور جسکے پاس نہیں ہیں، اسکو بھی قرآن و سنت سے راہنمائی لینے میں چنداں رکاوٹ نہیں ہے۔۔ اللہ شرحِ صدر دے تو دیکھا جا سکتا ہے کہ کونسا سلسلہ کہاں سے شروع ہوا۔۔ نیز سوائے نسبتِ اویسیہ کے، باقی سلاسل میں برکاتِ نبوت ﷺ کے حصول کیلئے صحبتِ شیخ شرط ہے، جیسا کہ صحابیت بارگاہِ رسالت پناہی میں حاضری سے مشروط تھی۔۔ کیا نظر تھی، جس نے مُردوں کو مسیحا کر دیا۔۔!
2۔ تصوف بہت قدیم نفسیاتی علم ھے ،، سائیکومینٹری کہلاتا ھے ،ھندوؤں میں یوگا کہلاتا ھے اور وھی سات پاور پوائنٹس ھندو یوگا میں بھی موجود ھیں جو ھمارے یہاں سات لطیفے کہلاتے ھیں ، وھی پاسِ انفاس ھندو یوگا کی تعلیم میں بھی موجود ھے ،، خواہ مخواہ صحابہ کو اس میں ملوث کرنے کی آخر ضرورت ھی کیا ھے ؟ 
جواب: تصوف نہ صرف ظاہری زندگی میں شرعی تبدیلی لاتا ہے بلکہ قلبی خواہشات کو بھی شرعی ضابطہ عطا کرتا ہے۔۔یہ اللہ کے نام اور اسکے ذکر کی برکات ہیں۔۔یہ برکاتِ نبوتؐ ہیں۔۔ یوگا میں کون سی ایسی' برکت' ہے جو انسان کو برائیوں سے روک دے اور کردار میں صالحیت پیدا کردے؟ کیا فقط نقشے اور تصویریں دیکھ لینے سے بندے کی عملی زندگی میں مثبت تبدیلی آجاتی ہے؟ یعنی ایک انسان کے افکار اور معمولات میں سنتِ نبوی ﷺ کی چھاپ لگ جاتی ہے اور اسے آپ یوگا سے تشبیہ دے رہے ہیں جسکا فنکشن فقط ذہنی اور جسمانی آسودگی فراہم کرناہے،، کمال ہے۔۔نیز یہ (سات نہیں) پانچ پوائنٹس روح کے وہ اعضائے رئیسہ ہیں جن سے یہ انواراتِ الہٰی کو جذب کرتی ہے اور اپنی غذا حاصل کرتی ہے۔۔ بتوفیقِ ربیّ دیکھا جا سکتا ہے۔۔! جو شخص انکو فقط Imagination اور DMT کا شاخسانہ سمجھتا ہے،، اسے جاننا چاہئے کہ کہیں اسکی نماز میں حلاوت ، ذکر میں جاذبیت اور تلاوتِ قرآن کی لطافت بھی اسی DMT اور نفسیاتی اثرات کا کیا دھرا نہ ہو۔۔ 
یہاں آپ یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ ہم ایک مخصوص طریقے سے ذکر کیوں کرتے ہیں؟اسلئے کہ ہر وہ طریقۂ ذکر جائز ہے جو حدودِ شرعی سے متجاوز نہ ہو۔۔ویسے کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ اُردو زبان میں نفل نماز پڑھنے کا شرعی جواز کیا ہے؟ وہی جواز ذکر پاس انفاس کیلئے بھی سمجھ لیجئے۔۔!
جہاں تک میں سمجھا ہوں، آپکا اصل اعتراض یہ ہے کہ صوفیاء کو مکاشفات کیوں ہوتے ہیں اور وہ لوگوں کی قبریں کیوں جھانکتے پھرتےہیں،، نیز کیا قطب/غوث لوگوں کی حاجت روائی کیلئے مقرر کئے جاتے ہیں؟
اس بارے میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں، مکرر عرض ہے کہ:
تصوف کے لئے کشف و کرامات شرط نہیں ہیں، نہ ہی دنیا کے کاروبار میں ترقی دلانے کا نام تصوف ہے۔
تعویذ گنڈوں کا نام تصوف نہیں ہے، نہ ہی جھاڑ پھونک سے بیماری دور کرنے کا نام تصوف ہے۔
مقدمات جیتنے کا نام تصوف نہیں ہے، نہ ہی قبروں پر سجدہ کرنے، ان پر چادریں چڑھانے اور چراغ جلانے کا نام تصوف ہے، اور نہ آنے والے واقعات کی خبر دینے کا نام تصوف ہے۔
اولیاء اللہ کو غیبی ندا کرنا تصوف نہیں ہے، نہ ہی انہیں مشکل کشا اور حاجت روا سمجھنا تصوف ہے۔ 
تصوف میں کشف و الہام کا صحیح اترنا لازمی نہیں ہے، نہ ہی وجد و تواجد اور رقص و سرور کا نام تصوف ہے۔
اس میں کوئی ٹھیکیداری نہیں ہے کہ پیر کی ایک توجہ سے مرید کی پوری اصلاح ہو جائے گی اور سلوک (تصوف) کی دولت بغیر مجاہدے اور بغیر اتباعِ سنت حاصل ہو جائے گی۔۔۔۔یہ سب چیزیں تصوف کا لازمہ بلکہ عین تصوف سمجھی جاتی ہیں۔۔ فی الحقیقت یہ ساری خرافات اسلامی تصوف کی عین ضد ہیں۔ ۔!
دین کی طرف راغب کرنے کیلئے تو انبیاء علیھم السلام بھی کشف و معجزات دکھاتے اور آنے والے واقعات کی خبر دیتے آئے ہیں۔۔ اسمیں کیا عجب ہے کہ نبی ﷺ کی پیروی کے راستے میں امتی کو کچھ دکھا دیا جائے یا اسکے ہاتھ پر محیر العقول بات (کرامت) صادر ہو۔۔ یہ کشف و کرامات وغیرہ ذیلی چیزیں ہیں اور صوفیاء کے نزدیک ان کھلونوں کی مانند ہیں جن سے بچوں کو بہلایا جاتا ہے کہ میاں اِدھر دیکھو، یہاں توجہ کرو۔۔ انہی کو اصل سمجھ کر اور انہی پر بھروسہ کر کے بیٹھ رہنا سفرِ ولایت و سلوک میں بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔۔بہرکیف، تصوف کا اصل موضوع قربِ الہی، عبادات میں حد درجہ خلوص اور پیروئ سنت خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔۔ صاحبِ حال افراد سے حاجت روائی اور مددطلب کرنا کسی تصوف کا حصہ تھا ،نہ ہے۔۔حصولِ فیض بہ توفیق اللہ دوسری شے ہے۔۔آپ کو حضرت خضر علیہ رحمہ کے علمِ لدنی کی جانکاری تو ہوگی،، یہ بتا دیجئے کہ حضرت موسی علیہ السلام کو بچے کو قتل کرنے اور سفینہ میں عیب ڈالنے کی حکمت کا علم کیوں نہ ہوا، جبکہ وہ وقت کے نبی تھے؟ اللہ کریم نے حضرت ابراہیمؑ کو ملکوت السمٰوات والارض کیونکر دکھا دئیے؟ نبی کریمﷺ کو اہلِ قبور کے احوال کا کیسے علم ہوا؟ اگر یہ سب کام معجزہ ہیں،، جو کہ سو فیصد عطائے ربانی ہے، تو کیا اُمتی کو بتوفیق الٰہی بطور کرامت اس میں سے حصہ نہیں مل سکتا؟کیا حضرت عمرؓ کی آواز بغیر اسکائپ کے حضرت ساریہؓ تک نہیں پہنچ سکتی؟ کل اگر صحابہ کرام کو میدانِ بدر میں فرشتے نظر آسکتے تھے تو آج اللہ دکھانے پر قادر نہیں ہے؟اللہ کی رحمت برسنا اور گناہوں کا جھڑنا صرف کتابی اور تخیلاتی باتیں ہیں یا تالیفِ قلب کیلئے مشاہدے کی بھی کوئی صورت ہے؟ اگر اللہ نے اسلاف کے بعد آج مجتہد بننے پر پابندی نہیں لگائی تو کیا ان مکاشفات پرٹیکس عائد کردیا ہے؟ اور وہ چشمِ قلب وا ہونا کیا ہوا؟ حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ میں نے قرآن حکیم حالتِ بیداری میں نبی کریم ﷺ سے سبقاً پڑھا ہے۔۔ اس پر ایک فتویٰ تو بنتا ہے۔۔ :)
لیکن یہ سب باتیں دین کا حصہ نہیں ہیں بلکہ از قسم انعام ہیں۔۔ان کے حصول کی جستجو کرنا ہرگز ہرگز تصوف نہیں ہے۔۔حاصل ہوبھی سکتی ہیں اور نہیں بھی،، اصل چیز دلِ زندہ پیدا کرنا ہے۔۔ شریعت تو صرف وہی ہے جس کے احکام آقا ﷺ نے ہمیں پہنچا دئیے،، ان کے علاوہ کوئی نیا حکم پیش کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔۔ دو واقعات عرض کرکے اجازت چاہوں گا۔۔
ہمارے ایک پیر بھائی ہوا کرتے تھے،، جو یہ تک بتا سکتے تھے کہ امام نے سری نماز میں کون سی سورہ تلاوت کی ہے۔۔ آپ اگر ان سے یہ استعداد چھین سکتے ہیں تو کوشش کرنے میں حرج نہیں۔۔ :)
حضرت شیخ المکرم (مولانا محمد اکرم اعوان مدظلہ) ایک مرتبہ اپنے شیخ کیساتھ سفر میں تھے،، انہوں نے اپنی پستول ایک ساتھی کو پکڑائی اور وضو کرنے لگے۔۔ جماعت کا وقت ہو گیا تو اس ساتھی نے پستول سمیت نماز ادا کی۔۔ بعد نماز،شیخ المکرم اپنے شیخؒ سے پوچھنے لگے؛ حضرت، آج اس ساتھی پر بنسبت ہمارے ،انوارات کی کثرت تھی، کیا وجہ ہے؟ حضرتؒ فرمانے لگے کہ کبھی نبی کریمﷺ اسلحے سمیت نماز بھی ادا فرمایا کرتے تھے۔ اس شخص پر ہم سے ایک سنت کی سبقت کی وجہ سے انوارات کی کثرت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ واقعات بطور نمونہ ہیں،، ورنہ یہ اسٹیٹس ایسی باتوں کا متحمل نہیں۔۔ وما توفیقی الا باللہ۔۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی ادنیٰ مسلمان بھی اللہ اور اسکے حبیب ﷺ کی ذاتِ گرامی پر اس طرح بےدھڑک جھوٹ بول سکتا ہے،، کہ آخر ہمیں اُسی مالک الملک کے حضور پیش ہونا ہے ۔۔ مزہ تو تب ہے کہ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ جناب، شعبۂ تصوف کو اپنانے کے بعد آپ میں فلاں فلاں شرعی نقائص پیدا ہوچکے ہیں اور اب آپ قرآن وسنت سے دور جارہے ہیں۔۔کیا خیال ہے۔۔؟
محرومِ تماشا کو -----پھر دیدۂ بینا دے
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے

Labels: