ایک صاحب کا کمنٹ پڑھا کہ اگر تصوف کی اصل سنت ہے تو یہ چلہ کشی اور لطائف وغیرہ کی باتیں سنت میں کہاں ہیں ؟
۔
حیرت تو اس پر تھی کہ وہ صاحب شاہ ولی اللہ دھلویؒ اور ان کے علمی وارثین سے گہرا لگاؤ بھی رکھتے تھے ۔
سوال پیدا ہوا کہ یہ صاحب جو سوال تصوف پر اٹھا رہے ہیں اور اس بنیاد پر اسے خلافِ سنت یا سنت سے باہر کی چیز سمجھ رہے ہیں تو کیا انہیں یہ اشکال صرف تصوف کے حوالے سے ہی پیدا ہوا ہے ؟
وہ اصولِ فقہ جس میں بے شمار اصطلاحات اور بے شمار مباحث ایسی ہیں جن کا سنت میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ مثلا...
بلاگ کا کھوجی
موضوعات
قارئین کی آمد و رفت
بلاگر حلقہ احباب
No copyrights by admin. Powered by Blogger.
موضوعات
- لیکچرز (22)
- میری دیگر تحاریر (16)
- علماء کی ابحاث (12)
- اہلِ علم کی پوسٹس (5)
- تصوف عین اسلام ہے (4)
- اعتراضات کے جوابات (3)
Saturday, August 4, 2018
Wednesday, June 20, 2018
ذکرِ قلبی خفی کا طریقہ
Tasawuf
12:38 AM
4
comments


بہت سے دوستوں کی طرف سے پوچھا جا رہا ہے کہ آپ جو ذکر کرتے ہیں اسکا طریقہ بتا دیں.. انباکس میں فرداً فرداً جواب تو دے دیا ہے مگر بہتر ہے کہ سب کے افادہ کیلئے یہاں بھی لکھ دیا جائے..!
۔
ہم جو ذکر کرتے ہیں اسے ذکرقلبی یا ذکرِ خفی کہا جاتا ہے.. احادیث مبارکہ کے مطابق یہ ذکرِ لسانی (زبانی) سے ستر گنا افضل ہے کیونکہ اسے فرشتے بھی نہیں سن سکتے.. صرف اللہ کریم کو پتہ ہوتا ہے کہ میرا بندہ مجھے یاد کررہا ہے.. اس ذکر کو کرنے کی اجازتِ عام ہے.. فوائدِ باطنی، اصلاحِ نفس، اطمینانِ قلب، نماز میں وساوس سے نجات...
Wednesday, December 13, 2017
صوفیاء کو کشف کیوں اور کیسے ہوتا ہے؟
Tasawuf
7:38 AM
0
comments


ویسے تو تصوفِ اسلامی پہ بیشمار سوالات کئے جاتے ہیں لیکن ایک اعتراض نما سوال جو اکثر و بیشتر سننے میں آتا ہے کہ "صوفیاء کو کشف و مشاہدہ اور وجدان کیوں ہوتا ہے؟"
اب اسکا بندہ کیا جواب دے۔۔ بھئی ہوتا ہے تو ہوتا ہے۔۔ آپ روک سکتے ہیں تو کوشش کرلیں۔۔ یا اللہ سے دعا کریں کہ وہ صوفیاء کے مکاشفات پہ کرفیو نافذ کر دے۔۔ کمال کرتے ہیں آپ۔۔ یہ اللہ کی عطا ہے، جسے چاہے نصیب کرے۔۔ ہم کون ہوتے ہیں اسے مشورے دینے والے۔۔ البتہ یہ سوال قابلِ اعتناء اور معقول لگتا ہے کہ "صوفیاء کو مکاشفات کیسے ہوتے ہیں؟"
ذکراللہ...
شیخ المکرم مولانا محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ کا یومِ وصال - ایک روداد
Tasawuf
7:13 AM
0
comments



یہ 2017ء کے آخری ماہ کی سات تاریخ تھی اور پہلی جمعرات۔۔ دل صبح سے ہی مضطرب تھا۔۔ ایک عجیب سا دھڑکا لگا تھا۔۔ میں موبائل دیکھتے دیکھتے سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے آفیشل پیج پہ جا پہنچا۔۔ حضرت جی مولانا محمد اکرم اعوانؒ کا تین تاریخ کا بیان اپلوڈ کیا گیا تھا۔۔ میں سننے بیٹھ گیا۔۔ بیان کیا تھا، بس پیغام تھا۔۔ کچھ بھی ہو جائے، کیسا بھی حال آئے، ہر لمحے دامانِ رسالت سے وابستہ رہنے کی نصیحت تھی۔۔ گویا اپنی زبان کو درود پاک کے تسلسل سے معطر رکھنے اور بدن کو مجسمِ درود بنانے کی وصیت تھی۔۔ میری چھٹی حس نے...
Friday, September 15, 2017
کشف، کرامت، الہام کی حقیقت
Tasawuf
12:45 AM
0
comments


یہ درست ہے کہ انسان کے اندر بہت سی پوشیدہ صلاحیتیں اور طاقتیں ایسی ہیں جن کا خود عموماً انسان کو علم یا یقین نہیں ہے اور جو مختلف ریاضتوں اور محنتوں سے حاصل ہوجاتی ہیں۔
مسمریزم، ہپناٹزم وغیرہ ایسی ہی طاقتوں کو حاصل یا ظاہر کرنے کی کوششیں ہیں.
تاہم وحی، کشف، الہام وغیرہ اس سے بالکل الگ اور مختلف چیزیں ہیں. ان چیزوں کا تعلق بندے اور اللہ جل شانہ کے تعلق کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ تعلق جب بہت قوی ہوتا ہے تو منجانب اللہ بندے کو یہ چیزیں بسا اوقات عطا ہوتی ہیں۔
اگر یہ تعلق نبوت کے مقام کا ہو تو...
Thursday, August 24, 2017
اسلامی اور غیراسلامی تصوف
Tasawuf
11:37 PM
0
comments


کوئی انسانی تحریک، خواہ وہ کتنی اچھی کیوں نہ ہو، جب افراط و تفریط اور عمل و ردعمل کا بازیچہ بنتی ہے تو اس کی شکل مسخ ہوئے بغیر نہیں رہتی۔۔ مثلا ہمارے متکلمین نے اسلام کو یونانی فلسفہ کی زد سے بچانے میں بڑی قابلِ قدر خدمات سرانجام دی ہیں،، لیکن آگے چل کر جب علمِ کلام کو شکوک و شبہات پیدا کرنے کا ذریعہ بنا لیا گیا تو یہی علمِ کلام مسلمانوں میں ذہنی انتشار برپا کرنے کا سبب بن گیا۔۔چنانچہ جوابا حضرات علمائے کرام نے علمی و نظری دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا۔۔!
یہی حال تصوفِ اسلامی کا بھی...
Sunday, August 21, 2016
صوفیاء کیسے ہوتے ہیں؟
Tasawuf
1:57 AM
0
comments


قریب سترہ برس ہو چلے کہ مجھے صوفیاء سے نسبت ہے.. میرے والد صاحب رحمہ اللہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ میں خلیفہ مجاز تھے.. جاننے والے جانتے ہیں کہ انکے شب و روز کس قدر نظم و ضبط میں مقید تھے.. بوقتِ تہجد جاگنے سے لیکر بعد از عشاء سونے تک کے اوقات میں مزاجِ شریعت کا بےحد لحاظ تھا.. نمازِ فجر سے قبل ذکرِ قلبی اور تلاوتِ قرآن، بعد فجر صبح کی سیر، بعد مغرب ذکرِ قلبی سفر وحضر میں انکے معمولات کا مستقل حصہ رہا.. اخبار کا گہرائی سے مطالعہ کرنا، سیاسی و ملکی حالات سے باخبر رہنا، ان پر تبصرہ کرنا، دنیاوی امور...